سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے میانمار میں روہینیا مسلمانوں کے خلاف ظلم اور بربریت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ روہینیا مسلمانوں کے خلاف ظلم اور بربریت کو فوری طور پر روکنے کے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ روہینیا مسلمانوں کے خلاف جو ظلم اور بربریت کو روا رکھا گیا ہے اس کی مذمت کے لئے کوئی بھی الفاظ کافی نہیں اور بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور روہینیا مسلمانوں کا قتل عام فوری طور پر رکوانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار میں مسلمانوں پر یہ ظلم عسکریت پسندوں کے لئے جگہ پیدا کر لے گا۔سابق صدر نے میانمار کی لیڈر آنگ سان سوکی سے بھی اپیل کی کہ وہ یہ بربریت روکیں۔ انہوں نے کہا کہ میانمار کی مسلم اقلیت کی نسل کشی پر آنگ سوکی کی خاموشی حیران کن ہے اور آنگ سوکی نے امن اور انسانی حقوق کی جدوجہد پر نوبل امن ایوارڈ حاصل کیا تھا لیکن اب ان کا یہ قتل عام رکوانے میں ان کی عدم دلچسپی اور نااہلیت اس مطالبے کو مزید آگے بڑھائے گی کہ وہ نوبل امن ایوارڈ ان سے واپس لیا جائے ۔ آصف علی زرداری نے پاکستانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو پرزور طور پر میانمار کی حکومت اور بین الاقوامی برادری کے سامنے اٹھائے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو بھی ہدایت کی کہ وہ یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھائے اور ساری توجہ اس کی جانب مبذول رکھیں۔