سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ وقت ملک اور معاشرے کے ازلی دشمن عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کی سوچ کے خلاف متحد ہونے کا ہے۔ آج ہی کے روز 1965ءقوم نے مثالی اتحاد کا م ©ظاہر کیا تھا۔ ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ 1965ءکے اسی جذبے کے ساتھ ریاست اور معاشرے کے نئے دشمن یعنی انتہاپسندی کی سوچ کے خلاف متحد ہونے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کی سوچ پاکستان کی بقاءکےلئے خطرہ ہے۔ انہوںنے عوام سے اپیل کی کہ یہ جو دشمن ہمارے درمیان بیٹھا ہوا ہے اور ہر قسم کی سزا سے اب تک بچتا رہا ہے۔ آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور ان عسکریت پسندوں سے ملک کی بقاءکو جو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ان کو ختم کرنے کے لئے متحد ہو جائیں۔ آج ہمیں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف نئے جذبے سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ ہم آج کے دن یہ عہد کریں کہ ہم اپنے اعتدال پسند، جمہوری اور پرامن ملک کے خلاف ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار رہیں گے اور ہمیں یہ عہد بھی کرناہے کہ اس ملک میں سیاسی تبدیلی ووٹ کی پرچی سے آئے گی نہ کہ دھونس اور زبردستی کے ذریعے۔ انہوں نے آج کے دن ہم قوم کے ان عظیم بیٹوں اور بیٹیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہماری سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے یہ نذرانہ اس لئے پیش کیا کہ ہم آزادی سے رہ سکیں۔ ہمارے ان عظیم بیٹوں اور بیٹیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔