اسلام آباد(13جنوری2021) پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے سندھ کے ہسپتالوں سے متعلق وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کو اٹھارہویں ترمیم پر حملہ قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ عمران نیازی حکومت تو اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال کو سنبھالنے سے قاصر ہے۔ پمز ہسپتال کے ملازمین سڑکوں پر آکر نالائق حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں این آئی سی بی ڈی ہسپتال سندھ حکومت نے تعمیر کیے ہیں جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ پنجاب ، خیبرپختونخواہ، بلوچستان سمیت ملک کے کونے کونے سے غریب اور نادار لوگ ان ہسپتالوں میں مفت علاج کرواتے ہیں۔ ان ہسپتالوں کو وفاق تحویل میں لے کر نہ صرف سندھ کو انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے بلکہ ملک بھر کے غریبوں سے مفت علاج کی سہولیات چھین کر ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ سندھ ہسپتالوں کے متعلق وفاقی حکومت کا نوٹیفکیشن غیرآئینی اور صوبوں کے معاملات میں مداخلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے سرکاری ہسپتالوں میں ویل چیئرز اور اسٹریچر کی بھی فی گھنٹے کے حساب سے کرایہ لیا جاتا ہے جبکہ سندھ کے ان بڑے ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو مفت سہولیات میسر ہیں۔ نیر حسین بخاری نے سلیکٹڈ وزیراعظم کو چیلنج کیا کہ سندھ این آئی سی بی ڈی جیسے ہسپتال اسلام آباد، کے پی اور پنجاب میں قائم کر کے دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ بخار، بلڈ پریشر، شوگر اور دل کی بیماریوں کے لئے ادویات مہنگی کرنے والی حکومت عوام سے مفت علاج کی سہولیات پر ڈاکہ ما ر رہی ہے۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ سندھ سے اس لئے انتقام لیا جا رہا ہے کہ اس نے کٹھ پتلی کے پاﺅں جمنے نہیں دئیے اس لئے ان کے وسائل پر ڈاکہ مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت عوام دشمن اور وفاق دشمن نوٹیفکیشن واپس لے۔