پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے جنرل مشرف کے حالیہ انٹرویو پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ پاکستان توڑنے کی شروعات بیوروکریٹ غلام محمد نے کی تھی جنہوں نے مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے وزرائے اعظم سے توہین آمیز سلوک کیا۔ اس کے بعد جنرل ایوب خان نے سیاستدانوں کو ایبڈو کے ذریعے سیاست سے بے دخل کیا۔ رہی سہی کسر جنرل یحٰی خان نے پوری کی۔ اگر جنرل مشرف کو نہیں معلوم تو جسٹس حمود رحمن کمیشن کی رپورٹ کو پڑھنے کی زحمت گوارا کرے۔ پی پی پی رہنما نے کہا کہ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہید پر ملک توڑنے کا الزام لگانے والے شرم کریں کیونکہ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی ہزاروں مربع میل زمین واپس لی جس پر بھارت نے بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کیا تھا۔ 90ہزار فوجی جوانوں کو وطن واپس لے کر آئے جو بھارت کی جیلوں میں قید تھے۔ انہوں نے کہا کہ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے راکھ کا ڈھیر بنے ہوئے ملک کی دوبارہ تعمیر کی اور قوم کو دنیا کی باوقار قوموں میں شامل کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ قائدعوام بھٹو نے ملک کو 1973ءکا آئین دیا جو آج بھی وفاق کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر آئین کو پامال کرکے اقتدار پر قبضہ اور قوم کو یرغمال بناتے ہیں اور تباہی کر کے چلے جاتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ جنرل مشرف نے قوم کو کارگل پر رسوائی دی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صرف گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کی واردات کی۔ انہوں نے کہا کہ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے عوام کو ایک قوم بنایا جبکہ جنرل ضیاءنے قوم کو برادریوں میں تقسیم کیا، جہاد کے نام پر شدت پسندی اور دہشتگردی کی نرسریاں پیدا کیں، کلاشنکوف اور منشیات کے کلچر کو فروغ دیا۔ سعید غنی نے جنرل مشرف کو مشورہ دیا کہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہوش میں رہا کریں۔