خبر آرکائیو

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی ز رداری نے سینیٹر مشاہد حسین سید کے والدکرنل امجد حسین کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی ز رداری نے سینیٹر مشاہد حسین سید کے والدکرنل امجد حسین کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی قریبی عزیز کی وفات خاندان کے لئے بہت ہی زیادہ دکھ کا باعث ہوتی ہے ، خاص طور پر والد کی وفات ایک عظیم سانحہ ہوتی ہے۔ سابق صدرنے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب اور غمزدہ خاندان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم ممالک کے بارے میں کہتے ہیں کہ

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے ایران میں ہونے والی دہشتگردی کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے ایران میں ہونے والی دہشتگردی کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ے کہ دنیا کو پرامن بنانے کے لئے تمام ممالک دہشتگردوں کا صفایا کریں۔ اپنے ایک بیان میں سابق صدر نے ایران کے روحانی پیشوا امام خمینی کے مزار اور ایران کی پارلیمنٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایران کی حکومت اور عوام سے ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا۔

اسلام آباد

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے دوحہ ایئرپورٹ پر پھنسے پاکستانیوں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے دوحہ ایئرپورٹ پر پھنسے پاکستانیوں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر اہل وطن کی بحفاظت وطن واپسی کے اقدامات کرے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ ملک کے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ سابق صدر نے کہا کہ ایک طرف پاکستانی دوحہ ایئرپورٹ پر مشکلات کا شکار ہیں اور دوسری طرف ان کے خاندان اور رشتے دار پریشان ہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ جتنا جلد ممکن ہوسکے دوحہ ایئرپورٹ پر پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی کو ممکن بنایا جائے۔

کراچی(31 مئی) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے نوازلیگ رہنما سینیٹر نہال ہاشمی کی جانب سے پاناماکیس کی جے آئی ٹی میں شامل افسران کو دھمکیاں دینے پر شدیدردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے

کراچی(31 مئی) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے نوازلیگ رہنما سینیٹر نہال ہاشمی کی جانب سے پاناماکیس کی جے آئی ٹی میں شامل افسران کو دھمکیاں دینے پر شدیدردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہال ہاشمی کی تصویرکے پیچھے نوازشریف اور چودھری نثار کی زبان بولی جارہی ہے، جاری کردہ بیان میں سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، عدالتوں پر حملہ نواز شریف کا وطیرہ رہا ہے، نہال ہاشمی کی دھمکیوں سے لگتا ہے کہ نواز شریف اور ان کے چہیتے اعلیٰ عدلیہ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ خود ایک آمر کے سامنے گھٹنے ٹیک کر تحریری معاہدہ کرکے ملک سے بھاگنے والے آج دوسروں کو ملک میں جینا حرام کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، نہال ہاشمی نے حساس اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کے افسران کو کھلی دھمکیاں دی ہیں اگر نہال ہاشمی کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہوتا تو اب تک اس کے خلاف ازخود نوٹس بھی آجاتا۔

زرداری کے کارکنوں کی جانب خیبرپختونخوا حکومت کی بے حسی کی مذمت

کراچی (05مئی 2017) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جس طرح دنیا تیزی سے تقسیم در تقسیم کی جانب مائل ہے

کراچی (05مئی 2017) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جس طرح دنیا تیزی سے تقسیم در تقسیم کی جانب مائل ہے، ان حالات میں ہمیں تصوف کی جتنی ضرورت آج ہے ، پہلے کبھی نہ تھی۔ مختلف مذہبوں، ثقافتوں اور لوگوں کے درمیان پل بنانے، ہمیں یہ یاد دلانے کے لئے کہ ہم اپنے جوہر میں سب ایک اور ایک جیسے ہیں اور ہمیں متحد رکھنے کے لئے تصوف کی عالمی زبان درکار ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت کی جانب سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ عالمی صوفی کانفرنس سے خطاب میں کیا ۔کانفرنس میں تصوّف پر گفتگو کے لئے 12 ممالک سے صوفی اسکالرز کو مدعو کیا گیا تھا، جنہوں نے کانفرنس میں موجود منتخب شرکاء کو اپنے سیرحاصل خیالات سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پی پی پی سندھ کے صدر و وزیر خوراک نثار احمد کھوڑو، وزیر ثقافت سردار علی شاہ اور دیگر نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ سب سے پہلے بیرون ممالک سے کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والے اسکالرز اور دیگر شخصیات کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ جب اعلیٰ پائے کے اسکالرز مل بیٹھ کر بحث مباحثہ کریں گے تو یہ عمل انسان ذات کے مستقبل کے متعلق ان کو پر امید بنانے کا باعث بنے گا۔ صوفی ہمیشہ ذات کی تبدیلی کا پیغام دیتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اگر ہم اپنے اطراف کو تبدیل یا فتح کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں سب سے پہلے خود کو تسخیر اور زیر کرنا ہوگا۔ جب کبھی میں اپنے تئیں صوفی از م کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھ پر خوشی اور خوف کے ملے جلے اثرات تاری ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ عظیم قوت ہے جو ایک صوفی کسی نفس سے جوڑے رکھتا ہے۔ بین المذاہب آہنگی، مذہبی رواداری اور اجتماعیت ،ہم ان اصطلاحات کو کم و بیش روز ہی سنتے ہیں اور ہمارے جیسے اصلاح اور ترقی پسند اس وقت اچھل پڑتے ہیں کہ جب ہمارے سامنے اس خرابی کو دور کرنے کا سوال آتا ہے جس سے پورے سماج میں خرابی جنم لیتی ہے لیکن جہاں تک صوفی کا تعلق ہے تو اس نے صدیوں پہلے اس مسئلے کی تمام جزئیات کو ایک دوسرے سے نتھی کردیا تھا۔ صدیوں پہلے ، وہ صوفی ہی تھے جنہوں نے وادی سندھ میں اسلام کی تبلیغ کی ، پیار ، ہم آہنگی کے ذریعے داتا صاحب، رحمان بابا، بلے شاہ اور ان کے دیگر ہم عصر شخصیات نے جانفشانی سے ریاضت کی اور ان کی بندگی سے متاثر ہوکر لاکھوں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔افسوس کہ آج کل انتہا پسندی کو تمغے کی طرح سجایا جاتا ہے، جو بھی دروغ گوئی کرتے ہیں وہ سزا سے مبرا ہو کر ، بلا خوف و خطر کرتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ بہت سارے لوگوں کو دھوکہ دیا جائے تاکہ وہ ان ہی کی بنائی گئی بات کو سچ سمجھ لیں۔ اس اثناء میں کامل سچائی کی آواز( اور مجھے یہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے ) بہت ہی مدھم سی ہوتی ہے اور ایسا جب ہوتا ہے ، ہم پہلے انتہا پسندی کو مان لیتے ہیں۔ پہلی بار ہم اپنے باطن کی سچائی کو زبردستی خاموش کردیتے ہیں اور ایک انتہا پسند ذہنیت کی تائید کرتے ہیں۔ پہلی مرتبہ ہم محبت نہیں بلکہ خوف کے باعث دعا کرتے ہیں۔ پہلی بار ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ ہماری تنہا معقول آواز دیگر نا معقول آوازوں سے لڑنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس طرح ہم جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ صوفی کے پاس بھی اس کے اپنے ہتھیار ہوتے ہیں: سچ، پیار اور قبولیت کا ہتھیار۔ شفا کی جانب پہلا قدم قبولیت ہے۔ جیسے رومی نے کہا تھا کہ ’’ زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی آپ کے اندر داخل ہوتی ہے۔‘‘ آج ہمارا معاشرہ بہت ہی زخمی ہے اور علاج نہ ہونے کے باعث زخم مسلسل گل رہا ہے۔ ہم میں سے اکثر اتنے خوفزدہ ہیں کہ بیماری کی تشخیص کرنے سے کتراتے ہیں، اتنے خوفزدہ ہیں کہ اس اضطراب کو ظاہر نہیں کرتے، اس کو روشنی لگنے نہیں دیتے تاکہ وہ زخم بھرنا شروع ہوجائے۔سندھ کو صوفیوں کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا ہے، لعل شہباز قلندر سے شاہ عبدالطیف بھٹائی تک ، سچل سرمست سے شاہ عنایت تک۔ ہم سچ اور صرف سچ کی خاطر اٹھنے کے لئے پابند ہیں۔ اس میں کیا تعجب کہ بھٹو خاندان کا تعلق اسی سرزمین سے ہے۔جب میری والدہ شہیدمحترمہ بے نظیر بھٹو نے سچائی کا علم بلند کیا، اس وقت بہت کم تعداد میں لوگ تھے جو ان کے ساتھ ہم آواز بننے کے لئے تیار تھے اور اس سے بھی کم لوگ تھے جو اس کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے سچائی کے مشعل بردار صوفیوں کی قابل فخر روایات کی پیروی کرتے ہوئے بلاخوف و خطر اپنا سفر جاری رکھا۔ ایمانداری اور عدم تشدد کے تحت جنگ لڑتی رہیں لیکن سب سے اہم جنگ وہ تھی جو نا انصافی کے خلاف تھی ،جو کہ سچائی کی کامیابی کی جنگ تھی۔جب وحشی درندوں نے حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملہ کیا تو ہم سب اندر سے بری طرح ہل کر رہ گئے تھے۔ جو زائرین اس حملے میں شہید ہوئے وہ ہمارے وجود کا ہی حصہ تھے۔ ہم اپنے گرد و پشن گنوا بیٹھے ، تباہ حال ہوئے اور اپنی منزل سے بھٹک گئے۔ قصہ مختصر یہ کہ ہم گمراہ ہو گئے۔

پھر یوں ہوا کہ جس خوبصورت اور روحانی مقام پر خود کش بمبار نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا ، وہاں ایک شخص نے فیصلہ کر لیا کہ وہ بزدل نہیں بنے گا۔ وہ اٹھا اور اس مزار کا گھنٹہ بجایا اور پھر جب وہ گھنٹہ بجا تو اس نے دو کام کئے۔ اوّل یہ کہ اس اس نے ہمیں اندھیرے گڑھے میں جہاں ہم بل کھا رہے تھے ، ہماری رہنمائی کی اور دوئم یہ کہ ہر اس انتہا پسند کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہواجو اجتماعیت پسند پاکستان کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔خطرے کی گھنٹی جب بجتی ہے تو خبردار کرتی ہے اور اس ایک واقعہ نے تمام انتہا پسندوں کے لئے ہمیشہ کے لئے فنا کر دیئے جانے کا سامان کردیا ہے۔ ہم پر بھی اب لازم ہے کہ ہم اپنے عقائد کا کھل ک

کراچی(یکم مئی) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے

کراچی(یکم مئی) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت نے توانائی منصوبوں میں غفلت کا مظاہرہ کیا، جاری کردہ بیان میں سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ شریف برادران اپنی کرپشن اور نااہلی چھپانے کے لیے سابقہ حکومت پر الزام تراشی کر رہی ہے،شہباز شریف، اگر سابقہ حکومت نے کچھ نہیں کیا تو آپ ہی تیر مار لیتے، سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ سابقہ پیپلزپارٹی حکومت نے بجلی پیداوار بڑہانے کے لیے 41.4 بلین روپے پی ایس او کو دیے،گیلانی حکومت نے توانائی سیکٹر کے گردشی قرضوں میں نمایاں کمی کی، جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ میں واضح کمی ہوئی تھی لیکن نواز حکومت نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کی کوئی ایک بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی، وزیراعظم اور شہباز شریف سے لے کر ان کے تمام وزراء قوم کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی روز

یورپی یونین کے اراکین

زرداری ہاؤس اسلام آباد میں آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات