Archive for July, 2017

پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران کے خطاب میں صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے الزامات لگانے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے

کراچی(31جولائی) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران کے خطاب میں صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے الزامات لگانے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان ہمیشہ اپنی اناء اور ضد کے گھوڑے پر سوار ہو کر پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہیں،جلسہ سے خطاب کے دوران بھی انہوں نے پیپلزپارٹی پر تنقید کی ہے لیکن وہ بھول گئے ہیں کہ اگر ملکی تاریخ میں کسی پارٹی کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے یا کسی ایک پارٹی کا کٹھن سے کٹھن احتساب کیا گیا ہے وہ پاکستان پیپلزپارٹی ہے، سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ عمران یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آصف علی زرداری کا وہ نام لے رہے ہیں ان کو بغیر کسی ثبوتوں کے جیلوں میں ڈالا گیا، تمام کیسز اور ریفرنسز کا کوئی ثبوت نہ مل سکا، ہم تو کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری کو بلا کسی ثبوت کے 11 سال جیل میں رکھنے کا حساب دیا جائے،سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ احتساب کے حوالے سے پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت پہلی باری بھگت چکی ہے لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں سب کے لیے ایک جیسا احتساب کرنے کے لیے ایک بل سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے عمران خان اس بل کو قومی اسیمبلی سے منظور کروانے میں مدد کریں، اگر عمران خان خود کو صاف شفاف رہنما سمجھتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے احتساب کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے،وہ الیکشن کمیشن میں بیرونی فنڈنگ میں غبن پر کیوں جواب نہیں دیتے ہیں؟ وہ سپریم کورٹ میں اپنا منی ٹریل کیوں آگے پیچھے کر رہے ہیں،وہ سب سے پہلے تو اپنے احتساب کی بات کریں، آج عمران خان کو چاہیے کہ وہ اداروں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کیس دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کریں، سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ عمران خان ہمیں دھمکیاں دے رہیں لیکن نہ وہ اس ملک کے وزیراعظم ہیں نہ ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں نہ ہی کسی ادارے کے سربراہ،جو وہ خود اپنی مرضی سے کسی کا احتساب کریں گے، اس طرح تو آمروں نے اپنی مرضی کا احتساب کیا، نواز شریف نے بھی اپنی مرضی کا احتساب کیا، ان کے بوس مشرف نے بھی مرضی کا احتساب کیا اب عمران خان بھی یہ شوق پورا کر لیں۔

سوشل میڈیا پر سابق صدر آصف علی زرداری کے متعلق ایک مبینہ اقامہ کی فوٹو کاپی دراصل جعلی، منگھڑت اور فوٹو شاپ کے ذریعے بنائی گئی ہے

سوشل میڈیا پر سابق صدر آصف علی زرداری کے متعلق ایک مبینہ اقامہ کی فوٹو کاپی دراصل جعلی، منگھڑت اور فوٹو شاپ کے ذریعے بنائی گئی ہے تاکہ سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کو بدنام کیا جا سکے اور یہ ان لوگون کا کام ہے جو پاکستان کے تمام سیاسی طبقے کی ساکھ خراب کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عمل انتہائی گھناﺅنا اورقابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ آصف علی زرداری ابوظہبی کے وزارت صدارتی امور کی جانب سے جاری کئے گئے ویزے پر یو اے ای میں جا کر قیام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر کے پاس کسی بھی کمپنی کی ملازمت یا پارٹنرشپ کا کوئی اقامہ نہیں اور سوشل میڈیا پر یہ غلط اور جھوٹی فوٹو کاپی دکھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے بعد کچھ لوگوں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے یہ مہم شروع کی ہے تاکہ عوامی نمائندوں اور سیاستدانوں کو بدنام کیا جا سکے اور ان کی ساکھ خراب کی جا سکے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سابق صدر کے خلاف اس قبیح مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ ملک کے مفاد میں کام نہیں کررہے۔ جو لوگ آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی اور منتخب نمائندوں کو بدنام کرنا چاہتے انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں خود ان کی الماریوں میں ان کے رازوں کے ڈھانچے تو نہیں چھپے ہوئے اور اگر وہ ایسا کرلیں تو انہیں یہ احساس ہو جائے گا کہ انہیں بھی بہت سارے سوالات کے جوابات دینا پڑ سکتے ہیں لیکن ابھی تک وہ احتساب سے بچتے رہے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی محترمہ فریال تالپور نے کہا ہے

 پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی محترمہ فریال تالپور نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری نے پانچ سالہ عہد صدارت کے دوران پارٹی کے بانی چیئرمین قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے مشن کی تکمیل کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ 1973ءکے آئین کی اصل صورت میں بحال اور پارلیمنٹ کو خودمختار کرنا محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا مشن اور سوات میں قومی پرچم سربلند کرناتھا۔ صدر آصف علی زرداری نے 1973ءکا آئین اصل صورت میں بحال کرکے اور پارلیمنٹ کو خود مختار کرکے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے مشن کی تکمیل اور سوات میں قومی پرچم لہرا کر اپنے وعدے کو پورا کیا۔ محترمہ فریال تالپور نے کہا کہ گلگت بلتستان اور کے پی کے عوام کو اپنی شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری صد آصف علی زرداری کا وژن ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اقتصادی راہداری کے ثمرات چاروں صوبوں کے عوام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی ملیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے صوبوں کو خودمختاری دے کر قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کے وعدے کی تکمیل اور این ایف سی ایوارڈکے زریعے تمام صوبوں سے معاشی انصاف دیا۔ محترمہ فریال تالپور نے کہا کہ صدر آصف علی زراری کے زیر قیادت جمہوری حکومت نے پانچ سال کے درمیان سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ کیا اور بےنظیر انکم پروگرام کے ذ ©ریعے ملک بھر کی غریب خواتین کی مالی اعانت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو اپنے قائد آصف علی زرداری پر فخر ہے جنہوں نے طویل قید کاٹی ، اصولوں پر ثابت قدم رہے اور بہادری کی مثال قائم کی۔ تقریب میں پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری، ندیم افضل چن، رانا فاروق سعید، نرگس فیض ملک سمیت دیگر پارٹی کارکنوں نے شرکت کی۔ تقریب میں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔

 

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے لاہور میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے لاہور میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کی نرسریوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ منصوبہ سازوں کو بھی کچل دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم انسانوں کے قاتل وحشی درندے ہیں۔ ان کے جرائم ناقابل معافی ہیں۔ سابق صدر نے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے ورثا سے ہمدردی اور تعزیت اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ درایں اثناءچیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ زخمیوں کی زندگی بچانے کے لئے خون کے عطیات دئیے جائیں۔ لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اس سوچ کو شکست دینا ہوگی جو سوچ شدت پسندی کو جنم دے رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے ورثا سے تعزیت کا اظہار بھی کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

 

سینیٹر شیری رحمان کا وزیراعظم کی تقریر پر رد عمل

سینیٹر شیری رحمان کا وزیراعظم کی تقریر پر رد عمل
اسلام آباد، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے نوازشریف کے سیالکوٹ میں خطاب پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنرل ضیاءالحق نے شریف خاندان کو ایک روپیہ کے عیوض اتفاق فونڈری واپس کی۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ نوازشریف قوم کو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ جنرل ضیاءالحق نے اس وقت کروڑوں روپے بھی دیئے تھے۔انہوں نے سوال کیا کہ شریف خاندان کو اگر کاروبار میں خسارہ ھو رھا تھا تو بیرونی ملک پراپرٹی کیسے بنائی۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ۔ماضی سے لیکر99تک نوازشریف کی کرپشن کے راز فاش ھو چکے ہیں۔ پاکستان کو بحران سے نکالیں اور احتساب کے عمل کو یقیتی بنائیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ وزیراعظم اب عدالت اور ملک کو مینا بازار کہہ رہے ہیں جو بہت افسوسناک ہے۔ اگران کو یے تماشا لگ رہاہے تو اس تماشے کے زمیدار بھی خود شریف خاندان ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ منی ٹریل دے کر آپ اس تماشے کو ختم کر دیں ،آپ منی ٹریل کیوں نہیں دیتے ؟

شیری رحمان نے کہا کہ جے آئی ٹی کو حکومت خود متنازع کر رہی ہے؛ کورٹ کے باہر جی آئی ٹی پر حکومت خود سیاست کر رہی ہے, چند دن پہلے نواز لیگ والے خود کا شہید بھٹو اور بی بی شھید سے موازنہ کر رہے تھے , شھید بھٹو کا عدالتی قتل ہوا انہوں نے ڈکٹیٹر سےکوئی ڈیل نہی کی, سیاسی کیسز بنا بی بی شھید کو ہر چھوٹی بڑی عدالت میں بلایا گیا , پی پی پی نے ہمیشہ عدالتوں کہ فیصلوں پر عمل کیا ہے .آپ سیاسی انتقام کا سامنہ نہی کر رہے آپ احتساب کا سامنا کر رہے ہی

شیری رحمان نے کہا کہ ملکی صنعت اور تجارت کو بہتر کرنے کہ دعویدار پہلے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کا جواب دیں. شریف خاندان کہ اپنے کاروبار کے علاوہ تمام صنعت اور تجارت خسارے کا شکار ہے۔ پچھلے چار سال میں بیرونی تجارتے خسارہ 99 ارب ڈالر ہو گیا؛ پھر بھی وریراعظم صنعت اور تجارت جو آسمان کی بلندی پر لے جانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ شاید ان جو ان کے مشیر اصل حقائق سے آگاہ نہی کرتے۔

شیری رحمان نے کہا کہ ملک اندھیروں میں ڈوب رہا ہے اور یے اندھیرے ختم کرنے کی دعوہ کرتے ہیں. ابھی بھی ملک کےدیہی علائقوں میں سولہ سے اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ حکومت ان منصوبوں کا افتتاح کر رہی ہے جو پی پی پی حکومت نے شروع کئے تھے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ز رداری نے کہا ہے کہ مہذب معاشرے کے لئے خواتین کی عزت اور احترام ضروری ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ز رداری نے کہا ہے کہ مہذب معاشرے کے لئے خواتین کی عزت اور احترام ضروری ہے۔ آمرانہ دور میں خواتین پر تشدد اور انہیں جیل میں قید کیا گیا۔ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے خواتین کا شاندان کردار رہا ہے۔ پیپلزپارٹی شعبہ خواتین پنجاب کے ایک وفد جس میں صدر مسز ثمینہ گھرکی، نائب صدر ناصرہ جاوید میو اور جنرل سیکریٹری نرگس فیض ملک پر مشتمل وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو فخر ہے کہ مادر عوام بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے جمہوریت ا ور آئین کی بحالی کے لئے تاریخی اور بے مثال جدوجہدکی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ محترمہ بینظیر شہید اور مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی بہادری اور جدوجہد پارٹی کے لئے مشعل راہ ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ معاشرے میں خواتین کو باوقار مقام دلوانا پارٹی کا منشور اور مقصد ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اس مقصد کے لئے شروع کیا کہ ریاست کے ثمرات غریب ماﺅں بہنوں تک پہنچیں۔ پاکستان پیپلزپارٹ کی حکومت نے خواتین پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کے خلاف موثر قانون سازی کی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے خواتین عہدیداروں کو ہدایت کی کہ پارٹی کو مضبوط کریں اور ممبر سازی پر توجہ دیں۔ مستقبل میں خواتین کا اہم کردار ہے۔ چیئرمیں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے ضمنی انتخابات میں خواتین نے پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار کو کامیاب کرنے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری آپ کے ساتھ ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کا پاکستان بنانے کے لئے جہاں خواتین کی عزت اور احترام کے ساتھ ساتھ ریاست میں اہم مقام حاصل ہو کے لئے ضروری ہے کہ شعبہ خواتین اہم کردار ادا کرے۔ درایں اثناءچیئرمین پیپلزپارٹی سے آج سینیٹر سحر کامران، چوہدری یاسین، سید میر محمد ، نجم دین خان سمیت پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے ملاقاتین کیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ز رداری نے کہا ہے کہ پاراچنار دہشتگردی سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ز رداری نے کہا ہے کہ پاراچنار دہشتگردی سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ دہشتگردوں نے پاراچنار کو معصوم اور بے گناہ انسانوں کے خون سے سرخ کر دیا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکن پاراچنار کے غمزدہ خاندانوں کے دکھ اور درد میں برابر کی شریک ہے۔ پیپلزپارٹی پاراچنار کے رہنما قلبِ عباس نے آج زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں ملاقات کرکے پاراچنار کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قلب عباس کو ہدایت کی کہ وہ پاراچنارکے شہیدوں کے ورثاءتک پارٹی کا پیغام پہنچائیں گے کہ ان کا دکھ اور درد ہمارا دکھ اور درد ہے۔ ہم اس سوچ کو ختم کریں گے جو شدت پسندی کو فروغ دیتی ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی سے پیپلزپارٹی راولپنڈی ضلعی، سٹی اور کینٹ کے عہدیداروں کے وفود نے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ، سیکریٹری اطلاعات، چوہدری منظور بھی موجود تھے۔ وفود سے باتیں کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں دھاندلی نہیں کرنے دی جائے گی۔ اس لئے پارٹی کارکن عوام کی قوت سے انتخابات جیتنے کی تیاری کریں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا منشور ہی عوام کے بنیادی مسائل کا حل ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اقتدار میں آکر جب عوام کو روزگار دیتی ہے تو اس کا مطلب روٹی، کپڑا ور مکان کے خواب کی تعبیر ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت سے لے کر کراچی تک پاکستان پیپلزپارٹی ایک طاقت کا نام ہے۔ جو غریبوں، مزدوروں، محنت کشوں، طالب علموں ، نوجوانوں، خواتین سمیت ہر مکتب فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ وفود میں چوہدری ظہیر، راجہ نذیر، اختر شاہ، تبسم منیر ستی، راجہ منصور، ملک نیر ندیم، توقیر عباسی، محمد شاہد، شاہد ستی، شاہد بشیر، راجہ نورالٰہی، بابر سلطان جدون، جمیل قریشی، ملک عاصم اکبر، سردار قدوس، آگاہ ثاقت ریاض، راجہ عرفان حیدر، فیصل شاہ، ذوالفقار احسن، چوہدری ذوالفقار، ناصر میر، ذیشان مہدی، بنارس چوہدری، ناصر کاظمی، ایاز پپو، چوہدری فرخ، سید زاہد شاہ، ملک ایوب، راجہ یعقوب، علی منہاس، رانا شوکت، ملک ظہیر، حاجی عبدالجبار، وجاہت علی خان ایڈووکیٹ، شہزاد میر، انجم علی ایڈووکیٹ، میاں عبدالرشید، ملک قاسم، ادریس ایڈووکیٹ، عمران بٹ، شیخ ثاقب نعیم، حسنین اشرف، احسان محبوب، راجہ طارق اور شفیق جدون شامل تھے۔ درایں اثناءسابق گورنر کے پی مسعود کوثر، پیپلزپارٹی کے پی کے صدر ہمایوں خان، جنرل سیکریٹری فیصل کریم کنڈی، عرفان ہوتی، نگہت اورکزئی اور رحیم یارخان سے سابق رکن قومی اسمبلی جاوید وڑائچ نے بھی ملاقات کی۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے جمعرات کو پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے رہنمافیصل ممتاز راٹھور کی رہائش گاہ پہنچ کر ان کی والدہ اور آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم ممتاز راٹھور کی بیوہ کے انتقال پر تعزیت کی۔ اس موقع پر پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری بھی ان کے ہمراہ تھے۔

 

پاکستان پیپلزپارٹی نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے وزراء کی جانب سے ہفتہ کے روز جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرنے کی دھمکیوں کہ اگر قطری شہزادے کا بیان پاناما لیکس میں نہیں ریکارڈ کیا گیا

پاکستان پیپلزپارٹی نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے وزراء کی جانب سے ہفتہ کے روز جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرنے کی دھمکیوں کہ اگر قطری شہزادے کا بیان پاناما لیکس میں نہیں ریکارڈ کیا گیا تو وہ اس رپورٹ کو مسترد کر دیں گے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران خاندان ابتدا ہی سے بھاگنا چاہ رہا تھا۔ چند وفاقی وزراء کی جانب سے جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل ہونے سے قبل ہی اسے مسترد کرنے کے بیانات دئیے جا رہے ہیں جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن)  جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کرنا چاہتی ہے چاہے قطری شہزادہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو یا نہ ہو۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے چار وفاقی وزراء کی پریس سے گفتگو کے جواب میں یہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاع کے گواہ کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش کرنا حکمران خاندان کی ذمہ داری تھی اور حکمران خاندان کو یہ ذمہ داری لینا تھی اور یہ کسی اور کی ذمہ داری نہیں تھی کہ قطری شہزادے کو جے آئی ٹی کی عدالت کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہی اصول اس وقت بھی عمل میں لایاگیا تھا جب سوئس حکام کو ملک کے صدر کے خلاف خط لکھنے کے کیس میں سید یوسف رضا گیلانی سپریم میں پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز کے وزراء فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کا غداری کے کیس میں ان کے گھر سے بیان اور واشنگٹن میں مارک سیگل کا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شہید بینظیر بھٹو کے قتل کے کیس میں بیان مثالوں کے طور پر پیش کر رہے ہیں جبکہ یہ مثالیں قطعی غلط ہیں کیونکہ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جنرل مشرف کی جراح جیل میں ہوئی تھی کیونکہ ان کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا گیا تھا جبکہ مارک سیگل نے اپنا بیان واشنگٹن میں پاکستانی ایمیبسی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ریکارڈ کرایا تھا نہ کہ اپنے گھر سے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اگر قطری شہزادہ اپنا بیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ریکارڈ کرانا چاہتا ہے تو وہ دوحہ میں پاکستانی سفارتخانے سے ایسا کر سکتا ہے۔ یہ ذمہ داری حکمران خاندان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بیان کو یقینی بنائے کہ وہ قطری شہزادے کا بیان پاکستانی سفارتخانے سے دلوائے۔