خبر آرکائیو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کچلاک کی مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کچلاک کی مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت اور اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں پی پی پی چیئرمین نے دھماکے کے شہداء کے ورثاء سے ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ عبادت گاہوں میں دھماکے قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے مائنڈسیٹ کو کچلنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل ضروری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتہاپسند قوتیں بزدلانہ ہتھکنڈوں سے قوم کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتیں۔

ڪراچي (16 آگسٽ 2019) پاڪستان پيپلز پارٽي جي چيئرمين بلاول ڀٽو زرداري ڪچلاڪ جي مسجد ۾ ٿيل ڌماڪي جي سخت لفظن ۾ مذمت ۽ ان جي نتيجي ۾ انساني حياتين جي نقصان تي افسوس جو اظهار ڪيو آهي. پنهنجي بيان ۾ پي پي پي چيئرمين ڌماڪي ۾ شهيد ٿيلن جي وارثن سان همدردي ۽ ايڪي جو اظهار ڪيو ۽ چيو ته عبادتگاهن ۾ ڌماڪا انتهائي مذمت جوڳو عمل آهي. هن چيو ته انتهاپسندي جي مائينڊسيٽ کي چيڀاٽڻ لاءِ نيشنل ايڪشن پلان تي عمل ضروري آهي. بلاول ڀٽو زرداري چيو ته انتهاپسند قوتون بزدلاڻين حرڪتن ذريعي قوم جي حوصلي کي هارائي نه ٿيون سگهن.

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی اکثریتی مسلمان آبادی اپنے غیرمسلم پاکستانی بہائیوں و بہنوں کی حقیقی محافظ، 1973ع کا دستوران کے حقوق کی ٹھوس ضمانت اور پاکستان پیپلز پارٹی ان کی امنگوں کی واحد ترجمان و وکیل ہے۔

کراچی (10 اگست 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی اکثریتی مسلمان آبادی اپنے غیرمسلم پاکستانی بہائیوں و بہنوں کی حقیقی محافظ، 1973ع کا دستوران کے حقوق کی ٹھوس ضمانت اور پاکستان پیپلز پارٹی ان کی امنگوں کی واحد ترجمان و وکیل ہے۔

اقلیتوں کے قومی دن کے موقعے پر جاری کردہ اپنے بیان میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سفید رنگ کے بغیر پاکستان کا وہ سبز ہلالی پرچم مکمل نہیں ہوسکتا، جس کی توثیق بابائے قوم محمد علی جناح نے کی تھی۔ یہ پرچم ہمارے اعلیٰ معاشرتی اقدار، انسانیت پرور نظریاتی بنیاد اور قومی اتحاد کا اعلامیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اقلیتی برادری کے حقوق و ترقی کو ہمیشہ ایک قومی فریضہ گردانتے ہوئے امتیازی برتاوَ کے خاتمے و قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی خاطر قانونساز و حکومتی اداروں میں ان کی بھرپور نمائندگی اور یکساں مواقع کو یقینی بنانے کے لیئے اقدامات اٹھائے ہیں۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہ فقط ہماری جماعت کا طرہ امتیاز ہے کہ سینیٹ سے لے کر صوبائی اسیمبلیوں تک اقلیتی رہنماوَں کو جنرل نشستوں پر منتخب ہونے اور انہیں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیئے میدان میسر کیا ہے۔ یہ بھی پوری قوم کے لیئے قابلِ فخر ہے کہ پسماندہ طبقات کا پسمنظر رکھنے والی مذکورہ قیادت کی اکثریت پُراعتماد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو قومی ہم آہنگی و ترقی کی جدوجہد میں اب علمبرداری کا کردار نبھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف شہید ذوالفقار علی بھٹو نے متفقہ آئین کے ذریعے سرزمین پاک سے وہ تمام امتیازی لکیریں مٹادیں، جو نفاق و خلفشار کا سبب بن سکتی تھیں، تو دوسری طرف شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دورِ وزارتِ اعظمیٰ کے دوران وزارتِ برائے اقلیتی امور قائم کرکے غیرمسلم شہریوں کو درپیش مسائل کے جلد حل اور پیشرفت کے لیئے نئے دروازے کھول دیئے۔ صدر آصف علی زرداری کی زیرِقیادت عوامی حکومت نے ہر سال 11 اگست کو اقلیتوں کا قومی دن منانے کا فیصلہ کر کے قائداعظم کے اعلان کردہ اقلیتوں کے لیئے مساوی حقوق کو چوری ہونے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے محفوظ کردیا۔ اس پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی پی پی ملک کی وہ واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف اقلیت سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ دیے جس میں دو سینیٹرز، ایک ایم این اے، دو ایم پی ایز جبکہ چئیرمین و وائس چئیرمین اور ٹاون کمیٹیوں میں بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والے منتخب کارکنان کی تعداد درجن کے قریب ہے-

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی اقلیتی آبادی کی فلاح و بھبود کے لیئے اٹھائے گئے مذکورہ بالا چند و دیگر بیشمار اقدامات کے نتیجے میں “بانٹو، لڑاوَ اور راج کرو” کی دقیانوس سوچ کی پیروی کرنے والے دائیں بازو و اسٹیٹسکو کے حامی عناصر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی اور کی قیادت کے خلاف جاری انتقامی جنگ کو سمجھنا راکٹ سائنس نہیں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غیرمسلم پاکستانی شہریوں کے یکساں حقوق کی حفاظت کی لڑائی درحقیقت قائداعظم کے ںطریات کے مطابق مساوات پر قائم جمہوری پاکستان بنانے کی جدوجہد کا اہم جُز ہے اور کوئی بھی ذی شعور پاکستانی اس جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کا تصور ہی نہیں کرسکتا۔ لحاظہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس اس جدوجہد کو بارآور کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔

سابقابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے آل پاکستان حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں ملاقات کی۔

سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول 
بھٹو زرداری سے آل پاکستان حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام 
آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں آل پاکستان حریت کانفرنس کے 
کنوینر سید فیض نقشبندی اور سید عبداللہ گیلانی نے وفد کی قیادت کی۔ وفد 
میں محمود احمد ساغر، فاروق رحمانی، یوسف نسیم حسن البنا، پرویز احمد شاہ، 
عبدالمجید میر، رفیق ڈار اور مرتضی دورانی شامل تھے۔ حریت کانفرنس کے 
رہنماﺅں نے ملاقات کے دوران پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کہا کہ آپ 
کی شخصیت میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید موجود 
ہیں۔ کشمیریوں کو امید ہے کہ آپ اپنے عظیم نانا اور عظیم والدہ کے نقش قدم 
پر چلتے ہوئے کشمیری عوام کی آواز بنیں گے۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سابق 
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مقبوضہ کشمیر کی 
آزادی کے لئے ہزار سال تک لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے 
اپنے بانی کے اس عہد کو اپنے منشور کا حصہ بنایا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ 
اقوام متحدہ بھارت کو اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند کرے۔ وفد سے 
گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کشمیریوں کی پاکستان سے وفا 
ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ پاکستان کے عوام کشمیر اور کشمیریوں کو اپنے وجود 
کا حصہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے وہ کارکن جو 
سمندر پار مقیم ہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے سفیر بن کر ان کی آواز دنیا 
بھر کے حکمرانوں تک پہنچائیں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 
انہوں نے مودی کے گجرات میں ادا کئے ہوئے قصائی کے کردار کے پیش نظر انہیں 
قصائی کہا تھا۔ مجھے خدشہ تھا کہ مودی مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور جبر کا 
بازار مزید گرم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہذب ممالک کی حکومتوں کو اور 
عالمی منصفین کو مودی کا ہاتھ روکنا ہوگا۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم راجہ 
پرویز اشرف، سید نیر حسین بخاری، سینیٹر شیری رحمن، چوہدری پرویز اشرف اور 
فیصل ممتاز راٹھور بھی موجود تھے۔

-- 

        

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پولی کلینک ہسپتال میں

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پولی کلینک ہسپتال میں 
محترمہ فریال تالپور کی عیادت کی ۔ بی بی بختاور بھٹو زرداری اور بی بی 
آصفہ بھٹو زرداری بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے 
ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے محترمہ فریال تالپور کی صحت پر تشویش کا اظہار 
کرتے ہوئے کہا کہ کل اچانک ان کی طبیعت خراب ہوئی تو نیب آفس نے انہیں 
ہسپتال منتقل کیا۔ آج ان کا ریمانڈ پورا ہو رہا تھا تو انہیں عدالت میں پیش 
کرنے کی بجائے جیل بھیجنے کی درخواست کی عموماً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اس کی 
کوئی مثال نہیں ملتی مگر اب سب ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ فریال 
تالپور بیمار ہیں۔ ڈاکٹر کسی بھی شہری کو اس حالت میں ہسپتال سے منتقلی کی 
اجازت نہیں دیتے مگر نیب اہلکار اس بات پر بضد ہیں کہ وہ محترمہ فریال 
تالپور کو بستر سے اٹھا کر جیل لے جائیں گے۔ وہ ڈاکٹروں کی بھی بات سننے کے 
لئے تیار نہیں ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس میں غیرت نہ ہو 
وہ بزرگوں اور خواتین کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی پہلے بھی انتقامی 
کارروائیوں کا مقابلہ کرتی رہی ہے اور آج بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 
ہم پریشر میں نہیں آئیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک مشترکہ پیغام 
جانا چاہیے تھا مگر انا اور ضد سے مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلاول 
بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ انہیں سلیکٹڈ نہ کہا جائے میں انہیں 
سلیکٹڈ نہ کہوں تو کیا کہوں، بے غیرت نہ کہوں تو کیا کہوں، منافق نہ کہوں 
تو کیا کہوں؟ آپ ظلم کرتے ہیں ہم ظلم سہتے رہے ہیں گے مگر آپ ہماری زبان 
بند نہیں کر سکتے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تاریخ تمہارے کردار 
کو ضرور یاد رکھے گی کہ یہ وہ وزیراعظم ہے جس نے کشمیرکا سودا کیا تھا۔ اس 
موقع پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ، سید نیر حسین بخاری، سینیٹر مصطفی 
نواز کھوکھر اور چوہدری منظور بھی موجود تھے۔

--

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ کے چیئرمین صادق 
سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ میں پارٹی کے سینیٹروں کے کردار ا ور اس 
انتخابات کے متعلق ایک پانچ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دی ہے جس کے 
اراکین سید یوسف رضا گیلانی، سید نیر حسین بخاری، سعید غنی، صابر بلوچ اور 
فرحت اللہ بابر ہیں۔ یہ کمیٹی اگر ضروری سمجھے گی تو دیگر اراکین کو بھی 
شامل کر سکتی ہے۔ یہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی استعفوں کے متعلق پارٹی لیڈرشپ کو 
سفارشات بھی پیش کرے گی۔ ایک بیان میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ 
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کے روز سینیٹ میں ہونے والی ہارس 
ٹریڈنگ پر سخت مایوسی کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ اس کی تہہ تک جائیں 
گے اور جن لوگوں نے اس سلسلے میں گندا کردار ادا کیا ہے انہیں منظرعام پر 
لائیں گے۔ یہ کمیٹی اس بات کی بھی چھان بین کرے گی کہ متحدہ اپوزیشن کے پاس 
اکثریت ہونے کے باوجود وہ چیئرمین سینیٹ کو کیوں نہ اٹھا سکی اور جو 
سینیٹرز غلطی کے مرتکب پائے گئے اور جنہوں نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی 
انہیں سزا بھی دی جائے گی۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا 
فیصلہ 26جون کو اسلام آباد میں تمام پارٹیوں نے متفقہ طور پر کیا تھا۔ اس 
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں پاکستان کے چاروں صوبوں سے اراکین لئے گئے ہیں۔ 
پارٹی امید کرتی ہے کہ حزب اختلاف کی دیگر پارٹیاں بھی اپنے سینیٹروں کے 
متعلق تحقیقات کریں گی۔

-- 

پاکستان.پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے قائد آصف علی زرداری کی 64ویں سالگرہ جوش و خروش اور باوقار

پاکستان.پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے قائد آصف علی زرداری کی 64ویں سالگرہ جوش و خروش اور باوقار طریقے سے منائے گی۔ انہوں نے پارٹی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں سالگرہ کی تقریبات منعقد کرکے اپنے قائد کی بہادری، ثابت قدمی اور جمہوریت کا تحفظ کرنے پر ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کریں اور ان کی صحت اور درازی عمر کے لئے خاص دعائیں کی جائیں۔ پیپلزپارٹی کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ سابق صدر نے جمہوریت کی خاطر طویل قید کاٹ کر جمہوریت پسندوں کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور صدر پاکستان آصف علی زرداری نے 1973ءکا آئین اصل صورت میں بحال کرکے پارلیمنٹ کو بااختیار بنا کر اس ذہنیت کو سیاسی شکست دی جو جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف رہے ہیں۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ صوبوں کو خودمختاری دینا ، گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیا، خیبرپختونخوا کے عوام کو ان کی شناخت دی اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کے ساتھ معاشی انصاف کیا۔ نیر حسین بخاری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے سوات میں دوبارہ قومی پرچم سربلند کرکے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریب خواتین تک رسائی بھی ان کا شاندار کارنامہ ہے۔ آصف علی زرداری نے ماضی میں برطرف کئے گئے سرکاری ملازمین کو باعزت طریقے سے بحال کیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ کرکے ان کی مشکلات کا ازالہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری آج بھی ان عناصر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہے ہیں جو جمہوریت کو کمزور اور پارلیمان کو ربڑ اسٹمپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں کو اپنے قائد آصف علی زرداری کی قیادت پر فخر ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی کوریج پر سنسرشپ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی کوریج پر سنسرشپ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی میڈیا کوریج روکنا بدترین آمریت ہے۔ میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کسی بھی سیاسی مخالف کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 126دنوں تک دھرنا دینے والوں سے ایک ریلی ایک جلسہ اور ایک تقریر برداشت نہیں ہوتی۔ اپوزیشن پارلیمنٹ میں بات کرے تو خان صاحب ایوان چھوڑ دیتے ہیں۔ اراکین اسمبلی کا حق غصب کرکے ان کے پروڈکشن آرڈرز رکوائے جاتے ہیں۔ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں تک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لئے پہلے گرفتاریاں کی جاتی ہیں۔ گرفتاریوں سے آواز نہ دب سکے تو میڈیا پر سنسرشپ عائد کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جتنی میڈیا سنسرشپ آج ہے ایسی تو صرف آمریتوں میں ہوا کرتی ہے۔ عمران خان کے پاس عوام کے سوالوں کا جواب نہیں تو زباں بندی کروانا شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلق خدا کی آواز کو بڑے بڑے آمر نہیں دبا سکے یہ کٹھ پتلی کیا چیز ہے؟ آمرانہ ہتھکنڈوں سے صرف ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ عمران خان سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں۔ اپوزیشن سلیکٹڈوزیراعظم کی ہر پابندی اور انتقام کر مقابلہ کرے گی۔

 

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید شاہنواز بھٹو کو ان کی 34 ویں یومِ شہادت کے موقعے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید شاہنواز بھٹو کو ان کی 34 ویں یومِ شہادت کے موقعے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں بحالیِ جمہوریت کے لیئے جاری عوامی جدوجہد میں بھٹو خاندان کی جانب سے بھرپور قائدانہ کردار ادا کرنے کی پاداش میں شہید شاہنواز بھٹو کو ایک گہری و گہنونی سازش کے تحت شہید کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آمریتی عناصر شہید شاہنواز بھٹو کی انقلابی سوچ سے خائف اور پاکستان کے نوجوانوں میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی نئی نسل کے لیئے شہید شاہنواز بھٹو ایک کیس اسٹڈی ہے کہ عوام کے حقِ حاکمیت کو غضب کرنے والی قوتیں جمہوریت کی بات کرنے پر کتنی سفاک بن جاتی ہیں اور قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار و زرخیز ذہنوں کے مالک افراد کو کس بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فکرِ بھٹو پر قائم شہید شاہنواز بھٹو کی جمہوری انقلابی سوچ کا سفر اور جذبہ عوامی خدمت آج بھی جاری ہے، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کو حقیقی جمہوری و مساوات پر مبنی قائداعظم کا پاکستان بنانے کے لیئے آج بھی جدوجہد کے میدان میں موجود اور منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے پارٹی عہدیداران و کارکنان اور عوام کو اپیل کی کہ وہ آج کے دن شہید شاہنواز بھٹو کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیئے دعا کریں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی، ذوالفقار علی شاہ، لیاقت آسکانی اور نوید انتھونی نے کہا ہے

کراچی (14 جولائی 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی، ذوالفقار علی شاہ، لیاقت آسکانی اور نوید انتھونی نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم اور سلیکٹڈ حکومت کے تجربے نے معیشت اور معاشرتی اقدار کو کچلنے کے ساتھ ساتھ اداروں کے وقار کو بھی ناقابلِ تلافی حد تک نقصان پہنچایا ہے، جس کے ازالہ کٹھ پتلی کو بنی گالہ کے چڑیا گھر میں واپس بھیجنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اپنے مشترکہ بیان میں پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ عوام نے دھاندھلی زدہ بجٹ کو مکمل طور رد کردیا ہے، کیونکہ اس طرح کی بُری پالیسیوں کے نتائج بعدازاں قوم کو ہی بھگتنا پڑیں گے، جو کسی بھیانک تصور سے بھی زیادہ خوفناک ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے دس ماہ پر محیط دورِ بدانتظامی کے دوران قومی اثاثے گھٹ کر آدھے ہو گئے ہیں، جبکہ غربت اور معاشی بے یقینی نئی بلندیوں کو چُھو رہی ہیں۔ ارکان سندھ اسمبلی نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ بے یقینی اور افراتفری نے زندگی کے تمام شعبہ جات کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور ملک کا ہر آدمی حکومت کی غلط منصوبہ بندی و بیوقوفانہ معاشی پالیسیوں کا شکار ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان کے شہری مختلف قسم کے 42 ٹیکس ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کے حواری دنیا کے آگے قوم کو ٹیکس چور بناکر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد عوام کی امنگوں کا ترجمان اقدام و واضح پیغام ہے اور پی ٹی آئی حکومت کی ظالمانہ معاشی پالیسیوں، غیرجمہوری انداز اور بے اعتدال رویئے کے خلاف مکمل نفی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے غبارے میں ہوا بھرنے و کٹھ پتلیوں کو دلکش نقاب پہنانے، عادی لوٹوں و بدعنوان سیاسی عناصر کو واشنگ مشین سے گذارکے عوام کے مدمقابل لانے جیسے اقدام اب ملک کے لیئے بھیانک خواب بن کر کھڑا ہے۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ اشیائے خورد و نوش کے نرخ آسمان کو پہنچ گئے ہیں، روپے کی قدر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، صنعت کا صفایا ہو رہا ہے، نوجوانوں کو بے روزگاری ادھیڑ رہی ہے، عوام غربت میں ڈوب رہے ہیں اور تاجر زیرعتاب ہیں۔ یہ تحریک انصاف کی سلیکٹڈ حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی طویل فہرست میں سے وہ چند تازیانے ہیں جن سے قوم زخمی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ پوری دنیا میں ملک کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، کہ ہمارے وفاقی وزراء بیرونِ ملک دوروں کے دوران خالی کرسیوں کو خطاب فرما رہیں ہیں کیونکہ دھاندھلی اور انتخابات چوری کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سلیکٹڈ حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اب وہ واحد امید ہیں جو ملک کو اس حالیہ دلدل سے باہر نکال سکتے ہیں، کیونکہ وہ ملک کے ان غریب و نوجوانوں کی آرزوَں و امنگوں کے حقیقی ترجمان ہیں، جو سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کی سلیکٹڈ حکومت کے اصل شکار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے عالمی بئنک کے ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار انویسٹمینٹ ڈسپیوٹ کی جانب سے ریکوڈک معاملے میں پاکستان کے خلاف 5.976 ارب روپے کا جرمانہ عائد کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی خزانے کو اتنا بڑا نقصان پہنچانے والے کرداروں کو نہیں چھوڑنا چاہیئے، خواہ ان کا تعلق عدلیہ سے ہو یا انتظامیہ سے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیاں مل کر نومبر سے پہلے حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیاں مل کر نومبر سے پہلے حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔ پروڈکشن آرڈر کے قانون کو ختم کرکے حکومت پارلیمنٹ کو کمزور کرے گی اس کا نقصان بھی انہیں اٹھانا پڑے گا۔ میاں نواز شریف کو گھر شفٹ کیا جانا چاہیے۔ حکومت تیس بلین ڈالر کے مزید قرضے ایسے ممالک سے لینے جارہی ہے جن سے ہم بات نہیں کر سکتے۔ دوبئی میں ایک کمپنی ہے جس پر لندن میں کیس چل رہے ہیں اور اس کمپنی کے سی ای او نے تیس ملین ڈالر سے ضمانت لی ہے۔ عمران خان کی اس سے وابستگی ہے۔ و زیراعظم کے ایک سکینڈل کی وجہ سے میرا انٹرویو نشر نہیں ہونے دیا گیا۔ مسقبل بلاول اور مریم کا ہے مریم ہماری بیٹیوں جیسی ہے ہم ان کو مشورے دیتے رہے ہیں۔ ملک میں اس وقت سویلین مارشل لاءہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد سے عمران خان کی حکومت نومبر سے پہلے چلی جائے گی اور اس کیلئے ہم جدوجہد کررہے ہیں۔ مریم نواز نے جو ویڈیو لیک کی ہے وہ میں نے نہیں دیکھی کیونکہ مجھے ٹی وی اور ریڈیو کی سہولت میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جسٹس قیوم کی عدالت میں سب کچھ جاننے کے باوجود بھی پیش ہوتے رہے اور ہمیں سزائیں ہوئیں جو بعد میں ختم ہوگئیں۔ ملک میں سویلین مارشل لاءہے۔ اس حکومت کے جانے کے بعد الیکشن ہوں گے یا سویلین حکومت آئے گی سیاسی پارٹیاں مل کر حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خاص لوگ ہیں جو ڈرائی کلین نہیں ہورہے ان کیلئے دبل صرف ایکسل کا استعمال کرنا پڑے گا۔ مستقبل بلاول بھٹو اور مریم نواز کا ہے مریم نواز ہماری بیٹیوں جیسی ہے ہم انہیں مشورہ دیتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں ہم سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں موجودہ حکومت کو خطرہ پیپلزپارٹی کی طاقت ہے اور بلاول کی طاقت ہے۔ بے نظیر بھٹو کے زمانے میں مجھے جیل میں ڈالتے رہے کیونکہ اس وقت انہیں پیپلزپارٹی سے خطرہ تھا سینیٹ میں اکثریت ن لیگ کی ہے۔ و زیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داﺅد کا تعلق جس برادری سے ہے وہ بھارت سے آئے تھے۔ پاکستان سندھ کے لوگوں نے بنایا اور پاکستان ہمارا اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو بہتری کیلئے مزید پریکٹس کرنی چاہیے اور نئے نوجوانوں کو سامنے لانا چاہیے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے خاتمے کے حوالے سے قانون لایا جارہا ہے۔ اس سے پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا نقصان حکومت کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہوسکتا ہے میرے آخری پروڈکشن آرڈر ہوں لیکن 2020 پاکستان کی بہتری کا سال ہوگا۔ میرا انٹرویو اس لئے رکوایا گیا کہ میں نے وزیراعظم کے ایک سکینڈل کے بارے میں انکشاف کیا تھا۔ حکومت مزید تیس بلین ڈالر کے قرضے ایسے ممالک سے لے رہی ہے جس سے ہم پھر بات بھی نہیں کر سکیں گے قرضے ایشین بینک، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے لے رہے ہیں جو بعد میں ہماری ایمبیسی پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر اگر بنانے ہیں تو کرپشن کے حوالے سے ریفرنس بناﺅ تو پتہ چل جائے گا کہ میں نے کیا کرپشن کی ہے۔ ہم جب باہر کے ممالک کے دورے پر جاتے تو سستے ہوٹلوں میں ٹھہرتے تھے ایمبیسی میں نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی کی کمپنی جس پر لندن میں کیس چل رہا ہے اس کے سی ای او نے تیس ملین ڈالر سے ضمانت لی ہے میں نے اپنے انٹرویو میں اس چیز کا انکشاف کیا تھا کہ عمران خان کی اس کمپنی کے ساتھ وابستگی ہے۔