خبر آرکائیو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی سلیکٹڈ حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کو بغیر کسی ثبوت جیلوں میں ڈالا ہوا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی
آئی کی سلیکٹڈ حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کو بغیر کسی ثبوت جیلوں میں
ڈالا ہوا ہے اور یہ احتساب نہیں بلکہ انتقامی کارروائیاں ہیں۔ چیئرمین
بلاول بھٹو زرداری پیر کے روز اڈیالہ جیل کے باہر اپنے والد صدر آصف علی
زرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ
انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اسی راولپنڈی شہر میں شہید ذوالفقار علی بھٹو
کا عدالتی قتل کیا گیا اور اس عدالتی قتل کے متعلق ایک پٹیشن بھی سپریم
کورٹ میں زیر سماعت ہے لیکن نہ کوئی اس عدالتی قتل پر معافی مانگنے کے لئے
تیار ہے اگر شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے تو عام
عوام کے ساتھ اس ملک میں کیا سلوک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد جیل
میں علیل ہیں لیکن انہیں طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ صدر آصف علی
زرداری عوام اور جمہوریت کی خاطر جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں
نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت صرف اپنے سلیکٹرز کو خوش کرنا چاہتی ہے اور عوام کی
اسے کوئی فکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے جیل سے اپنی پارٹی کے
عہدیداروں اور کارکنوں کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ اس کٹھ پتلی حکومت کی چالوں
میں نہ آئیں اور اسی طرح اس کٹھ پتلی حکومت کے خلاف لڑیں جس طرح وہ پہلے
ڈکٹیٹرز کے خلاف لڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام بیروزگاری، مہنگائی کے
ہاتھوں تنگ ہیں کیونکہ سلیکٹڈ حکومت عوام کے ووٹوں سے نہیں آتی بلکہ اسے
اوپر سے تھونپا جاتا ہے۔ آج عوام اپنے بجلی، گیس کے بلوں اور دو وقت روٹی
کے لئے فکر مند ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب بھی
پیپلزپارٹی اقتدار میں آتی ہے وہ عام آدمی کو ریلیف مہیا کرتی ہے جیسا کہ
بی آئی ایس پی پروگرام، تنخواہوں میں 150فیصد اور پنشن میں 100 فیصد اضافہ
جبکہ کٹھ پتلی حکومت اور کٹھ پتلی وزیراعظم کے تمام وعدے جھوٹے ثابت ہو چکے
ہیں اس لئے حکومت کو انہیں گھر بھیجنا پڑے گا اور بہت جلد پی پی پی عوام کی
مدد سے کٹھ پتلیوں کو گھر بھیج دے گے۔ حزب اختلاف کے اتحاد کے بارے میں ایک
سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی پی پی حزب اختلاف کی پارٹیوں سے رابطے
میں ہیں۔ کشمیر کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا
وجہ ہے کہ بھارت کو پچھلے 70 سالوں میں کشمیر پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں
ہوئی اور اب کیوں اس نے کشمیر پر تاریخی حملہ کیا ہے۔ عمران خان دنیا کو یہ
بتانے میں ناکام ہوگئے ہیں کہ بھارت نے کشمیر پر تاریخی حملہ کیا۔ انہوں نے
کہا کہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری ہے۔
انہوں نے عمران خان پر تنقید کی کہ انہوں نے کشمیریوں کے استصواب رائے کے
حق کے متعلق جنرل اسمبلی میں کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی دنیا کے کسی ملک
کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے کسی قسم کی کوئی ڈیل ہے نہ ہوگی اور
ہم ڈیل پر لعنت بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں اگر کوئی
درمیانی راستہ نکلتا ہے تو اس پر بات کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا سید مراد
علی شاہ پر کیس قطعی جھوٹا ہے اور جس جے آئی ٹی کی بنیاد پر یہ کیس بنانے
کی کوشش کر رہے ہیں اس کے متعلق عدالت نے کہا تھا کہ کس کی ہدایت پر اس جے
آئی ٹی نے سید مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو کا نام شامل کیا گیا تھا؟ انہوں
نے کہا کہ مراد علی شاہ کو گرفتار کرنے کی نہ کو ئی اخلاقی، آئینی یا
قانونی وجہ موجود ہے لیکن اگر مراد علی شاہ کو گرفتار کیا گیا تو اس کے
پاکستان کے وفاق پر گہرے مضمرات ہوں گے کیونکہ مراد علی شاہ وفاق کے ایک
صوبے کے منتخب کردہ وزیراعلی ہیں اور جتنی اکثریت سے وہ منتخب ہوئے اتنی
اکثریت میں تاریخ میں کوئی وزیراعلی منتخب نہیں ہوا۔ ان کی گرفتار
پیپلزپارٹی کی نظر میں ریڈ لائن کو عبور کرنا ہوگا جس کی پاکستان
پیپلزپارٹی ایسی مذاحمت کرے گی کہ آزادی مارچ بھول جائے گا۔

سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کے گھر کی تلاشی کو مشتہر کرنے پر ردعمل کے بیان میں کہا ہے

سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے سابق
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کے گھر کی تلاشی کو مشتہر کرنے پر
ردعمل کے بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور بار بار اپنے
حلقے کے عوام کا مینڈیٹ حاصل کرنے والے سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کے
گھر کی تلاشی کو مشتہر کرنا میڈیا ٹرائل ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ چیف جسٹس
کا کہنا درست ہے کہ نیب پولیٹیکل انجینئرنگ میں ملوث ہے۔ نیب یکطرفہ احساب
سے اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا نیب خود نیب زدگان کی “جیب” کی گھڑی
بن گئی ہےنیب حکومتی خاندان وزراءاور پی ٹی آئی کو کلین چٹ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرکے حکمران خود
گہری دلدل میں پھنس رہے ہیں۔ نیر بخاری نے کہا کہ احتساب پر کسی کو اعتراض
نہیں لیکن احتساب کے نام پر کردار کشی الزام تراشیاں اور ثبوت کے بغیر
گرفتاریاں سیاسی انتقامی ہتھیار ثابت شدہ ہیں حکمران مت بھولیں انہیں سیاسی
مخالفین کی پگڑیاں اچھالنا مہنگا پڑے گا۔ نیر بخاری نے کہا کہ امور مملکت
رکے ہوئے ہیں اور رموز مملکت اہلیان “تبدیلی”کی سمجھ سے باہر ہیں۔ نیر
بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیاسی مخالفت کو دشمنی میں “تبدیلی” کے خلاف
تھی اور رہے گی قانون کو ہاتھ کی چھڑی بنانے کے زعم میں مبتلا ہونا کم ظرفی
کی نشانی ہے۔

شہید میر مرتضیٰ بھٹو کو ان کی 23 ویں یومِ شہادت پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے

اسلام آباد/ کراچی (19 ستمبر 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید میر مرتضیٰ بھٹو کو ان کی 23 ویں یومِ شہادت پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو نے آمر ضیاء کے خلاف جدوجہد کی شروعات کی اور اس عمل کی پاداش میں انہیں آمریتی قوتوں کے ہاتھوں شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ابھی نوجوان ہی تھے، جب ایک آمر اور عدلیہ سے منسلک چند افراد نے ایک گہنونی سازش رچائی اور ان کے والد وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی منشا اور ان کے حقیقی مینڈیٹ کو کچلنے کی خاطر جمہوری قوتوں کے خلاف اس طرح کی صورتحال مختلفوں شکلوں میں آج بھی درپیش ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو اور ان کے چھوٹے بھائی شہید شاہنواز بھٹو کو جلاوطن ہونے پر مجبور کیا گیا اور وہ جہاں بھی جاتے ان کا تعاقب کیا جاتا اور بالاخر آمر اور اس کے حواریوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی تیسری نسل ہیں،جن کو آمر ضیاء کی باقیات ایک لبمی منظم سازش کے تحت نشانہ بنا رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کو “ایک بھٹو کو نشانہ بنانے کے لیئے دوسرے بھٹو کو نشانہ بناوَ” کے گہنونے منصوبے کے تحت شہید کیا گیا تاکہ اس کی اپنی ہمشیرہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی زیرقیادت قائم عوامی حکومت کا خاتمہ کیا جاسکےاور صدر آصف علی زرداری کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شہید میر مرتضیٰ بھٹو بھادری اور جدوجہد برائے جمہوریت کے آئیکن کے طور پر ہمیشہ یاد رہیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستانی عوام کے جمہوری و انسانی حقوق کے لیئے بلاخوف و خطر جدوجہد کرتی رہے گی۔

سابق چیرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی خورشید شاہ کی گرفتاری پر مذمتی بیان میں کہا ہے

سابق چیرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین 
بخاری نے سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی خورشید شاہ کی گرفتاری پر مذمتی 
بیان میں کہا ہے کہ پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ کی گرفتاری دباو ¿ کا 
گھٹیا حربہ ہے۔سلیکٹڈ نیب کا قانون صرف پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال ہو رہا 
ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ حتساب کے نام پر انتقام نا منظور ہے ڈٹ کر مقابلہ 
کریں گے۔انہوں نے کہا کہ چیرمین پی پی پی بلاول بھٹو نے آئینی، قومی، 
سیاسی، عوامی معاملات پر اہم اجلاس طلب کر رکھا ہے اور مرکزی رہنما کی 
گرفتاری حکمرانوں کے پیپلز پارٹی قیادت کے ساتھ بغض اور ذاتی عنادکا تسلسل 
ہے۔ نیر بخاری نے مزید کہا کہ سلیکٹڈ نیب حکمران خاندان اور نیب زدگان وزرا 
کے سامنے اپاہج اور اندھا ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ پوری پیپلزپارٹی گرفتار 
کر لی جائے پھر بھی جینا مرنا عوام کے ساتھ رہے گا۔ نیر بخاری نے کہا کہ 
پاکستان پیپلز پارٹی حکمرانوں کی نااہلی اور نالائقی قوم کے سامنے لاتی رہے 
گی۔ انہوں نے کہا کہ پپیلز پارٹی گرفتاریوں سے خوفزدہ ہونے والی پارٹی 
نہیں۔ نیر بخاری نے کہا کہ قومی اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران ممبر قومی 
اسمبلی کی گرفتاری قابل مذمت ہے انہوں نے کہا کہ احتساب کو انتقام میں 
تبدیل کرنے والوں کا انجام قریب ہے۔

-

سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے یوم جمہوریت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صرف جمہوریت ہی ملک کی سلامتی کی ضمانت ہے۔

سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے یوم جمہوریت کے موقع پر اپنے پیغام میں 
کہا ہے کہ صرف جمہوریت ہی ملک کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ بااختیار پارلیمنٹ 
جمہوریت کا اصل چہرہ ہے۔ آج جمہوریت یرغمال اور پارلیمنٹ بے اختیار ہے۔ 
اپنے پیغام میں سابق صدر نے کہا کہ بھٹو خاندان کا تیسری نسل جمہوریت کے 
دفاع کی جنگ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا پرچم کبھی بھی سرنگوں 
ہونے نہیں دیں گے۔ جیل اور مشکلات سے حوصلہ پست نہیں ہو سکتا۔ سابق صدر آصف 
علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی طاقت کا سرچشمہ صر ف عوام کی 
سمجھتی ہے۔ عوام کی حکمرانی اور ملک کے مستقبل کے تمام فیصلے پارلیمنٹ کلا 
اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے لئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں 
کریں گے۔ آصف علی زرداری نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ جمہوریت کا پرچم 
مضبوطی سے تھامے رکھیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی مرکزی خواتین رہنما نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کشمیر کے مسئلے پر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے

پاکستان پیپلزپارٹی مرکزی خواتین رہنما نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان 
کشمیر کے مسئلے پر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسی پر عمل کرنا 
چاہیے۔ اگر وزیراعظم پہلے دن سے کشمیر کے سفیر بنتے تو آج تک 40ممالک کے 
سربراہان سے ملاقاتیں کر چکے ہوتے ۔ ملک میں بیروزگاری، مہنگائی اور معیشت 
کا برا حال ہے لیکن وزیراعظم کی ٹیم ملک میں انتشار پھیلا رہی ہے۔ وفاقی 
حکومت نے سندھ پر گورنر راج لگانے، فارورڈ بلاک بنانے اور اب 149 لگانے کی 
کوشش کی ہے لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے ہوتے ہوئے 
سندھو دیش نہیں بن سکتا کیونکہ پیپلزپارٹی وفاق کی زنجیر ہے۔ پارلیمنٹ کے 
مشترکہ اجلاس میں جو کچھ ہوا اس کے ذمے دار صدر پاکستان ہیں کیونکہ اگر وہ 
کہتے کہ پارلیمان پورا ہوگا تو میں خطاب کروں گا تو یہ صورتحال سامنے نہ 
آتی۔ وزیراعظم کے مظفرآباد کے جلسے میں اداکاروں، گلوکاروں اور بلے بازوں 
کو متعارف کرایا گیا کیا اس سے تو اب مودی کانپ رہا ہوگا۔ آرایس ایس 1925 
سے بنی ہے لیکن ہمارے وزیراعظم پھر بھی مودی کے منتخب ہونے کی دعائیں کرتے 
رہے۔ لائن آف کنٹرول پر جانے کے لئے عوام، فوج اور پیپلزپارٹی کو وزیراعظم 
کے حکم کی ضرورت نہیں ہے۔ 149 پر لاک کرنا ہے تو سب سے پہلے پشاور میں ہونا 
چاہیے کیونکہ وہاں بی آرٹی کا منصوبہ لوگوں کے قبروں میں جانے تک ختم نہیں 
ہونے والا۔ ملکی موجودہ سیاسی صورتحال میں ہوسکتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی 
مولانا فضل الرحمن سے پہلے سڑکوں پر نکل آئے۔ ان خیالات کا اظہار 
پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ، ڈپٹی سیکریٹری 
اطلاعات پلوشہ خان اور سینیٹر روبینہ خالد نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے 
ہوئے کیا۔ پیپلزپارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈینیٹر نذیر ڈھوکی اور کیپٹن واصف 
بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ وزیراعظم 40دن بعد 
مظفرآباد میں پہنچے جبکہ کشمیری 40دنوں سے ایک کرب سے گزر رہے تھے اور لوگ 
انتظار کر رہے تھے کہ وزیراعظم کوئی بڑا اعلان کریں گے لیکن وزیراعظم نے 
صرف یہی کہا کہ میں دنیا میں کشمیر کا سفیر بنوں گا۔اگر وہ 40دن پہلے سفیر 
بن کر جاتے تو وہ 40 ممالک کے سربراہان سے کشمیر کے حوالے سے ملاقاتیں کر 
سکتے تھے۔ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقدمہ لڑنے جا رہے ہیں 
پیپلزپارٹی ان کے ساتھ ہے وہاں تو پہلے بھی بہت بڑی بڑی تقریریں ہوئی ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسی کو فالو کریں لیکن 
نقل کے لئے عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر ملک کے لوگ آپ کے ساتھ 
ہیں لیکن پیچھے بھی دیکھیں کہ ملک میں بیروزگار اور معیشت تباہ وہ چکی ہے 
لیکن آپ کے وزراءملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں جس کی وجہ سے کشمیر کے ایشو 
کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ سندھ پر پہلے گورنر راج لگانے کی کوشش کی گئی 
پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش کی گئی اور اب 149 کی باتیں کی 
جا رہی ہیں لیکن ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ 
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کا ایک ہی حصہ توڑ 
مروڑ کا پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو وفاق پر حملہ کرے گا ہم 
ان کا مقابلہ کریں گے۔ صدر پاکستان نے پہلے سپریم کورٹ پر، پھر الیکشن 
کمیشن اور اب پارلیمنٹ پر حملہ کیا ہے۔ ایک دن پارلیمنٹ کا اجلاس بلاتے ہیں 
تو دوسرے دن کینسل کر دیتے ہیں۔پلوشہ خان نے کہا کہ مظفرآباد میں اداکاروں، 
گلوکاروں اور بلے بازوں کو متعارف کرایا گیا۔ ان کی وجہ سے تو آج مودی کانپ 
رہا ہو جبکہ بھارت کے آرمی چیف کہہ رہے ہیں کہ اب مظفرآباد پر حملہ کرنے جا 
رہے ہیں، گانے اور ٹھمکے سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی 
صورتحال میں یہ بھی ممکن ہے کہ پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمن سے پہلے سڑکوں 
پر آسکتی ہے۔ جس وزیراعظم نے کشمیر کا جھنڈا اٹھانے سے انکار کیا آج وہ 
اپنے آپ کو کشمیر کا سفیر کہہ رہا ہے۔ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ ہم 
ورلڈ کپ جیت کر آئے ہیں لیکن وہ اس وقت کشمیر فروخت کرکے آئے تھے۔ بارڈرز 
پر پاک فوج کے جوان شہید ہو رہے ہیں لیکن ایل او سی کے دوسری طرف وزیراعظم 
اپنے جلسے میں گلوکاروں کو بلے بازوں کو متعارف کرا رہے ہیں۔ آرایس ایس کی 
تاریخ 1925 سے ہے لیکن وزیراعظم مودی کے دوبارہ منتخب ہونے کی دعائیں کرتے 
رہے ہیں۔ ہمارے وزیر خارجہ کا خاندان انگریزوں کے لئے خدمات انجام دیتا رہا 
ہے۔ ایل او سی پر پاکستان پیپلزپارٹی فوج اور عوام کو وزیراعظم کے حکم کی 
ضرورت نہیں وہ جب چاہیں گے ایل او سی کو کراس کریں گے۔ سینیٹر روبینہ خالد 
نے کہا کہ 149 کا اطلاق سب سے پہلے پشاور میں ہونا چاہیے۔ پشاور میں بی 
آرٹی منصوبہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ پشاور کے مسائل کو سامنے نہیں 
لایا جاتا لیکن کراچی میں کچرے کی باتیں سب کرتے ہیں۔ کے پی میںڈینگی پولیو 
نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ ملک میں اپنے لوگوں کو نوازنے کے لئے تمام ٹھیکے 
دئیے جا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی نائب صدر اور سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمن نے کہا

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی نائب صدر اور سینیٹ میں پارلیمانی 
لیڈر سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے چیئرمین بلاول بھٹو 
زرداری کے بیان کو سنے بغیر تبصرہ کر دیا۔ حکومت سیاسی مخالفت میں ملک دشنی 
کے الزامات پر اتر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 
سندھو دیش اور پختونستان کے تصورات کی مذمت کی۔ انہوں نے حکومتی اراکین کو 
چیلنج کیا کہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان سے ملک دشمنی کا کوئی 
پہلو نکال کر دکھائیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے اٹھارہویں ترمیم کرکے 
سندھودیش اور پختونخوا کا نعرہ لگانے والوں کی سیاسی کو ختم کردیا اور آج 
بھی وہ علیحدگی پسندوں کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ اور طاقت ہیں۔

سابق چیئرمین سینِٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرِٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے

سابق چیئرمین سینِٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرِٹری جنرل سید نیر حسین 
بخاری نے کہا ہے کہ نے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کی شدید 
مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر آعظم نے پارلیمان کو بے توقیر کرنے 
میں کسر نہیں چھوڑی آصف زرداری کو پارلیمنٹ بااختیار بنانے کی سزا مل رہی 
ہےآرڈیننس سرکار میں عوامی سیاسی قیادت کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں۔ سید نیر 
حسین بخاری نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس 
سے آصف زرداری سمیت اپوزیشن ممبران ارکان کی غیر حاضری تشویشناک ہے۔ انہوں 
نے کہا کہ آصف علی زرداری اور دوسرے اپوزیشن ارکان کی غیر حاضری کی ذمہ دار 
حکومت ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کو غیرجانبداری کا مظاہرہ 
کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی بجائے پورے ایوان کا سپیکر ہونا چائییے۔ نیر بخاری 
نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرینس کو حکمرانوں کا گھٹیا پن اور خالی 
الدماغ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کے 
خلاف حکومتی ریفرنس حکومتی بد نیتی سامنے آگئی ہے۔حکمرانوں کی اداروں کو 
تاابع بنانے کی پالیسی ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ 
پاکستان پیپلز پارٹی صاف شفاف اور آزادانہ انتخاب یقینی بنانے کیلئے آزاد 
اور خود مختار الیکشن کمیشن کی حامی ہے اور رہے گی۔ اہم ترین آیینی ادارے 
کو ذاتی انا کی بھینٹ چڑھانے والے حکمرانوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا 
ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے غیر آیینی نامزد ممبران کے حلف سے 
معذرت کرکے آیین و قانون کی سربلندی کا فریضہ سرانجام دیا۔ نیر بخاری نے 
کہا کہ غیر قانونی اقدام کو نہ ماننے پر چیف الیکشن کمیشنر سردار رضا خان 
کو ہٹانے کی کوشش مطلق العنانیت سوچ کی عکاسی ہے۔ نیر بخاری نے حکمرانوں کو 
متنبہہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں کو قومی ادارے رہنے دیا جائے سرکاری جماعت 
کے دفاتر نہ سمجھا جائے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے دھرتی ماں کے لئے جانیں قربان کرنے والے قوم کے بہادر بیٹوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے

 سابق صدر آصف علی زرداری نے دھرتی ماں کے لئے جانیں قربان کرنے والے قوم 
کے بہادر بیٹوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اپنے بہادر 
جوانوں کو کبھی نہیں بھولے گی۔ سابق صدر نے کہا کہ دھرتی ماں کی سرحدوں کی 
حفاظت کرنے والے جوان قوم کی آنکھوں کا نور ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ شہیدوں 
کو نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے شدت پسندی کو شکست دینے کے عزم کی تجدید 
ضروری ہے۔ قوم وطن کے ان فرزندوں کو کبھی نہیں بھولے گی جنہوں نے معصوم 
انسانوں کا خون بہانے والوں کا صفایا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 
پیپلزپارٹی شہداءکے لواحقین کے ساتھ ہے اور انہیں عزت و احترام کی نظر سے 
دیکھتی ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ برقرار نہیں 
رہ سکتا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی جبر اور ظلم سے آزادی ضرور ملے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات و لیبر سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سب کچھ طے شدہ منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات و لیبر سعید 
غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سب کچھ طے شدہ منصوبے کے تحت کیا جا 
رہا ہے،سابق صدر و ایم این اے آصف علی زرداری کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے 
وہ احسان اللہ احسان، ابھی نندن اور کلبھوشن جادویو کے ساتھ بھی نہیں کیا 
گیا،اگر پیپلز پارٹی کے رہنماو ¿ں کے کیسز کو سندھ سے پنجاب یا اسلام آباد 
منتقل کیا جا سکتا ہے تو پی ٹی آئی کے رہنماو ¿ں کے مقدمات کو سندھ منتقل 
کیوں نہیں کیا جاسکتا،آصف علی زرداری کو عدالتی حکم کے باوجود سہولیات 
فراہم نہیں کی جارہی اور ڈاکٹروں کے بورڈ کی ہدایت کے باوجود انکو ہسپتال 
منتقل نہیں کیا جا رہا،پیپلز پارٹی کو اس لئے دباو ¿ میں لانے کی کوشش کی 
جا رہی ہے کہ وہ اپنا موقف تبدیل کریں لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کو 
قبول کیا لیکن موقف تبدیل نہیں کیا آصف علی زرداری نے گیارہ سال جیل کاٹی، 
ظلم برداشت کیا اور ان کا بھی موقف تبدیل نہیں ہو گا اس سلوک کا سندھ میں 
کوئی ٹھیک پیغام نہیں جا رہا اپوزیشن کیلئے احتساب کا معیار اور ہے اور 
حکومتی رہنماو ¿ں کیلئے معیار اور ہے،پیپلز پارٹی نے میڈیا،عدلیہ کی آزادی 
اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کی بات کی ہے اور نالائق حکومت کے خلاف آواز 
اٹھائی ہے یہ ہمارا جرم ہے جس کی وجہ سے دباو ¿ میں لانے کی کوشش کی جا رہی 
ہے، پیپلز پارٹی کے خلاف ہمیشہ کرپشن کارڈ استعمال ہوتا رہا ہے،سندھ میں 
کچھ سیاسی یتیم ہیں جن کو ہر چھ ماہ بعد ٹیکہ لگایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی 
کی حکومت جانے والی ہے۔ عدلیہ سے گزارش ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ رویہ 
آئین اور قانون کے مطابق رکھا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل 
پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کیا، ان کے ساتھ صوبائی 
وزیر امتیاز شیخ ناصر سیال، ناصر شاہ ،سید سردار علی شاہ ، سہیلی انور 
سیال، میر شبیر بجارانی ،عبدالباری پتافی، مکیش چاولہ، ایم پی.ایز ندا 
کھوڑو ، سعدیہ جاوید ، سنجیلہ لغاری ، شرجیل انعام میمن، محمد قاسم سومرو 
،ذوالفقار علی شاہ ، فرخ علی شاہ ،ممتاز جاکھرانی . شامل تھے اس موقع پر 
سینیٹر روبینہ خالد ، سینیٹر کرشنا کولھی اور نذیر ڈھوکی بھی موجود تھے 
،انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ جو زیادتی ہو رہی ہے اس کی مثال کسی 
اور پارٹی سے نہیں ملے گی، ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل کورٹ کی بجائے اعلیٰ 
عدلیہ میں چلایا گیا اور ان کو پھانسی دے دی گئی جو ایک سیاہ فیصلہ تھا آج 
بھی کوئی عدالت اس فیصلے کو ماننے پر تیار نہیں، بینظیر کو راولپنڈی میں 
قتل کر دیا گیا، آصف علی زرداری نے گیارہ سال بے گناہ جیل کاٹی اور اب ایک 
اور سیاسی انتقام کی تاریخ رقم کی جارہی ہے،پیپلز پارٹی کے رہنماو ¿ں پر جو 
الزامات ان کا تعلق سندھ سے ہے جبکہ ان کا ٹرائل اسلام آباد اور پنجاب میں 
کیا جا رہا ہے اور اس کے اسباب یہ بتائے جا رہے ہیں سندھ میں پیپلز پارٹی 
کی حکومت ہے اور سندھ حکومت ان فیصلوں پر اثر انداز ہو گی اگر انہی اسباب 
کو تسلیم کر لیا جائے تو ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے جن 
اراکین پر نیب کے الزامات ہیں ان کا ٹرائل سندھ میں کرایا جائے تو ہم 
سمجھیں گے کہ ان کی یہ لاجک درست ہیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ صرف انتقامی 
کاروائی تصور ہو گی، انہوں نے کہا کہ سندھ کے ججوں اور نیب کے افسران کا 
تقرر وفاق سے کیا جاتا ہے اور سندھ میں ٹرائل کا نہ ہونا ججوں پر عدم 
اعتماد ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے موجودہ صدر اورسابق صدر 
پاکستان اور موجودہ رکن قومی اسمبلی کے ساتھ وہ نارواسلوک کیا جا رہا ہے جو 
کلبھوشن جادیو، احسان اللہ احسان اور ابھی نندن کے ساتھ بھی نہیں ہوا ہم 
مطالبہ کرتے ہیں یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں جو نہ ابھی تک ثابت ہوئے ہیں 
اور نہ آئندہ ہونگے، یہ صرف عوام کو گمراہ کرنے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو 
دیوار کے ساتھ لگانے کیلئے کیا جا رہا ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نہ 
احتساب کے خلاف ہے اور نہ ہی ایسے ہتھکنڈوں پر سمجھوتا کرے گی، انہوں نے 
کہا کہ جو افراد پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ان کے 
خلاف مقدمات بھی ختم ہو گئے، لیکن ہم کسی دباو ¿ میں نہیں آئیں گے، ہم 
مطالبہ کرتے ہیں کہ پرویز خٹک، محمود خان، حلیمہ خان، پرویز الٰہی،اسد 
قیصراور دیگر برسر اقتدار شخصیات جن پر الزامات ہیں انہیں فی الفور گرفتار 
کیا جائے اور انکے خلاف آئین و قانون کے مطابق یکساں کاروائی کی جائے۔پیپلز 
پارٹی میڈیا اور عدلیہ کی آزادی،پارلیمنٹ کی بالادستی اور انسانی حقوق کی 
بات کرتی ہے اورحکومت کے خلاف آواز اٹھاتی ہے یہی پیپلز پارٹی اور اسکی 
قیادت کا جرم ہے، انہوں نے کہا کہ حکمران چاہتے ہیں کہ چیئرمین پی پی پی 
بلاول بھٹو زرداری کے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جائے تاکہ 
چیئرمین بلاول بھٹو کے موقف کو تبدیل کیا جا سکے لیکن ان کو پتہ نہیں کہ 
بھٹو خاندان پھانسی چڑھ جاتا ہے، سزائیں برداشت کر لیتا ہے، جلا وطنی کاٹ 
لیتا ہے مگر موقف تبدیل نہیں کرتا۔