سوشل میڈیا پر سابق صدر آصف علی زرداری کے متعلق ایک مبینہ اقامہ کی فوٹو کاپی دراصل جعلی، منگھڑت اور فوٹو شاپ کے ذریعے بنائی گئی ہے تاکہ سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کو بدنام کیا جا سکے اور یہ ان لوگون کا کام ہے جو پاکستان کے تمام سیاسی طبقے کی ساکھ خراب کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عمل انتہائی گھناﺅنا اورقابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ آصف علی زرداری ابوظہبی کے وزارت صدارتی امور کی جانب سے جاری کئے گئے ویزے پر یو اے ای میں جا کر قیام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر کے پاس کسی بھی کمپنی کی ملازمت یا پارٹنرشپ کا کوئی اقامہ نہیں اور سوشل میڈیا پر یہ غلط اور جھوٹی فوٹو کاپی دکھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے بعد کچھ لوگوں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے یہ مہم شروع کی ہے تاکہ عوامی نمائندوں اور سیاستدانوں کو بدنام کیا جا سکے اور ان کی ساکھ خراب کی جا سکے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سابق صدر کے خلاف اس قبیح مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ ملک کے مفاد میں کام نہیں کررہے۔ جو لوگ آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی اور منتخب نمائندوں کو بدنام کرنا چاہتے انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں خود ان کی الماریوں میں ان کے رازوں کے ڈھانچے تو نہیں چھپے ہوئے اور اگر وہ ایسا کرلیں تو انہیں یہ احساس ہو جائے گا کہ انہیں بھی بہت سارے سوالات کے جوابات دینا پڑ سکتے ہیں لیکن ابھی تک وہ احتساب سے بچتے رہے ہیں۔