سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے سینیٹر ہری رام کی جانب سے الیکشن بل 2017ءپر ترمیم کرنے پراحتجاج کرنے کو سراہا ہے۔ یہ بل غیرمسلموں کے خلاف تعصب تھا۔ سینیٹر ہری رام نے ایوان کو اس بات پر راضی کر لیا کہ ایوان نے اس ترمیم کو مسترد کر دیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ نے سیکشن 110 میں یہ ترمیم پیش کی تھی کہ ہر انتخابی امیدوار ایک مذہبی حلف اٹھائے گا چاہے اس کا مذہب کوئی بھی ہو۔ اس ترمیم کی وزیر قانون یاحکومتی بنچوں نے مخالفت نہیں کی تھی اور اس طرح اس کی منظوری کے لئے راستہ ہموار کر دیا تھاتاہم سینیٹر ہری رام نے اس پر احتجاج کیا کہ ہر غیر مسلم کو بھی ایسا مذہبی حلف لینا پڑے گا جو صرف مسلمان امیدواروں کے لئے مخصوص ہے۔ اس پر بحث و مباحثے کے بعد سینیٹروں کی اکثریت نے ہری رام کے موقف سے اتفاق کیا اور اس بل کو مسترد کر دیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے ہری رام کی ہمت اور ان کے موقف کے بارے واضح موقف کی تعریف کی اور کہا کہ ہری رام نے پارٹی اصولوں کو مقدم رکھا ہے اور بڑے حوصلے اور عزم کے ساتھ انہوںنے پارٹی کے اصولوں کی پاسداری کی جس پر وہ تعریف کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ غیرمسلموں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا کرتی رہے گی۔