کراچی (05مئی 2017) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جس طرح دنیا تیزی سے تقسیم در تقسیم کی جانب مائل ہے، ان حالات میں ہمیں تصوف کی جتنی ضرورت آج ہے ، پہلے کبھی نہ تھی۔ مختلف مذہبوں، ثقافتوں اور لوگوں کے درمیان پل بنانے، ہمیں یہ یاد دلانے کے لئے کہ ہم اپنے جوہر میں سب ایک اور ایک جیسے ہیں اور ہمیں متحد رکھنے کے لئے تصوف کی عالمی زبان درکار ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت کی جانب سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ عالمی صوفی کانفرنس سے خطاب میں کیا ۔کانفرنس میں تصوّف پر گفتگو کے لئے 12 ممالک سے صوفی اسکالرز کو مدعو کیا گیا تھا، جنہوں نے کانفرنس میں موجود منتخب شرکاء کو اپنے سیرحاصل خیالات سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پی پی پی سندھ کے صدر و وزیر خوراک نثار احمد کھوڑو، وزیر ثقافت سردار علی شاہ اور دیگر نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ سب سے پہلے بیرون ممالک سے کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والے اسکالرز اور دیگر شخصیات کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ جب اعلیٰ پائے کے اسکالرز مل بیٹھ کر بحث مباحثہ کریں گے تو یہ عمل انسان ذات کے مستقبل کے متعلق ان کو پر امید بنانے کا باعث بنے گا۔ صوفی ہمیشہ ذات کی تبدیلی کا پیغام دیتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اگر ہم اپنے اطراف کو تبدیل یا فتح کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں سب سے پہلے خود کو تسخیر اور زیر کرنا ہوگا۔ جب کبھی میں اپنے تئیں صوفی از م کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھ پر خوشی اور خوف کے ملے جلے اثرات تاری ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ عظیم قوت ہے جو ایک صوفی کسی نفس سے جوڑے رکھتا ہے۔ بین المذاہب آہنگی، مذہبی رواداری اور اجتماعیت ،ہم ان اصطلاحات کو کم و بیش روز ہی سنتے ہیں اور ہمارے جیسے اصلاح اور ترقی پسند اس وقت اچھل پڑتے ہیں کہ جب ہمارے سامنے اس خرابی کو دور کرنے کا سوال آتا ہے جس سے پورے سماج میں خرابی جنم لیتی ہے لیکن جہاں تک صوفی کا تعلق ہے تو اس نے صدیوں پہلے اس مسئلے کی تمام جزئیات کو ایک دوسرے سے نتھی کردیا تھا۔ صدیوں پہلے ، وہ صوفی ہی تھے جنہوں نے وادی سندھ میں اسلام کی تبلیغ کی ، پیار ، ہم آہنگی کے ذریعے داتا صاحب، رحمان بابا، بلے شاہ اور ان کے دیگر ہم عصر شخصیات نے جانفشانی سے ریاضت کی اور ان کی بندگی سے متاثر ہوکر لاکھوں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔افسوس کہ آج کل انتہا پسندی کو تمغے کی طرح سجایا جاتا ہے، جو بھی دروغ گوئی کرتے ہیں وہ سزا سے مبرا ہو کر ، بلا خوف و خطر کرتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ بہت سارے لوگوں کو دھوکہ دیا جائے تاکہ وہ ان ہی کی بنائی گئی بات کو سچ سمجھ لیں۔ اس اثناء میں کامل سچائی کی آواز( اور مجھے یہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے ) بہت ہی مدھم سی ہوتی ہے اور ایسا جب ہوتا ہے ، ہم پہلے انتہا پسندی کو مان لیتے ہیں۔ پہلی بار ہم اپنے باطن کی سچائی کو زبردستی خاموش کردیتے ہیں اور ایک انتہا پسند ذہنیت کی تائید کرتے ہیں۔ پہلی مرتبہ ہم محبت نہیں بلکہ خوف کے باعث دعا کرتے ہیں۔ پہلی بار ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ ہماری تنہا معقول آواز دیگر نا معقول آوازوں سے لڑنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس طرح ہم جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ صوفی کے پاس بھی اس کے اپنے ہتھیار ہوتے ہیں: سچ، پیار اور قبولیت کا ہتھیار۔ شفا کی جانب پہلا قدم قبولیت ہے۔ جیسے رومی نے کہا تھا کہ ’’ زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی آپ کے اندر داخل ہوتی ہے۔‘‘ آج ہمارا معاشرہ بہت ہی زخمی ہے اور علاج نہ ہونے کے باعث زخم مسلسل گل رہا ہے۔ ہم میں سے اکثر اتنے خوفزدہ ہیں کہ بیماری کی تشخیص کرنے سے کتراتے ہیں، اتنے خوفزدہ ہیں کہ اس اضطراب کو ظاہر نہیں کرتے، اس کو روشنی لگنے نہیں دیتے تاکہ وہ زخم بھرنا شروع ہوجائے۔سندھ کو صوفیوں کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا ہے، لعل شہباز قلندر سے شاہ عبدالطیف بھٹائی تک ، سچل سرمست سے شاہ عنایت تک۔ ہم سچ اور صرف سچ کی خاطر اٹھنے کے لئے پابند ہیں۔ اس میں کیا تعجب کہ بھٹو خاندان کا تعلق اسی سرزمین سے ہے۔جب میری والدہ شہیدمحترمہ بے نظیر بھٹو نے سچائی کا علم بلند کیا، اس وقت بہت کم تعداد میں لوگ تھے جو ان کے ساتھ ہم آواز بننے کے لئے تیار تھے اور اس سے بھی کم لوگ تھے جو اس کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے سچائی کے مشعل بردار صوفیوں کی قابل فخر روایات کی پیروی کرتے ہوئے بلاخوف و خطر اپنا سفر جاری رکھا۔ ایمانداری اور عدم تشدد کے تحت جنگ لڑتی رہیں لیکن سب سے اہم جنگ وہ تھی جو نا انصافی کے خلاف تھی ،جو کہ سچائی کی کامیابی کی جنگ تھی۔جب وحشی درندوں نے حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملہ کیا تو ہم سب اندر سے بری طرح ہل کر رہ گئے تھے۔ جو زائرین اس حملے میں شہید ہوئے وہ ہمارے وجود کا ہی حصہ تھے۔ ہم اپنے گرد و پشن گنوا بیٹھے ، تباہ حال ہوئے اور اپنی منزل سے بھٹک گئے۔ قصہ مختصر یہ کہ ہم گمراہ ہو گئے۔

پھر یوں ہوا کہ جس خوبصورت اور روحانی مقام پر خود کش بمبار نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا ، وہاں ایک شخص نے فیصلہ کر لیا کہ وہ بزدل نہیں بنے گا۔ وہ اٹھا اور اس مزار کا گھنٹہ بجایا اور پھر جب وہ گھنٹہ بجا تو اس نے دو کام کئے۔ اوّل یہ کہ اس اس نے ہمیں اندھیرے گڑھے میں جہاں ہم بل کھا رہے تھے ، ہماری رہنمائی کی اور دوئم یہ کہ ہر اس انتہا پسند کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہواجو اجتماعیت پسند پاکستان کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔خطرے کی گھنٹی جب بجتی ہے تو خبردار کرتی ہے اور اس ایک واقعہ نے تمام انتہا پسندوں کے لئے ہمیشہ کے لئے فنا کر دیئے جانے کا سامان کردیا ہے۔ ہم پر بھی اب لازم ہے کہ ہم اپنے عقائد کا کھل ک