Archive for September, 2017

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے لیفٹیننٹ ارسلان عالم کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے لیفٹیننٹ ارسلان عالم کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ایک تعزیتی پیغام میں سابق صدر نے کہا کہ جواں سالہ ارسلان عالم کی بہادری پر قوم اور ملک کو فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افواج کے ایسے جری اور بہادر جوانوں کے ہوتے ہوئے کوئی دشمن ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرا ¿ت نہیں کر سکتا۔ شہید لیفٹیننٹ ارسلان عالم کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی قوم، بھٹو خاندان اورپاکستان پیپلزپارٹی آپ کے دکھ میں برابرکی شریک ہے۔

 

پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو چیلنج دیتی ہے کہ وہ وطن واپس آکر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں آکر عدالتوں کا سامنا کریں اور اس کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل6 کے تحت غداری کے مقدمے کا بھی سامنا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف قانون اور عدالتوں کے بھگوڑے ہیں اور ان میں یہ ہمت نہیں کہ وہ لاہور ہائی کورٹ میں اپنے خلاف مقدمے کا وطن واپس آکر سامنا کر سکیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ بزدل آدمی کی نشانی ہے کہ وہ ہاتھ اٹھا کرمارنے کی دھمکی تو دیتا ہے لیکن اس میں مارنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف آصف علی زرداری کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں تین اپیلوں کی سماعت جمعرات کے روز قابل سماعت ہونے کے بعد گھبرا گئے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں پہلے فریق نہیں بننے دیا گیا تھا اور جنرل مشرف یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان کا جرم کبھی بھی بے نقاب نہیں ہوگا اور وہ سزا سے بچ جائیں گے۔ راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے 31اگست کے فیصلے کے بعد آصف علی زرداری متاثر فریق کی حیثیت سے اس مقدمے کے فریق بنے اور اب جنرل مشرف کو انصاف کے کٹہڑے تک لانے تک ان کا پیچھاکریں گے۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے جنرل مشرف کو بھگوڑا قرار دے کر ان کا کیس الگ کر دیا تھا لیکن آصف علی زردری کی اپیل کی وجہ سے انسداد دہشتگردی کی عدالت کا 8مئی کا حکم اور 31اگست کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں آصف علی زرداری کی اپیل منظور ہونے کے بعد ختم ہوگیا۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جنرل مشرف کو اچھی طرح پتہ ہے کہ زرداری کی جانب سے اس کا پیچھا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اب یہ سابق ڈکٹیٹر جو خود کو کمانڈو کہتا ہے گھبرا گیا ہے۔ جنرل مشرف کی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو یہ دھمکی کہ اگر وہ 2008ءکے انتخابات سے قبل وطن واپس جاتی ہیں تو وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالیں گی اور جنرل مشرف کی جانب سے ان کو سکیورٹی فراہم نہ کرنا اظہر من الشمس ہیں اور ان کی اسی قسم کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔ جنرل مشرف کی جانب سے انتہاپسندوں کی طرف سے سرپرستی کرنا بھی دنیا پر عیاں ہے۔ جنرل مشرف جب اقتدار میں تھے تو انہوں نے روشن خیالی کے دعوے سے دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی لیکن جب وہ اقتدار میں نہیں رہے تو انہوں نے تسلیم کیا کہ اس نے طالبان کی مدد کی تھی۔ جنرل مشرف کو معلوم ہے کہ جلد یا بدیر قانون کے لمبے ہاتھ اس تک پہنچ جائیں گے اور وہ راولپنڈی کے کسی ہسپتال میں پناہ لینے کے قابل بھی نہیں ہوگا۔جنرل مشرف قابل رحم شخص ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ قانون قدرت کی نظر میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے سینیٹر ہری رام کی جانب سے الیکشن بل 2017ءپر ترمیم کرنے پراحتجاج کرنے کو سراہا ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے سینیٹر ہری رام کی جانب سے الیکشن بل 2017ءپر ترمیم کرنے پراحتجاج کرنے کو سراہا ہے۔ یہ بل غیرمسلموں کے خلاف تعصب تھا۔ سینیٹر ہری رام نے ایوان کو اس بات پر راضی کر لیا کہ ایوان نے اس ترمیم کو مسترد کر دیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ نے سیکشن 110 میں یہ ترمیم پیش کی تھی کہ ہر انتخابی امیدوار ایک مذہبی حلف اٹھائے گا چاہے اس کا مذہب کوئی بھی ہو۔ اس ترمیم کی وزیر قانون یاحکومتی بنچوں نے مخالفت نہیں کی تھی اور اس طرح اس کی منظوری کے لئے راستہ ہموار کر دیا تھاتاہم سینیٹر ہری رام نے اس پر احتجاج کیا کہ ہر غیر مسلم کو بھی ایسا مذہبی حلف لینا پڑے گا جو صرف مسلمان امیدواروں کے لئے مخصوص ہے۔ اس پر بحث و مباحثے کے بعد سینیٹروں کی اکثریت نے ہری رام کے موقف سے اتفاق کیا اور اس بل کو مسترد کر دیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے ہری رام کی ہمت اور ان کے موقف کے بارے واضح موقف کی تعریف کی اور کہا کہ ہری رام نے پارٹی اصولوں کو مقدم رکھا ہے اور بڑے حوصلے اور عزم کے ساتھ انہوںنے پارٹی کے اصولوں کی پاسداری کی جس پر وہ تعریف کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ غیرمسلموں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا کرتی رہے گی۔

 

کراچی(21ستمبر) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے ترجمان سینیٹر عاجز دھامراہ نے پرویز مشرف کے ویڈیو بیان کے ردعمل میں کہا ہے

کراچی(21ستمبر) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے ترجمان سینیٹر عاجز دھامراہ نے پرویز مشرف کے ویڈیو بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ شہید بینظیر بھٹو قتل کیس میں قانون کے ہاتھ اپنی طرف دیکھ کر مشرف بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں،اس کا یہ ویڈیو خود ان کا اعتراف ہے وہ نہ صرف شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہیں بلکہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کی سازش کے ایک کردار بھی ہیں، جاری کردہ بیان میں سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قاتل مشرف ہیں انہوں نے ہی شہید بینظیر بھٹو کو وطن واپس نہ آنے کی دھمکی تھی،اور انہیں مکمل سیکیورٹی بھی نہیں مہیا کی، مشرف کے ہاتھ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور وہ بچ نہیں پائیں گے،انہوں نے کہا کہ اگر آمر مشرف میں ہمت ہے تو پاکستان آکر یہ سب باتیں عدالت کے سامنے کریں،سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا کہ مشرف یہ بتائیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت حکمران کون تھا؟ کس نے جائے وقوعہ سے تمام شہادتیں مٹانے کا حکم دیا تھا؟ انہوں نے کہا مشرف کی بوکھلاہٹ سے وہ شہید بینظیر بھٹو کے قتل سے خود کو بری نہیں کر سکتے، وقت آ چکا ہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں مشرف کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

جاری کردہ
شعبہ اطلاعات
پاکستان پیپلزپارٹی سندھ

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے یوم وفات (11ستمبر( کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے یوم وفات (11ستمبر( کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج ہمیں اس عہد کی تجدید کرنی چاہیے کہ پاکستان کو ایک جمہوری، ترقی پسند، فلاحی اور لبرل ریاست بنائیں گے بجائے اس کے کہ پاکستان ایک ملائیت یا خوف کی ریاست بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی فلاح و بہبود ہی قومی اتحاد، سماجی ہمواری اور ملک کے تحفظ کی ضامن ہے۔ ہم آج اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ قائداعظم کے بتائے ہوئے اصولوں پر کاربند رہیں گے۔ آج ہمیں پہلے سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ عسکریت پسندی کی سوچ کو مسترد کر دیں اور درگزر، برداشت کو اختیار کریں اور مخالفت کی آواز برداشت کریں۔ عسکریت پسندی کی سوچ سے لڑنے کے لئے آزادی اظہار کو فروغ دیں جس کی ضمانت قانون دیتا ہے اور اس کی مدد سے ریاست کا متبادل بیانیہ بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں آزادانہ تحقیقات اور بحث و مباحثہ صرف تعلیمی اداروں ہی میں نہیں بلکہ عام زندگی میں بھی رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے دن سابق صدر نے ان لوگوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لئے قربانیاں دیں اور قیام پاکستان کے بعد ملک میں آئین اور جمہوریت کے لئے اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں قربانیاں پیش کیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اورپاکستان پیپلزپارٹی کے پی کے جنرل سیکریٹری فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اورپاکستان پیپلزپارٹی کے پی کے جنرل سیکریٹری فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کے پی کے عوام ڈینگی بخار میں تڑپ رہے ہیں اور عمران خان لندن کے سیرسپاٹے کر رہے ہیں۔ ایک بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ وہاں معروف اداکار افتخار قیصر نو گھنٹے تک ہسپتال کے برآمدے میں پڑے رہے کوئی ڈاکٹر نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے عوام پی ٹی آئی کی اصلیت کو پہچان چکی ہے۔ عمران خان اور ان کی پارٹی کا عوام سے نہ کوئی سروکار ہے اور نہ ہی رشتہ کیونکہ پی ٹی آئی کو ملنے والا مینڈیٹ عوام کا نہیں بلکہ حکیم اللہ محسود کا تھا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پی کے عوام کا خون چوس رہی ہے۔ صوبائی حکومت کے پاس نہ تعمیرات کے لئے پیسے ہیں، نہ تعلیم کے لئے اور نہ ہی صحت کے لئے۔ عوام کا پیسہ خلاﺅں میں درخت اگانے کے نام پر چوری کیا جا رہا ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جو شخص ڈینگی مچھر کے خوف سے پشاور آنے سے ڈرتا ہو وہ عوام کا لیڈر کیسے بن سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کے پی کے عوام کی خدمت کرے گی۔ صدر آصف علی زرداری نے پختون عوام کو شناخت دی تھی اور عوام کو یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ اقتدار میں آکر عوام کے لئے روزگار، تعلیم اور صحت کے لئے بھرپور اقدامات اٹھائے گی۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے میانمار میں روہینیا مسلمانوں کے خلاف ظلم اور بربریت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے میانمار میں روہینیا مسلمانوں کے خلاف ظلم اور بربریت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ روہینیا مسلمانوں کے خلاف ظلم اور بربریت کو فوری طور پر روکنے کے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ روہینیا مسلمانوں کے خلاف جو ظلم اور بربریت کو روا رکھا گیا ہے اس کی مذمت کے لئے کوئی بھی الفاظ کافی نہیں اور بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور روہینیا مسلمانوں کا قتل عام فوری طور پر رکوانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار میں مسلمانوں پر یہ ظلم عسکریت پسندوں کے لئے جگہ پیدا کر لے گا۔سابق صدر نے میانمار کی لیڈر آنگ سان سوکی سے بھی اپیل کی کہ وہ یہ بربریت روکیں۔ انہوں نے کہا کہ میانمار کی مسلم اقلیت کی نسل کشی پر آنگ سوکی کی خاموشی حیران کن ہے اور آنگ سوکی نے امن اور انسانی حقوق کی جدوجہد پر نوبل امن ایوارڈ حاصل کیا تھا لیکن اب ان کا یہ قتل عام رکوانے میں ان کی عدم دلچسپی اور نااہلیت اس مطالبے کو مزید آگے بڑھائے گی کہ وہ نوبل امن ایوارڈ ان سے واپس لیا جائے ۔ آصف علی زرداری نے پاکستانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو پرزور طور پر میانمار کی حکومت اور بین الاقوامی برادری کے سامنے اٹھائے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو بھی ہدایت کی کہ وہ یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھائے اور ساری توجہ اس کی جانب مبذول رکھیں۔

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ وقت ملک اور معاشرے کے ازلی دشمن عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کی سوچ کے خلاف متحد ہونے کا ہے۔ آج ہی کے روز 1965ءقوم نے مثالی اتحاد کا م ©ظاہر کیا تھا۔ ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ 1965ءکے اسی جذبے کے ساتھ ریاست اور معاشرے کے نئے دشمن یعنی انتہاپسندی کی سوچ کے خلاف متحد ہونے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کی سوچ پاکستان کی بقاءکےلئے خطرہ ہے۔ انہوںنے عوام سے اپیل کی کہ یہ جو دشمن ہمارے درمیان بیٹھا ہوا ہے اور ہر قسم کی سزا سے اب تک بچتا رہا ہے۔ آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور ان عسکریت پسندوں سے ملک کی بقاءکو جو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ان کو ختم کرنے کے لئے متحد ہو جائیں۔ آج ہمیں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف نئے جذبے سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ ہم آج کے دن یہ عہد کریں کہ ہم اپنے اعتدال پسند، جمہوری اور پرامن ملک کے خلاف ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار رہیں گے اور ہمیں یہ عہد بھی کرناہے کہ اس ملک میں سیاسی تبدیلی ووٹ کی پرچی سے آئے گی نہ کہ دھونس اور زبردستی کے ذریعے۔ انہوں نے آج کے دن ہم قوم کے ان عظیم بیٹوں اور بیٹیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہماری سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے یہ نذرانہ اس لئے پیش کیا کہ ہم آزادی سے رہ سکیں۔ ہمارے ان عظیم بیٹوں اور بیٹیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے کیس میں انسداد دہشتگردی کی راولپنڈی کی کورٹ کی جانب سے آج دئیے ہوئے فیصلے پر سخت حیرانی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے کیس میں انسداد دہشتگردی کی راولپنڈی کی کورٹ کی جانب سے آج دئیے ہوئے فیصلے پر سخت حیرانی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کو یقین ہے کہ انصاف نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔ القائدہ اور طالبان دہشتگردوں کے خلاف ثبوت دئیے گئے تھے لیکن ان کی بریت بہت حیران کن ہے اور متعدد سوالات اٹھاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ القائدہ کے عسکریت پسندوں کی فتح ہوئی ہے۔ دو پولیس افسران کو سزا دی گئی ہے لیکن یہ سوال کہ انہیں کس نے حکم دیا تھا کہ شہادت کے مقام کو دھو دیا جائے اور تمام اہم ثبوتوں کو ضائع کر دیا جائے۔ اس بات کا کوئی جواب نہیں ملا۔ پولیس افسروں کی سزا اس وقت تک کمزور رہے گی جب تک کہ انہیں حکم دینے والے لوگوں کے خلاف مقدمہ نہیں چلتا اور سزا نہیں ہوتی۔ یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس کیس کے پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اہم مرحلے میں داخل ہو چکے تھے اور وہ جنرل پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرنے والے تھے۔ یہ بات بھی نوٹ کی جاتی ہے کہ اس کیس کی ایف آئی آر پنجاب پولیس نے شہید محترمہ کے خاندان کے مشاورت کے بغیر درج کی اور پاکستان پیپلزپارٹی کو بھی اس مقدمے میں فریق نہیں بنایا۔پیپلزپارٹی یاد دلاتی ہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے قتل کی سازش کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ یہ بات سب کو معلوم بھی ہے کہ جنرل مشرف نے انہیں دھمکی دی تھی کہ اگر وہ انتخابات سے قبل پاکستان واپس آئیں تو ان کی زندگی کو خطرہ ہوگا چونکہ پاکستان پیپلزپارٹی کو اس مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا پارٹی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف فوری طور پر اپیل دائر کرے۔ پاکستان پیپلزپارٹی بھی اس مقدمے میں فریق بننے کے لئے عدالتی ذرائع کا استعمال کرے گی اور اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔ پارٹی اس کیس کے مکمل فیصلے کے منظر عام آنے کے بعد اپنا تفصیلی ردعمل دے گی۔