خبر آرکائیو

و (Bridges) کا افتتاح کرنے آیا ہوں کوٹری (Bridge) اور جام شورو پھاٹک Flyover Bridge سندھ حکومت کے (2)اور projectsجو عوام کی فلاح کے لیے بنائے گئے ہیں سندھ حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے governance of deliverance کو اپنی ترجیح بنایا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نعرے تکبیر ۔۔۔ اللہ اکبر
نعرے رسالت ۔۔ یا رسول اللہ
نعرے حیدری ۔۔۔ یاعلی
نعرے بھٹو ۔۔۔ جئے بھٹو
السلام علیکم
آج میں دو (Bridges) کا افتتاح کرنے آیا ہوں کوٹری (Bridge) اور جام شورو پھاٹک Flyover Bridge سندھ حکومت کے (2)اور projectsجو عوام کی فلاح کے لیے بنائے گئے ہیں سندھ حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے governance of deliverance کو اپنی ترجیح بنایا ،دریائے سندھ پرBridges ہویا ہزاروں kilometerلمبا معیاریRoads جال پانی کی بچت کے لیے Canalsکی Lining ہو یا کسانوں کو subsidies، تھر کول میں مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنا ہو یا پورے صوبے میں مفت اور معیاری دل کی طبی سہولیات ۔
ہم نے صرف اور صرف خدمت کی ،عوام کی خدمت آپ کی خدمت اور اسی خدمت کا نتیجہ ہم آج بھگت رہے ہیں ۔
سچ تو یہ ہے کے PTIکو حکومت صرف دھاندلی کی وجہ سے ملی ہے ،وہ ہم سے Free-fareالیکشن میں جیت نہیں سکتے نہ ہمارے کام سے مقابلہ کر سکتے ہیں ،وفاق کا Selected Wazeer e Azamپنجاب کا بوزدار ، مراد علی شاہ سے Merit پہ مقابلہ نہیں کر سکتے تو سازش کے تحت ہمیں نکالنہ چاہتے ہیں ،پہلے بھی ناکام ہوئے اور اب بھی نا کام ہونگے ،جب ایک نا اہل وفاقی حکومت سندھ اور اس کی عوام سے سوتیلا سلوک کرنے پر ڈٹی ہوئی ہے اور سندھ کے لوگوں کو پاکستان پیپلز پارٹی سے محبت کرنے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کی سزا دی جارہی ہے ۔
ساتھیو!
آپ کو یاد ہے کے میں نے انتخابات سے پہلے کہا تھا کے خان صاحب اصولوں کی سیاست سے پہلے سیاست کے اصول سیکھو ۔
کرکٹ میں Umpire کی انگلی چلتی ہے سیاست میں عوام کی مرضی چلتی ہے ،
آپ نے آج اصولوں کی سیاست کا دھوکا دے کر عوام کے ووٹ تو چوری کر لیے لیکن آج آپ سیاست کے اصولوں کے آگے ہار گئے ،
آپ نے اقتدار تو حاصل کر لیا لیکن قوم کا وقار قائم نہ رکھ سکے ، آپ نے اور آپ کے لاڈلوں نے حکومتی عہدے تو حاصل کرلیے لیکن ان عہدوں کی پاسداری نہ کرسکے ،انہوں نے جتنے وعدے کیے جھوٹ نکلے ،جتنے دعوے کیے فراڈ نکلے ،جتنی قسمیں کھائیں ہوا میں اڑگئی ،الیکشن سے پہلے جو سبز باغ دکھائے وہ عوام کے لیے کانٹوں کا ہار بن گئے یہ حکومت جتنا آگے جارہی ہے ملک اتنا پیچھے جارہا ہے آج معیشت کمزور تر ہوگئی ہے عوام مہنگائی کی Tsunamiمیں ڈوب رہی ہے Millsبند پڑی ہیں دوکانوں پر تالے لگ گئے ہیں غریبوں کو چولہے ٹھنڈے ہورہے ہیں ،نیا روزگار مل نہیں رہا اور پہلے سے موجود روزگار پر حملے ہو رہے ہیں ،جنہوں نے ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں انہوں نے پہلے سے موجود نوکریاں چھین لیں ،جنہوں نے (50)لاکھ گھر دینے تھے انہوں نے لوگوں کے سروں سے چھت بھی چھین لی ۔
آج ملک میں بجلی نہیں آرہی ،گیس نہیں آرہی ،سرمایہ کاری نہیں آرہی ،قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں،مہنگائی کا طوفان پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے لیکن حکومتی وزیروں کی دیدا دلیری دیکھیں وہ کہہ رہے ہیں کے مہنگائی کم ہوئی ہے ،میں حکومتی نمائندوں سے کہتا ہوں کے آپ کی آنکھوں پر غرور کی پٹی ہے اور آپ کا دماغ طاقت کے نشے میں ہے آپ کا دل بے حسی سے پتھر ہو چکا ہے آپ کو نہ تو نظر آ رہاہے نہ سنائی دے رہا ہے نہ محسوس ہو رہا ہے کے لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں اور آپ اعلان کر رہے ہیں کے مہنگائی کم ہوگئی صبر کریں قیامت تو نہیں آگئی سب ٹھیک ہوجائیگا ،میں کہتا ہوں ہاں خان صاحب جس کا بچہ بھوک سے مرجائے اس کے لیے قیامت آچکی ہے لیکن آپ اور آپ کے وزیروں کے لیے ابھی قیامت نہیں آئی اسلام آباد میں بیٹھے لاڈلوں کے لیے قیامت نہیں آئی لیکن سندھ کے عوام کے لیے آپ نے ایک بار پھر کربلا برپہ کر دی سندھ کا پانی بند کر دیا سندھ کی بجلی بند کردی وہ سندھ جہاں سے پورے ملک کو (80%)گیس فراہم کی جاتی ہے اس کے عوام کو گیس سے محروم کردیا ،صوبائے سندھ کے اربوں روپے روک لیے جس سے سندھ کا ترقیاتی عمل متاثر ہوا میں پوچھتا ہوں سندھ کے عوام کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے؟
سندھ کے عوام کو دیوار سے کیوں لگایا جارہا ہے؟
صرف اس لیے کے انہوں نے اپنے ووٹ چوری نہیں ہونے دیے؟
صرف اس لیے کے انہوں نے کٹ پتلیوں کو مسترد کیا ،
صرف اس لیے کے وہ پیٹ پرست مطلب پرست لوگوں کے جھانسے میں نہیں آئے ؟
اس لیے سندھ کے عوام کو سزا دے رہے ہو کے وہ بھٹو شہید سے وفاداری کو اپنا ایما ن سمجھتے ہیں ،
ان کو صرف اس لیے سزا دے رہے ہو کے وہ بی بی شہید کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں ،
صرف اس لیے انہیں سزا دے رہے ہو کے انہوں نے اپنا ضمیر نہیں بیچا اگر یہ بات ہے تو پھر یاد رکھو اگر سندھ کے عوام نے اسلام آباد پر چڑہائی کا فیصلہ کر لیا ، اگر بلوچستان کی عوام نے احساسِ محرومی کی وجہ سے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا، اگر جنوبی پنجاب کی عوام نے اپنا حق لینے کے لیے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا،اگر پنجاب کے عوام نے ان کی نا اہلی کی وجہ سے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا اگر پختونخواہ نے اپنی انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیاتو تمہاری جعلی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دینگے ۔
میں کہتا ہوں تم ہمارے صبر کا امتحان مت لو تم سے پہلے بھی بہت فرعون آئے ان کے انجام سے سبق سیکھو ،پاکستا ن پیپلز پارٹی کے جیالوں کو مت للکارو اگرتم باز نہ آئے تو پھر تمہیں سکھائیں گے کے ووٹ کی چوری کا بدلہ کیسے لیا جاتا ہے ،یاد رکھو زہریلی زبان چلانے سے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکتا بد زبانی کی سیاست سے رواداری کے پھول نہیں کھل سکتے ،الزام تراشی سے آپ کی جھوٹی انا کی تسکین تو ہو سکتی ہے لیکن غریب عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتا ،کانٹوں کی جھاڑیوں سے آپ کا دامن تو تار تار ہوسکتا ہے لیکن ان سے سایا نہیں مل سکتا آج PTIکی حکومت بھی کانٹوں کی جھاڑیوں میں تبدیل ہو چکی ہے ،پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ اس حکومت کو کچھ نہیں آتا ،اس افلاطونی حکومت کو آج تک یہ پتا نہیں چل سکا کے روپے کی قدر کم کیوں ہوئی Speedکی Lightسے چلنے والی حکومت کو یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کے معیشت کا پہیا جام کیوں ہو چکا ہے انڈوں اور مرغیوں سے ،
Foreign Exchange Reserves بڑھانے والی حکومت کو یہ بھی پتا نہیں چل سکا کے ایک دن میں (500)ارب کا قرضہ کیسے بڑھا ؟
قرضہ لینے سے خود کشی کو فوقیت دینے والے آج قرضہ ملنے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں یہ وہ ہی لوگ ہیں جنہوں نے (2018)کے انتخابات میں پورے پاکستان سے ووٹ چوری کیے لیکن سندھ کے غیور عوام نے ان کی بھر پور کوششوں کے باوجود ان کی دھاندلی کو ناکام بنا دیا اپنے ووٹ کا پہرا دیا اپنا ووٹ چور ی نہیں ہونے دیا تو یہ (3)مہینے بعد سندھ کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے آئے اور مایوس ہو کر بھاگ گئے سندھ نے پھر کہا کے ہم لاڈلوں کو بھی نہیں مانتے،ہم کٹ پتلیوں کو بھی نہیں مانتے،ہم کسی جعلی JITکو بھی نہیں مانتے،ہم سیاسی انتقام کا مقابلہ کریں گے ہم ان کے ECL،NABاور جیل کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ہم ضیاء کے کوڑوں ،جیلوں اور پھانسی گھاٹ سے نہیں ڈرے،ہم احتساب الرحمان کی
جیلوں تشدد اور ظلم سے نہیں ڈرے ہم مشرف کی جیلوں،جلاوطنی اور دہشتگردی سے نہیں ڈرے، تم کیا چیز ہو؟
تم تو کٹ پتلی ہو،تم تو بے نامی وزیر اعظم ہو
تم تیر آزماؤ، ہم جگر آزمائینگے،تم ستم آزماؤ،ہم صبر آزمائینگے
اور دیکھیں گے کہ آخری فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے
جئے بھٹو جئے بی بی جئے عوام
آپ سب کا شکریہ۔۔۔۔۔

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پارٹی کے سینئر ترین رہنما سابق سینیٹر ملک حاکمین خان کے انتقال کی وجہ سے پارٹی کے عہدیداروں اور ذیلی تنظیموں کو ہدایت کی ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پارٹی کے سینئر ترین رہنما سابق سینیٹر ملک حاکمین خان کے انتقال کی وجہ سے پارٹی کے عہدیداروں اور ذیلی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ کل بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ صرف دعائیہ تقریب تک محدود ہو۔ ملک حاکمین خان کے سوگ میں سالگرہ کے کیک نہ کاٹے جائیں۔ سابق صدر نے مرحوم ملک حاکمین خان نے صاحبزادے شاہان ملک سے ٹیلی فون پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ملک حاکمین خان کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک حاکمین خان بہادر اور ثابت قدم رہنما پارٹی کا انمول اثاثہ تھے۔ ان کا انتقال پارٹی کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک حاکمین خان نے آمروں کا بہادری اور بے خوفی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ وہ ہر قدم پر شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا وفادار ساتھی رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ملک حاکمین خان کی قربانیوں، جدوجہد اور ثابت قدمی کو کبھی نہیں بھولے گی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ بھٹو خاندان دکھ کی اس گھڑی میں ملک حاکمین خان کے خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ آصف علی زرداری نے مرحوم حاکمین خان کے بلند درجات اور مغفرت کی بھی دعا کی۔

اسلام آباد

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ملک حاکمین خان جن کا انتقال جمعہ کے روز لاہور میں ہوگیا تھا ان کی نماز جنازہ ہفتہ کے روز سہ پہر تین بجے ان کے آبائی گاﺅں اٹک میں ہوگی۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے سابق وزیراعظم و پی پی پی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ان کی 91 ویں سالگراہ کے موقعے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے سابق وزیراعظم و پی پی پی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ان کی 91 ویں سالگراہ کے موقعے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت و جیالے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فلسفے، ویژن اور مشن کو پایئہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئے سرگرمِ عمل رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نہ فقط شہید بھٹو کے نظریئے پر سختی سے کاربند رہنا ان کا نصب العین ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو ان کے مشن سے کمٹمنٹ، سیاسی ویژن، تدبر اور بھادری کے متعلق بھی آگہی دینا ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو غیرمعمولی طور ذرخیز ذھن کے مالک تھے، جمہوریت بے مثال طور ان کے خون میں ایسے رچی بسی تھی اور بینظیر سیاسی ویژن کے بل بوتے وہ ایک متفقہ دستور تخلیق کرنے میں بھی سرخرو ہوئے۔ وہ ہتھیار ڈالنے والے 90 ہزار جنگی قیدیوں کو بھارت سے واپس لانے، پاکستان کی ہزاروں میلوں پر مبنی زمین بھارتی قبضے سے واگذار کرانے اور تاریخی شملہ معاہدہ کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھنے سے لے کر اسٹیل ملز اور پورٹ قاسم جیسے سینکڑوں میگا پروجیکٹس کے ذریعے ملک میں معاشی انقلاب برپا کیا اور یونیورسٹیاں و اسپتالیں قائم کیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید بھٹو کے عدالتی قتل نے عوام کو ان کی خدمات اور صدیوں میں پیدا ہونے والے عظیم مدبر سے محروم کردیا، لیکن ان کی سیاسی میراث ناقابل تسخیر ہے، جو پاکستان میں جمہوریت کے اقدار اور معیار کی آبیاری کرتی رہے گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی خواتین رہنماﺅوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود حکومت کا ای سی ایل میں شامل کئے گئے 172افراد کے ناموں پر نظرثانی نہ کرنا توہین عدالت کے مترادف ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کی خواتین رہنماﺅوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود حکومت کا ای سی ایل میں شامل کئے گئے 172افراد کے ناموں پر نظرثانی نہ کرنا توہین عدالت کے مترادف ہے،حکومت ایف آئی اے سے ملکر اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہی ہے،اوگرا نے حکومت کو تیل کی قیمت 9.50روپے کم کرنے کی تجویز دی تھی،لیکن حکومت نے صرف4.50روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے،حکومت نے چین سے 2ارب ڈالر کا قرضہ لیا،جس پر 8.50فیصد شرح سود ادا کی جائے گی،رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی پانچ خطرناک اسٹاک مارکیٹوں میں شامل ہے،وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے سندھ سے 12لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں،مودی کہتا تھا کہ پاکستان کا پانی بند کردیں گے لیکن ہماری اپنی وفاقی حکومت کہتی ہے کہ سندھ کا پانی بند کردیں گے،ان کو دوست سمجھیں یا دشمن۔ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔پیپلزپارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈینیٹر نذیر ڈوکی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ 172لوگوں کا نام ای سی ایل میں کیوں شامل کیا گیا۔جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ کی پراپرٹی ہوتی ہے،اس پر وفاقی وزراءکس طرح بات کرتے ہیں اور وفاقی حکومت کا حصہ وزیر اعلیٰ سندھ کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا گیا اور اس حوالے سے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اس پر نظرثانی کی جائے لیکن وفاقی کابینہ کی میٹنگ میں اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،صرف کمیٹی بنائی گئی یہ سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین کے مترادف ہے۔انہوںنے کہا کہ سندھ حکومت کےخلاف سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل نہیں کیا گیا،حکومت ایف آئی اے کے ساتھ ملکر انتقامی کارروائی کر رہی ہے،پی ٹی آئی منی بجٹ کیوں لے کر آرہی ہے،دو دفعہ روپے کی قدر میں کمی کی گئی اور تیل کی قیمتیں بڑھائی گئیں،اوگرا کی تجویز کے مطابق حکومت نے پٹرول کی قیمتیں کم نہیں کیں،17فیصد ٹیکس لگا دئیے ہیں،وزیرخزانہ کہتے تھے کہ بین الاقوامی ریٹ کم ہوتے ہیں لیکن ملک میں پٹرولیم کے ریٹ زیادہ ہوتے ہیں،لیکن اب ان کو نظر نہیں آرہا،مہنگائی عروج پر چلی گئی ہے،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور چائنا کے پاس وزیراعظم ڈالر لینے کیلئے گئے لیکن اب بتایا جائے کہ وہ ڈالر کہاں گے؟۔چین سے کمرشل لون لیا گیا،جس پر 8فیصد سود ادا کیا جائے گا۔پاکستان کی سٹاک مارکیٹ دنیا کی پانچ خطرناک ترین سٹاک مارکیٹوں میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ڈویلپمنٹ بجٹ میں300ارب روپے کی کٹوتی کردی ہے۔کار کے رینٹل پاور پروجیکٹ اور ریکوڈیک میں 8ارب روپے کے جرمانے ہوئے ہیں،اس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔اگر پیپلزپارٹی کو دیوار کے ساتھ لگایا گیا تو ردعمل ہوگا،تین بار وزیراعظم رہنے والے سے کمرے کی صفائی کرانے کی مذمت کرتے ہیں اور جو گند موجودہ حکومت ڈال رہی ہے یہ کون صاف کرے گا؟۔پلوشہ خان نے کہا کہ سندھ سے 10لاکھ لوگوں کو وفاقی حکومت نے بے روزگار کردیا،یہ مدینہ کی ریاست نہیں بلکہ اسرائیل کی ریاست لگتی ہے جہاں پاکستانیوں سے فلسطینیوں جیسا سلوک ہورہا ہے۔حکومت علیمہ خان،علیم خان اور جہانگیر ترین کو کیوں نہیں پکڑتی،سندھ کی حکومت گرانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب میں خفیہ درخواستیں آتی ہیں اور اپوزیشن کے لیڈروں کی پکڑ دھکڑ کی جارہی ہے لیکن حکومتی وزرائ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی،ایک وزیر جس نے استعفی دیا اس کے بیٹے کو بہت بڑا ٹھیکہ دیا گیا۔18ویں ترمیم اور این ایف سی پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔پاکستان پیپلزپارٹی پی ٹی آئی حکومت کو گرانا نہیں چاہ رہی،فوجی عدالتوں کی توسیع کے حوالے سے کوئی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ڈیسکون پاکستان کو دیا گیا ہے جو کہ وزیر اعظم کے مشیر تجارت کی کمپنی ہے

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمن ©تیرنز کے سیکریٹری جنرل سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مطالبہ کیا ہے کہ مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ڈیسکون پاکستان کو دیا گیا ہے جو کہ وزیر اعظم کے مشیر تجارت کی کمپنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیکہ دینا انتہائی غیر اخلاقی ہے اور یہ ایک بہت بڑے اسکینڈل کی ابتدا ہے جس کی شفاف طریقے سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ایک بیان میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارٹی نے دو روز تک انتظار کیا کہ حکومت کی جانب سے کوئی قابل قدر وضاحت آئے گی لیکن جب حکومت نے وضاحت دی تو اس سے بہت سارے مزید سوالات سامنے آگئے اور حکومت کی جانب سے کسی معقول وضاحت نہ آنے کے بعد پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اس ٹھیکے کی شفاف تحقیقات کرائی جائٰں اور جب تک تحقیقات جاری رہتی ہیں تو وزیر تجارت کو اپنا عہدہ چھوڑ دیانا چاہیے۔ فرحت اللہ بابر نے مندرجہ ذیل سوال پوچھے:-
کہ کیا یہ درست ہے کہ دیگر دوسرے بولی دینے والوں کی بولیاں ٹیکنیکل بنیادوں پر مسترد کرکے ڈیسکون کے لئے میدان خالی چھوڑ دیا گیا؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ ضروری نہیں کہ دیگر بولیاں دینے والے نااہل ہوگئے تو نئی بولیوں کے لئے دوبارہ نئے سرے سے اعلان کیا جاتا؟
انہوں نے کہا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ ڈیسکون نے اپنی بولی عام انتخابات کے بعد جمع کرائی؟
انہوںنے یہ بھی پوچھا کہ دیگر بولیاں دینے والوں کی نااہلی کے کتنے عرصے بعد ڈیسکون کی بولی کھولی گئی تھی؟
انہوںنے یہ سوال بھی کیا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ پیپرا رولز اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ صرف ایک واحد بولی کو قبول کر لیا جائے؟ اس شرط کو نظرانداز کرنے کے لئے کیا طریقہ اپنایا گیا؟
یہ وضاحت کے ڈیسکون اس جوائنٹ وینچر میں صرف 30فیصد کا حصہ دار ہے انتہائی مضحکہ خیز ہے اور یہ معاملے کو چھپانے کی مجرمانہ کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف دوروز قبل خیبرپختونخواہ اسمبلی کے سابق اور موجودہ اسپیکر صاحبان اسمبلی میں ایک سینئر افسر کی تقرری کے معاملے اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل ہی کابینہ نے سی ڈی اے کو حکم دیا کہ وہ وزیراعظم کی بنی گالہ میں رہائش گاہ کو ریگولرائز کرنے کے لئے سی ڈی اے کے ماسٹر پلان میں تبدیلی کرے۔ ابھی اس اسکینڈل کی بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ مہمند ڈیم کا اسکینڈل سامنے آگیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے گھر کو صاف کرے اور یہ بھی کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نہ صرف حکومتی کرپٹ عناصر کو بے نقاب کرے گی بلکہ ان کا پیچھا بھی کرے گی چاہے وہ کتنے ہی اعلیٰ عہدے پر فائز کیوں نہ ہوں اور اخلاقی طور پر کتنے ہی گرے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں۔

** میڈیا سیل بلاول ہاوَس کے انچارج سریندر ولاسائی کا پارٹی قیادت کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر ردعمل

** میڈیا سیل بلاول ہاوَس کے انچارج سریندر ولاسائی کا پارٹی قیادت کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر ردعمل

** عمران خان اور اس کی ٹیم من و عن گورباچوف کی پیروی میں مصروف ہے

** پاکستان کھپے والوں کے لیئے ای سی ایل اور آئین شکنوں کے لیئے طوطا چشمی ہے

** یہ رسمِ نیا پاکستان ہے، عوامی قیادت و اساتذہ مقید جبکہ آئین شکن و الیکشن چور آزاد

** یہ بھی رسم چلی ہے کہ جمہور، دستور اور وفاقی اکائیوں کا کوئی نہ تذکرہ کرے

** پارلیامان کو بااختیار بنانا، صوبوں کو حقوق دینا، بلوچستان سے معافی مانگنا جرم بن چکا ہے

** کٹھ پتلی وزراء کہتے ہیں کہ جمہوریت کے تذکرے سے ملک کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں

** جعلی خان سے جو سوال کرے گا، اس کے لیئے نیب، ایف آئی اے اور جے آئی ٹی ہے

** جس نے بھی کٹھ پتلیوں کی نااہلی، یوٹرنز اور جھوٹ کو آشکار کیا، اس نے نیب کی دشمنی مول لی

** منگو تنگو معیشت، انتقام اور کٹھ پتلی حکمران، یہ ہے نیا پاکستان؟

** معیشت بربادی کی سونامی میں ڈوب گئی، ملک مہنگائی کی آگ میں جل رہا ہے

** لیکن نیرو خان اپنے محل میں چین کی بانسری بجا رہا ہے

** کٹھ پتلی حکومت کے اطوار آئس ڈرگ کے نشئیوں جیسے ہیں، عوام سے لاتعلق بن چکی

** مہنگائی کی ستائی ہوئی عوام نے کٹھ پتلی حکومت کو تین طلاقیں دے چکی

جاری کردہ

سریندر ولاسائی
انچارج
میڈیا سیل بلاول ھائوس

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ

پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار

پیپلز پارٹی کی قیادت کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سخت مذمت کرتے ہیں ، شیری رحمان

پیپلز پارٹی اس طرح کی سازش اور میڈیا ٹرائل سے نہیں ڈرتی ، شیری رحمان

بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل میں ڈال کرتحریک انتقام نے اپنا اصل چہرہ دکھا دیا ہے ، شیری رحمان

بی بی شہید کی برسی کے دن ان کے خاندان کو ای سی ایل میں ڈالا گیا، شیری رحمان

بی بی کی شہادت والے دن ان کے خاندان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا عمل شرم ناک ہے ، شیری رحمان

بلاول بھٹو پر اس وقت کے کیسز بنائے گئے ہیں جب وہ ایک سال کے تھے ، شیری رحمان

ڈرتے ہیں گالی والے ایک مہذب لڑکے سے ، شیری رحمان

کیا پاکستان تحریک انتقام بلاول بھٹو زرداری کی تقریروں سے ڈر رہی ہے ، شیری رحمان

ارکان پارلیمان کا نام ای سی میں ڈالنے کی روایت غیر جمہوری ہے ، سینیٹر شیری رحمان

جمہوریت کے لبادے میں آمریت کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی، شیری رحمان

اس حکومت کا ایجنڈا عوامی مسائل نہیں سیاسی انتقام ہے ، شیری رحمان

آصف علی زرداری کبھی عدالتوں اور جیلوں سے نہی بھاگے، نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان

پاکستان تحریک انتقام اورجے آئی ٹی کی ملی بھگت سے ہم نہیں ڈرتے، شیری رحمان

تحریک انتقام پوری سندھ حکومت کو مفلوج کر رہی ہے ، شیری رحمان

ای سی ایل میں نام ڈالنے کا فیصلہ کورٹ نے نہیںپاکستان تحریک انتقام کی حکومت نے کیا ہے، شیری رحمان

پاکستان تحریک انتقام اطمینان کر لے ہم اسی ملک میں رہ کے سازش کا مقابلہ کرے گے، سینیٹر شیری رحمان

چار ماہ میں تحریک انصاف کے کتنے لوگ ای سی ایل میں ڈالے گئے ہیں ، سینیٹر شیری رحمان

عمران خان نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکلوایا تاکہ وہ ان کے ساتھ دورے پر جا سکے، شیری رحمان

زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکلوانے تک عمران خان کا طیارہ ایئرپورٹ پر رکا رہا، شیری رحمان

حکومت احتساب اور انتقام میں فرق جان لے ورنہ دمادم مست قلندر ہوگا، شیری رحمان

احتساب کا عمل یکطرفہ ہے، احتساب کرنا ہے تو سب کا کریں اور شروعات اپنے گھر سے کریں ، شیری رحمان

ترجمان چیئرمن پیپلز پارٹی سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا ای سی ایل پر ردعمل

وفاقی کابینہ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ احتساب نہیں انتقام ہو رہا ہے، ترجمان بلاول بھٹو

چیئرمن بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل پر ڈالنا تحریک انصاف حکومت کی شکست کا اعتراف ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر

وزیراعلیٰ سندھ کی بیرون ملک جانے پر پابندی ون یونٹ کے الزام کی تائید ہے، ترجمان بلاول بھٹو
اگر وزیراعلیٰ کا نام ایک ای سی ایل آ سکتا ہے تو وزیراعظم کا کیوں نہیں ؟، مصطفیٰ نواز کھوکھر

سیلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان پر کرپشن الزامات کی نیب تحقیقات کر رہا ہے، ترجمان بلاول بھٹو

جن وفاقی وزرا پر کرپشن کے الزامات ہیں ان کے نام ای سی ایل پرکیوں نہیں ڈالے جا رہے، مصطفیٰ نواز کھرکھو

وفاقی کابینہ کے فیصلے سے لگتا ہے کہ عمران خان کو گھر جانے کی جلدی ہے، ترجمان بلاول بھٹو

عمران خان ضیا الحق کا ادھورا خواب پورا کرنے کیلئے آمرانہ اقدام پر اترا آئے ہیں، مصطفیٰ نواز کھوکھر

عمران خان کے آمر استاد ایوب خان، ضیا الحق پی پی کو ختم کرنے کی حسرت دل میں لئے چلے گئے، ترجمان بلاول بھٹو

سلیکٹ وزیراعظم زندہ آمر مشرف کا ہی حال دیکھ کر سبق حاصل کر لے، مصطفیٰ نواز کھوکھر

خان صاحب اداروں کے پیچھے چھپ کر وار کر رہے ہیں، ترجمان بلاول بھٹو

عمران خان میں ہمت ہے تو کھل کر سامنے آئے، مصطفیٰ نواز کھوکھر

ہم ماضی میں بھی سرخرو ہوئے اور یہ جنگ بھی پیپلز پارٹی ہی جیتے گی، ترجمان بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر پاکستان و پی پی پی پارلیامینٹرین کے صدر آصف علی زرداری کی زیرصدارت پارٹی کے سینیئر رہنماوَں اور اراکین اسمبلی کا اہم اجلاس بلاول ہاوَس کراچی میں ہوا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر پاکستان و پی پی پی پارلیامینٹرین کے صدر آصف علی زرداری کی زیرصدارت پارٹی کے سینیئر رہنماوَں اور اراکین اسمبلی کا اہم اجلاس بلاول ہاوَس کراچی میں ہوا۔ اجلاس کے دوران شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے 11 ویں یوم شہادت کے موقعے پر گڑھی خدابخش میں ہونے والے جلسہ عام کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سید خورشید احمد شاہ، قائم علی شاہ، قمر الزمان کائرہ، نثار احمد کھڑو، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، سردار لظیف کھوسہ علی مدد جتک، ہمایوں خان، چودھری لطیف اور پارٹی کے دیگر رہنماوَں، وزراء اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ مشکل حالات سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ مشکل حالات میں وہ ہمیشہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں موجودہ حالات کو مشکل وقت نہیں کہتا۔ مشکل وقت وہ تھا، جس کا سامنا شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کیا تھا، جنہوں نے ضیاء جیسے بدترین آمر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خلاف لگائے جانے والے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ جھوٹے دستاویزات کے ذریعے ہمیں ڈرایا، دھمکایا نہیں جاسکتا۔ ہم پر جتنا ظلم کیا جائیگا، ہم برداشت کا بھی اتنا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہم اِتنا برداشت کریں گے کہ ظلم کرنے والے تھک جائیں گے۔ آصف علی زرداری نے کہا 27 دسمبر کو پاکستان کی عوام ثابت کرے گی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم نہیں کیا جاسکتا اور انشااللہ پیپلز پارٹی عوام کی حمایت سے الیکشنز جیتے گی اور وفاق سمیت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتیں بھی بنائے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا یوم شہادت بھرپور عقیدت و احترام سے منایا جائیگا اور اس موقعے پر پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیوٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران پارٹی کی نئی حکمت عملی تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ون یونٹ کی جانب دھکیلنے کی سازش کی جارہی ہے۔ ایک طرف پانی اور گئس بند کردیئے گئے تو دوسری جانب صوبائی حکومت کو اس کے جائز فنڈز بھی نہیں دیئے جا رہے۔ کالاباغ ڈیم کی حمایت میں مہم بھی چلائی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو 1973ع کا آئین دیا، جبکہ بعد میں آنے والے آمر اس متفقہ دستور کا حلیہ بگاڑتے رہے۔ ہم نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے 1973ع کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا۔ ہم 18 ترمیم کے معاملے پر کسی مصلحت کا شکار نہیں ہونگے۔ ہم نے ہمیشہ غیرجمہوری قوتوں کو شکست دی ہے۔ 27 دسمبر کو ملک طول و عرض سے ہر مکتبہ فکر کے لوگ گڑھی خدابخش میں جمع ہو کر سازشی عناصر کو شکست فاش سے ہمکنار کریں گے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ حالات کے مطابق کسی بھی پارٹی سے اتحاد کیا جاسکتا ہے‘

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبا یونین کی بحالی سے جمہوری کلچر پروان چڑھتا ہے۔ آمرانہ ذہنیت، سیاسی شعوراور جمہوری کلچر سے خائف ہوتے ہیں اس لئے ہر سطح پر جمہوریت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ منگل کے روز زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن وسطی پنجاب کے صدر موسیٰ کھوکھر، جنرل سیکریٹری وقاص احمد عباسی کے زیر قیادت وفد نے بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں کامران نثار وڑائچ، حافظ احمد شہزاد اور راجہ ذیشان شامل تھے۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن کی شاندار تاریخ ہے۔ پی ایس ایف سے تعلق رکھنے والے طالب علموں نے جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لئے تاریخی قربانیاں دیں، تشدد اور مشکلات برداشت کیں، کئی نوجوانوں نے قوم کے روشن مستقبل کے لئے قید و بند کی مشکلات برداشت اور اپنا مستقبل قربان کیا۔ وفد نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اس بات کا یقین دلایا کہ طلبا کی قوت آپ کے ساتھ ہے، آپ کی صورت میں نوجوان قائد ملنا یہ قدرت کا عظیم تحفہ ہے۔طلبا نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے تعلیمی اداروں کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی آزادیوں اور یونینوں کے انتخابات کے حق میں ہیں۔ پیپلزپارٹی اقتدار میں آکر تعلیمی اداروں میں یونینوں کے انتخابات کے لئے طلبا کے حقوق بحال کرے گی۔انہوں نے کہا کہ طلبا نے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا جس طرح ساتھ دیا تھا میرا بھی ساتھ دیں۔ ہم مل کر شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفے اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے منشور کی روشنی میں ترقی یافتہ پاکستان بنائیں گے جہاں جمہوری روایات ہوں گی ۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا کلچر ہوگا۔ پیپلزپارٹی ملک کو بھوک، بدحالی، بیروزگاری، دہشتگردی اور شدت پسندی جیسے اندھیروں سے پاک کرے گی۔ اس موقع پر فرحت اللہ بابر اور سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر بھی موجود تھے۔