خبر آرکائیو

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے خانیوال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی رفعت حیات ڈاہا کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے خانیوال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی رفعت حیات ڈاہا کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ سابق صدر نے مرحوم رفعت حیات ڈاہا کے صاحبزادے وسیم حیات ڈاہا کو فون کرکے ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ سابق صدر نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک خاندان کی طرح ہے۔ اس خاندان کے دکھ اور خوشیاں سانجھی ہیں۔ بھٹو خاندان اور پاکستان پیپلزپارٹی دکھ کی اس گھڑی میں آپ کے ساتھ ہے۔ آصف علی زرداری نے مرحوم رفعت حیات ڈاہا کی پارٹی کے لئے خدمات کو سراہاتے ہوئے دوا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

کراچی(4اکتوبر) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا ہے

کراچی(4اکتوبر) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا ہے کہ18اکتوبر کو حیدرآباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے جلسہ عام کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں اس سلسلہ میں پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر و سینئر صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو نے جلسہ کی پبلسٹی اور آرگنائیزنگ کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں، پبلسٹی کمیٹی میں پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما مولا بخش چانڈیو، صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ، سینیٹر عاجز دھامراہ، شرجیل انعام میمن، پیپلزپارٹی حیدرآباد ڈویژن کے سیکریٹری اطلاعات آفتاب خانزادہ اورحیدرآباد ڈسٹرکٹ کے سیکریٹری اطلاعات احسان ابڑو شامل ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی حیدرآباد ڈویژن کے صدر سید علی نواز شاہ رضوی کی سربراہی میں آرگنائیزنگ کمیٹی میں پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما مولابخش چانڈیو، ڈویژنل جنرل سیکریٹری دوست علی جیسر، حیدرآباد ضلع کے صدر صغیر قریشی، جنرل سیکریٹری علی محمد سہتو، پیپلزپارٹی خواتین ونگ سندھ کی صدر شگفتہ جمانی، ایم این اے سید امیر علی شاہ جاموٹ،صوبائی وزیرجام خان شورو، مخدوم رفیق الزماں، شرجیل انعام میمن، زاہد بھرگڑی، عبدالجبار خان، عرفان گل مگسی اور قاضی اسد عابد شامل ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی فاٹا کے اراکین اسمبلی کی جانب سے فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے کے لئے مطالبے کے لئے 9اکتوبر کو فاٹا کے اراکین کی جانب سے مظاہرے میں شرکت کرے گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی فاٹا کے اراکین اسمبلی کی جانب سے فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے کے لئے مطالبے کے لئے 9اکتوبر کو فاٹا کے اراکین کی جانب سے مظاہرے میں شرکت کرے گی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں فاٹا کے اراکین کے ایک وفد سے ملاقات میں انہیں یقین دہانی کروائی کہ پارٹی ان کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے اور فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے اصلاحات چاہتی ہے۔ فاٹا کے اراکین کے وفد کی سربراہی رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے کی اور اراکین قومی اسمبلی حاجی بسم اللہ خان، ناصر خان اور بلال رحمن وفد میں شامل تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اس ملاقات میں رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی، سینیٹر فرحت اللہ بابر، نیر حسین بخاری، سردار علی خان اور قیوم سومرو موجود تھے۔ وفد سے باتیں کرتے ہوئے آصف علی زردری نے کہا کہ پی پی پی فاٹا کے کے پی میں ضم ہونے کی حمایت کرتی ہے کیونکہ انتظامی، سماجی، ثقافتی، لسانی، سیاسی اور جغرافیائی طور پر فاٹا کا کے پی میں ضم ہونا سب سے منطقی حل ہے۔ اس کی مخالفت منطق کو جھٹلانا ہے۔ آصف علی زرداری نے فاٹا کے اس مطالبے کی بھی حمایت کی کہ پشاور ہائی کورٹ کے اختیار کو فاٹا تک وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ کابینہ نے پہلے پشاور ہائی کورٹ کے اختیارات کو قبائلی علاقوں تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا اور پھر اچانک ہی نہ جانے کیوں اسے واپس لے لیا۔ اگر فاٹا کو بالآخر کے پی میں جم ہونا ہے تو پشاور ہائی کورٹ کے اختیارات کو فاٹا تک وسعت دینا عقل کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب فاٹا کے پی میں ضم ہو جائے گا تو اسلام آباد ہائی کورٹ سے سارے مقدمات پشاور ہائی کورٹ منتقل کرنا پڑیں گے اور اس وقت اس کے کیا مضمرات ہوں۔ سابق صدر زرداری نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پولیٹیکل ایجنٹ کو یکطرفہ طور پر ٹیکس، سیس اور راہداری کے اختیارات ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کی بجائے پولیٹیکل ایجنٹ کے لئے انتظامی اخراجات کے لئے بجٹ میں رقم مختص کی جائے اور اس رقم کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے کروایا جائے۔ فاٹا کے اراکین قومی اسمبلی نے سابق صدر کی جانب سے ان کے مطالبات کی حمایت کرنے پر سابق صدر کا شکریہ ادا کیا بعد میں آصف علی زرداری نے وفد کو ایک عشائیہ دیا۔

 

 

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے یوم عاشور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے یوم عاشور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف مذاحمت کے لئے امام حسینؓ کی پیروی کریں کیونکہ حضرت امام حسینؓ کی قربانی، زیادتی، جھوٹ اور ناانصافی کے خلاف ہر قیمت پر اور ہر صورتحال میں مذاحمت کے لئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ پیغام گزشتہ کل کے لئے بھی تھا، آج کے لئے بھی ہے اور آنے والے کل کے لئے بھی صادق ہے۔ بلا شک و شبہ یہ پیغام عالمی ہے، اس کی کوئی سرحد نہیں اور اس پیغام کے لئے وقت کی کوئی قید نہیں۔ انہوںنے کہا کہ ظلم اور زیادتی وقت کے ساتھ اپنا لبادہ تبدیل کرتی رہتی ہے اور ہمارے وقت میں اس نے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور مذہب کے نام پر دہشت پھیلا رکھی ہے۔ آج ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ظالم کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے۔ آج کا دن حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جو انسانی تہذیب کے لئے منارائے روشنی ہے اور آنے والی نسلوں تک منارائے روشنی رہیں گی۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری سے زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں برطانوی رکن پارلیمنٹ سیدہ ناز شاہ کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری سے زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں برطانوی رکن پارلیمنٹ سیدہ ناز شاہ کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان برطانیہ تعلقات برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی ملک کے لئے خدمات اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سید نیر حسین بخاری، سینیٹر فرحت اللہ بابر، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور اور چوہدری یاسین بھی موجود تھے۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے لیفٹیننٹ ارسلان عالم کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے لیفٹیننٹ ارسلان عالم کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ایک تعزیتی پیغام میں سابق صدر نے کہا کہ جواں سالہ ارسلان عالم کی بہادری پر قوم اور ملک کو فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افواج کے ایسے جری اور بہادر جوانوں کے ہوتے ہوئے کوئی دشمن ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرا ¿ت نہیں کر سکتا۔ شہید لیفٹیننٹ ارسلان عالم کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی قوم، بھٹو خاندان اورپاکستان پیپلزپارٹی آپ کے دکھ میں برابرکی شریک ہے۔

 

پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو چیلنج دیتی ہے کہ وہ وطن واپس آکر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں آکر عدالتوں کا سامنا کریں اور اس کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل6 کے تحت غداری کے مقدمے کا بھی سامنا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف قانون اور عدالتوں کے بھگوڑے ہیں اور ان میں یہ ہمت نہیں کہ وہ لاہور ہائی کورٹ میں اپنے خلاف مقدمے کا وطن واپس آکر سامنا کر سکیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ بزدل آدمی کی نشانی ہے کہ وہ ہاتھ اٹھا کرمارنے کی دھمکی تو دیتا ہے لیکن اس میں مارنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف آصف علی زرداری کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں تین اپیلوں کی سماعت جمعرات کے روز قابل سماعت ہونے کے بعد گھبرا گئے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں پہلے فریق نہیں بننے دیا گیا تھا اور جنرل مشرف یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان کا جرم کبھی بھی بے نقاب نہیں ہوگا اور وہ سزا سے بچ جائیں گے۔ راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے 31اگست کے فیصلے کے بعد آصف علی زرداری متاثر فریق کی حیثیت سے اس مقدمے کے فریق بنے اور اب جنرل مشرف کو انصاف کے کٹہڑے تک لانے تک ان کا پیچھاکریں گے۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے جنرل مشرف کو بھگوڑا قرار دے کر ان کا کیس الگ کر دیا تھا لیکن آصف علی زردری کی اپیل کی وجہ سے انسداد دہشتگردی کی عدالت کا 8مئی کا حکم اور 31اگست کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں آصف علی زرداری کی اپیل منظور ہونے کے بعد ختم ہوگیا۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جنرل مشرف کو اچھی طرح پتہ ہے کہ زرداری کی جانب سے اس کا پیچھا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اب یہ سابق ڈکٹیٹر جو خود کو کمانڈو کہتا ہے گھبرا گیا ہے۔ جنرل مشرف کی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو یہ دھمکی کہ اگر وہ 2008ءکے انتخابات سے قبل وطن واپس جاتی ہیں تو وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالیں گی اور جنرل مشرف کی جانب سے ان کو سکیورٹی فراہم نہ کرنا اظہر من الشمس ہیں اور ان کی اسی قسم کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔ جنرل مشرف کی جانب سے انتہاپسندوں کی طرف سے سرپرستی کرنا بھی دنیا پر عیاں ہے۔ جنرل مشرف جب اقتدار میں تھے تو انہوں نے روشن خیالی کے دعوے سے دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی لیکن جب وہ اقتدار میں نہیں رہے تو انہوں نے تسلیم کیا کہ اس نے طالبان کی مدد کی تھی۔ جنرل مشرف کو معلوم ہے کہ جلد یا بدیر قانون کے لمبے ہاتھ اس تک پہنچ جائیں گے اور وہ راولپنڈی کے کسی ہسپتال میں پناہ لینے کے قابل بھی نہیں ہوگا۔جنرل مشرف قابل رحم شخص ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ قانون قدرت کی نظر میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے سینیٹر ہری رام کی جانب سے الیکشن بل 2017ءپر ترمیم کرنے پراحتجاج کرنے کو سراہا ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے سینیٹر ہری رام کی جانب سے الیکشن بل 2017ءپر ترمیم کرنے پراحتجاج کرنے کو سراہا ہے۔ یہ بل غیرمسلموں کے خلاف تعصب تھا۔ سینیٹر ہری رام نے ایوان کو اس بات پر راضی کر لیا کہ ایوان نے اس ترمیم کو مسترد کر دیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ نے سیکشن 110 میں یہ ترمیم پیش کی تھی کہ ہر انتخابی امیدوار ایک مذہبی حلف اٹھائے گا چاہے اس کا مذہب کوئی بھی ہو۔ اس ترمیم کی وزیر قانون یاحکومتی بنچوں نے مخالفت نہیں کی تھی اور اس طرح اس کی منظوری کے لئے راستہ ہموار کر دیا تھاتاہم سینیٹر ہری رام نے اس پر احتجاج کیا کہ ہر غیر مسلم کو بھی ایسا مذہبی حلف لینا پڑے گا جو صرف مسلمان امیدواروں کے لئے مخصوص ہے۔ اس پر بحث و مباحثے کے بعد سینیٹروں کی اکثریت نے ہری رام کے موقف سے اتفاق کیا اور اس بل کو مسترد کر دیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے ہری رام کی ہمت اور ان کے موقف کے بارے واضح موقف کی تعریف کی اور کہا کہ ہری رام نے پارٹی اصولوں کو مقدم رکھا ہے اور بڑے حوصلے اور عزم کے ساتھ انہوںنے پارٹی کے اصولوں کی پاسداری کی جس پر وہ تعریف کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ غیرمسلموں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا کرتی رہے گی۔

 

کراچی(21ستمبر) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے ترجمان سینیٹر عاجز دھامراہ نے پرویز مشرف کے ویڈیو بیان کے ردعمل میں کہا ہے

کراچی(21ستمبر) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے ترجمان سینیٹر عاجز دھامراہ نے پرویز مشرف کے ویڈیو بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ شہید بینظیر بھٹو قتل کیس میں قانون کے ہاتھ اپنی طرف دیکھ کر مشرف بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں،اس کا یہ ویڈیو خود ان کا اعتراف ہے وہ نہ صرف شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہیں بلکہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کی سازش کے ایک کردار بھی ہیں، جاری کردہ بیان میں سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قاتل مشرف ہیں انہوں نے ہی شہید بینظیر بھٹو کو وطن واپس نہ آنے کی دھمکی تھی،اور انہیں مکمل سیکیورٹی بھی نہیں مہیا کی، مشرف کے ہاتھ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور وہ بچ نہیں پائیں گے،انہوں نے کہا کہ اگر آمر مشرف میں ہمت ہے تو پاکستان آکر یہ سب باتیں عدالت کے سامنے کریں،سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ مشرف یہ بتائیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت حکمران کون تھا؟ کس نے جائے وقوعہ سے تمام شہادتیں مٹانے کا حکم دیا تھا؟ انہوں نے کہا مشرف کی بوکھلاہٹ سے وہ شہید بینظیر بھٹو کے قتل سے خود کو بری نہیں کر سکتے، وقت آ چکا ہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں مشرف کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

جاری کردہ
شعبہ اطلاعات
پاکستان پیپلزپارٹی سندھ

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے یوم وفات (11ستمبر( کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے یوم وفات (11ستمبر( کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج ہمیں اس عہد کی تجدید کرنی چاہیے کہ پاکستان کو ایک جمہوری، ترقی پسند، فلاحی اور لبرل ریاست بنائیں گے بجائے اس کے کہ پاکستان ایک ملائیت یا خوف کی ریاست بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی فلاح و بہبود ہی قومی اتحاد، سماجی ہمواری اور ملک کے تحفظ کی ضامن ہے۔ ہم آج اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ قائداعظم کے بتائے ہوئے اصولوں پر کاربند رہیں گے۔ آج ہمیں پہلے سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ عسکریت پسندی کی سوچ کو مسترد کر دیں اور درگزر، برداشت کو اختیار کریں اور مخالفت کی آواز برداشت کریں۔ عسکریت پسندی کی سوچ سے لڑنے کے لئے آزادی اظہار کو فروغ دیں جس کی ضمانت قانون دیتا ہے اور اس کی مدد سے ریاست کا متبادل بیانیہ بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں آزادانہ تحقیقات اور بحث و مباحثہ صرف تعلیمی اداروں ہی میں نہیں بلکہ عام زندگی میں بھی رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے دن سابق صدر نے ان لوگوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لئے قربانیاں دیں اور قیام پاکستان کے بعد ملک میں آئین اور جمہوریت کے لئے اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں قربانیاں پیش کیں۔