اسلام آباد/لاہور/کراچی(25 فروری2021) پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک وفد نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو نے بتایا کہ اس ملاقات میں سینیٹ انتخابات کے بارے تفصیلی غور و خوص کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیںپوری محنت کر رہی ہیں اور حال ہی میں چاروں صوبوں میں ضمنی انتخابات میں کامیاب ہوئی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سید یوسف رضا گیلانی پی ڈی ایم کے امیدوار ہیں اور انشااللہ ان کی جیت یہ ثابت کر دے گی کہ پارلیمنٹ بھی پی ڈی ایم کے ساتھ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سید یوسف رضا گیلانی نے بحیثیت وزیراعظم ہر پارٹی کے رکن کو عزت دی اور وہ ابھی بھی پارلیمنٹیرینز کو عزت دلوا رہے ہیں وہ اس طرح سے ان کے پی ڈی ایم کے امیدوار بن جانے کے بعد حکومت نے بھی اپنے اراکین کو اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ سلیکٹڈ ہر صوبے سے رجیکٹ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بری طرح ایکسپوز ہوگئی ہے کیونکہ پی ڈی ایم نے ضمنی انتخابات اور سینیٹ کے انتخابات کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا اور لانگ مارچ کا بھی فیصلہ اور دیگر فیصلے متفقہ طورپر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ اس کٹھ پتلی کو گھر بھیجا جائے اور ابھی ہم عدم اعتماد کے بارے نہیں سوچ رہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہم اسلام آباد کی سیٹ سے سینیٹ کا الیکشن لڑ رہے ہیں اور ہر رکن قومی اسمبلی سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ سارے اراکین اسمبلی کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ جمہوری امیدوار کو ووٹ دیں اور پی ٹی آئی ایم ایف کے امیدوار کو شکست دیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت عوام کے سامنے ایکسپوز ہوگئی ہے اور جب یہ سلیکٹڈ جائے گا تو اس کے ساتھ یہ سلیکٹڈ نظام بھی رخصت ہو جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ اور موجود قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو مسلسل جیل میں رکھنے کی مذمت کی۔ انہوں نے حمزہ شہباز کو ضمانت پر رہا ہونے پر مبارکباد بھی پیش کی۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے وفد سید یوسف رضا گیلانی، مخدوم احمد محمود، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور احمد اور حسن مرتضی شامل تھے۔