پاکستان پیپلزپارٹی نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے وزراء کی جانب سے ہفتہ کے روز جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرنے کی دھمکیوں کہ اگر قطری شہزادے کا بیان پاناما لیکس میں نہیں ریکارڈ کیا گیا تو وہ اس رپورٹ کو مسترد کر دیں گے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران خاندان ابتدا ہی سے بھاگنا چاہ رہا تھا۔ چند وفاقی وزراء کی جانب سے جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل ہونے سے قبل ہی اسے مسترد کرنے کے بیانات دئیے جا رہے ہیں جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن)  جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کرنا چاہتی ہے چاہے قطری شہزادہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو یا نہ ہو۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے چار وفاقی وزراء کی پریس سے گفتگو کے جواب میں یہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاع کے گواہ کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش کرنا حکمران خاندان کی ذمہ داری تھی اور حکمران خاندان کو یہ ذمہ داری لینا تھی اور یہ کسی اور کی ذمہ داری نہیں تھی کہ قطری شہزادے کو جے آئی ٹی کی عدالت کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہی اصول اس وقت بھی عمل میں لایاگیا تھا جب سوئس حکام کو ملک کے صدر کے خلاف خط لکھنے کے کیس میں سید یوسف رضا گیلانی سپریم میں پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز کے وزراء فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کا غداری کے کیس میں ان کے گھر سے بیان اور واشنگٹن میں مارک سیگل کا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شہید بینظیر بھٹو کے قتل کے کیس میں بیان مثالوں کے طور پر پیش کر رہے ہیں جبکہ یہ مثالیں قطعی غلط ہیں کیونکہ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جنرل مشرف کی جراح جیل میں ہوئی تھی کیونکہ ان کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا گیا تھا جبکہ مارک سیگل نے اپنا بیان واشنگٹن میں پاکستانی ایمیبسی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ریکارڈ کرایا تھا نہ کہ اپنے گھر سے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اگر قطری شہزادہ اپنا بیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ریکارڈ کرانا چاہتا ہے تو وہ دوحہ میں پاکستانی سفارتخانے سے ایسا کر سکتا ہے۔ یہ ذمہ داری حکمران خاندان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بیان کو یقینی بنائے کہ وہ قطری شہزادے کا بیان پاکستانی سفارتخانے سے دلوائے۔