اسلام آباد (23دسمبر 2020) پاکستان پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کے رکن سینیٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ سندھ کے ساتھ بڑے طویل عرصے سے ناانصافیاں ہو رہی ہیں اور سندھ کے باسی ان ناانصافیوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ سینیٹر تاج حیدر نے وفاقی حکومت کی جانب سے 2017ءمیں کی گئی مردم شماری کے نتائج کو تسلیم کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کے ماتحت وفاقی کابینہ نے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈروں کے معاہدے کو نظرانداز کرتے ہوئے 2017ءکی مردم شماری کے نتائج کی منظوری دے دی ہے۔ سینیٹ میں پارلیمانی لیڈروں نے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت مختلف آبادیوں کی پانچ فیصد میں دوبارہ مردم شماری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے پر پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر اعظم سواتی کے بھی دستخط موجود ہیں۔ ان معاہدوں میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ 2017ءکی مردم شماری 2018ءکے عام انتخابات کے لئے استعمال کی جائے گی۔ اب اس کے بعد پانچ فیصد علاقوں میں دوبارہ مردم شماری کرکے نتائج منظور کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2017ءمردم شماری میں جان بوجھ کر ایسا طریقہ استعمال کیا گیا کہ جن علاقوں میں دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے لوگ موجود ہیں انہیں نہیں گنا جائے گا۔ سندھ میں یہ طریقہ کار استعمال کیا گیا لیکن اسلام آباد میں جہاں 90فیصد شہری دیگر صوبوں اور علاقوں سے آئے ہوئے ہیں انہیں گنتی میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سندھ میں کی جانے والی مردم شماری نقائص سے بھرپور تھی۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم صرف کراچی میں دوبارہ مردم شماری کی بات کرتی رہی جبکہ حکومت میں شامل جی ڈی اے نے سندھ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی میں وفاقی حکومت کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہاکہ یونسیف کی جانب سے ایک سروے کے حساب سے سندھ میں ایک گھر میں اوسطاً 7.2افراد رہتے ہیں۔ سندھ میں گھروں کی تعداد 85610گھر ہے ان کو اگر 7.2سے ضرب دی جائے تو سندھ کی آبادی 6کروڑ 18لاکھ سے زیادہ بنتی ہے جبکہ 2017 کی مردم شماری میں سندھ کی آبادی کو 4کروڑ 78 لاکھ 86ہزار بتایا گیا ہے۔ اس طرح سندھ کی آبادی میں ایک کروڑ 39لاکھ 30ہزار 341 افراد کم کر دئیے گئے ہیں۔ یہ کمی سندھ کی آبادی میں 22.54فیصد کم دکھائی گئی ہے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ سندھ کے عوام یہ ناانصافی برداشت نہیں کریں گے۔