پاکستان پیپلزپارٹی نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے کیس میں انسداد دہشتگردی کی راولپنڈی کی کورٹ کی جانب سے آج دئیے ہوئے فیصلے پر سخت حیرانی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کو یقین ہے کہ انصاف نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔ القائدہ اور طالبان دہشتگردوں کے خلاف ثبوت دئیے گئے تھے لیکن ان کی بریت بہت حیران کن ہے اور متعدد سوالات اٹھاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ القائدہ کے عسکریت پسندوں کی فتح ہوئی ہے۔ دو پولیس افسران کو سزا دی گئی ہے لیکن یہ سوال کہ انہیں کس نے حکم دیا تھا کہ شہادت کے مقام کو دھو دیا جائے اور تمام اہم ثبوتوں کو ضائع کر دیا جائے۔ اس بات کا کوئی جواب نہیں ملا۔ پولیس افسروں کی سزا اس وقت تک کمزور رہے گی جب تک کہ انہیں حکم دینے والے لوگوں کے خلاف مقدمہ نہیں چلتا اور سزا نہیں ہوتی۔ یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس کیس کے پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اہم مرحلے میں داخل ہو چکے تھے اور وہ جنرل پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرنے والے تھے۔ یہ بات بھی نوٹ کی جاتی ہے کہ اس کیس کی ایف آئی آر پنجاب پولیس نے شہید محترمہ کے خاندان کے مشاورت کے بغیر درج کی اور پاکستان پیپلزپارٹی کو بھی اس مقدمے میں فریق نہیں بنایا۔پیپلزپارٹی یاد دلاتی ہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے قتل کی سازش کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ یہ بات سب کو معلوم بھی ہے کہ جنرل مشرف نے انہیں دھمکی دی تھی کہ اگر وہ انتخابات سے قبل پاکستان واپس آئیں تو ان کی زندگی کو خطرہ ہوگا چونکہ پاکستان پیپلزپارٹی کو اس مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا پارٹی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف فوری طور پر اپیل دائر کرے۔ پاکستان پیپلزپارٹی بھی اس مقدمے میں فریق بننے کے لئے عدالتی ذرائع کا استعمال کرے گی اور اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔ پارٹی اس کیس کے مکمل فیصلے کے منظر عام آنے کے بعد اپنا تفصیلی ردعمل دے گی۔