لاہور/اسلام آباد(16دسمبر 2020) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کو 31جنوری تک ہر صورت میں استعفیٰ دینا پڑے گا۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک تاریخ ہے۔ ہمارے کارکنوں نے جنرل ضیاءاور جنرل مشرف کے خلاف مذاحمت کی اور دونوں ڈکٹیٹروں کو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی عوامی رابطہ مہم بہت اچھی جا رہی ہے اور عمران خان کو 31جنوری تک استعفیٰ دینا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ 16دسمبر ہمیں سکوت ڈھاکہ اور آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم بچوں کی شہادت کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس ابھی تک ہمارے ذہنوں میں زندہ ہے اور یہ سلیکٹڈ حکومت غمزدہ خاندانوں کو انصاف دلانے میں قطعی طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ اسی نالائق، ناہل اور ناجائز حکومت کے دور میں سانحے اے پی ایس کا مجرم احسان اللہ احسان قید سے بھی فرار ہوگیا اور ملک سے بھی۔ یہ حکومت دہشتگردوں کو ریلیف دیتی ہے اور حزب مخالف کے سیاستدانوں، صحافیوں اور بلاگرز کو پابند سلاسل کرتی ہے۔ یہ حکومت غریبوں کو ریلیف دینے کے لئے کچھ نہیں کر رہی اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی روزمرہ اشیاءکی قیمتیں، بیروزگاری، بھوک اور غربت اس قوم کے غریب لوگوں کے اہم مسائل ہیں۔ پاکستان میں علاقائی طور پر افراط زر کی شرح سب سے زیادہ اور ترقی کی شرح سب سے کم ہے۔ ہماری معاشی حالت افغانستان سے بھی زیادہ خراب ہے۔ صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ شہباز شریف سے ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کرنے کے لئے جیل گئے تھے اور جب دو سیاستدان ملتے ہیں تو سیاسی باتیں بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے شہباز شریف سے حزب مخالف کے متعلق گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کے مقاصد کے اصول کے لئے سندھ حکومت کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایک ایسی حکمت عملی بنائے گی جس سے جمہوریت کو نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کو وارننگ دے دی ہے کہ وہ حکومت چھوڑ دیں ورنہ دما دم مست قلندر ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقارعلی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے مذاحمت اور مفاحمت دونوں طریقے اختیار کئے اور ہمیں بھی معلوم ہے کہ یہ دونوں ہتھیار کس طرح استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس کٹھ پتلی حکومت، کٹھ پتلی وزیراعظم، کٹھ پتلی اسپیکر اور کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سے کسی قسم کے ڈائیلاگ کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ عام غلط فہمی ہے کہ عدلیہ کی تحریک کا اختتام کسی ٹیلی فون کال کی وجہ سے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے لانگ مارچ سے قبل ہی پاکستان پیپلزپارٹی کے لیڈروں نے صدر زرداری کو اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ عدلیہ کو بحال کر دیا جائے اور بعد میں دوسرے لوگوں کی فیس سیونگ کے لئے ٹیلی فون کالیں کی گئی تھیں۔