ٹھٹہ (03 جنوری 2021) پاکستان پیپلا پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ عوام دشمن حکومت چلی جائے تو اس کے بعد قومی سطح پر ڈائیلاگ بھی ایک آپشن ہو سکتا ہے، لیکن عمران خان فقبط اپنی کرسی بچانا چاہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹھٹہ میں وزیراعیٰ سندھ کے سابق مشیر مرحوم اعجاز شاہ شیرازی کے انتقال پر ان کے لواحقین سے تعزیت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈائیلاگ کے لیئے پلیٹفارم فقط پارلیمان ہی ہوسکتا ہے، لیکن اس سے قبل عوام دشمن وزیراعظم کو مستعفی ہونا ہوگا، تاکہ معاملات کے سیاسی حل نکالے جائیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسان، مزدور، سفید پوش طبقہ، طلبہ اور ڈاکٹرز سمیت ملک کا ہر طبقہ موجودہ حکومت سے تنگ آچکے ہیں، جو نہ اپنے بچوں کو اسکول بھیج پا رہے ہیں، نہ ان کے لیئے دوائیوں کا بندوبست کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو بوجھ فقط نااہل و نالائق وزیراعظم کی وجہ سے اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وزیراعظم کو چلا جانا چاہیے جو عوام کی تنخوہواں اور پنشنز میں اضافہ اور بجلی و گئس کے بلز خواہ مہنگائی میں کمی لا نہیں سکتا۔ عوام کو موقعہ ملنا چاہیئے کہ وہ ایک ایسے شخص کو منتخب کریں، جو ان کے مسائل حل کر سکے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے کنسٹرکشن مافیا کے لیئے مزید مراعات کے لیئے تو اعلان کر دیا ہے اور امیروں کے لیئے اربوں روپے کے بیل آوَٹ پیکجز بھی ہیں، لیکن غریب عوام کے لیئے وہ کچھ کرنے کے لیئے تیار نہیں۔ پی پی پی چیئرمین نے بلوچستان میں کوئلے کے کان کنوں کے وحشیانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت محنت کشوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کرے، جسے موجودہ حکومت مکمل طور پر بھول چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے موجودہ حکومت آئِی ہے، بڑے بڑے دہشتگردوں کو فرار ہوتے دیکھا ہے۔ اگر وزیر داخلہ اور وزیراعظم پی ڈی ایم کے خلاف شور مچانے کی بجائے، اپنی ذمیداریان نبھاتے تو اس طرح کے المناک واقعات پیش نہ آتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم متحد ہے۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ اپوزیشن اتحاد کے تمام فیصلوں کی توثیق کر چکی ہے۔ پی پی پی کی کامیابی پی ڈی ایم کی جیت ہے، اور پی ڈی ایم کی جیت عوام کی سربلندی ہے۔ ضمنی انتخابات ہوں یا دیگر معاملات، تمام فیصلے اتفاق راِئے سے کیئے جائیں گے۔ ہم عوام کی طاقت سے موجودہ کٹھ پتلی راج اور ہائبرڈ نظام کو ہٹا دیں گے۔ یہ کٹھ پتلی راج فقط اٹھارویں ترمیم، این ایف سی، بی آئی ایس پی جیسے اقدام کو نشانہ بنایا جاسکے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جزائر پر قبضے کے خلاف جدوجہد میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار صفِ اول کا رہا ہے، جس نے اس معاملے کو پی ڈی ایم کے پلیٹفارم سے بھی اٹھایا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے مزید کہا کہ سندھ اور بلوچستان کو سب سے زیادہ گئس پیدا کرنے کے باوجود انہیں پیداوار سے اپنا جائز حصہ نہیں مل رہا۔