Archive for October, 2017

پاکستان پیپلزپارٹی صوبہ گلگت بلتستان کے وفد نے صوبائی صدر امجد حسین کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں ملاقات کی

پاکستان پیپلزپارٹی صوبہ گلگت بلتستان کے وفد نے صوبائی صدر امجد حسین کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وفد میں سینئر نائب صدر جمیل احمد، سیکریٹری اطلاعات، سعدیہ دانش، سابق فنانس منسٹر آفتاب ، محمد علی اختر شامل تھے۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات چوہدری منظور بھی موجود تھے۔ صوبائی صدر امجد حسین نے پارٹی چیئرمین کو تنظیم سازی اور گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال سے آگاہ کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کو صوبہ اور شناخت دے کر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وعدہ پورا کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارٹی کے چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو گلگت بلتستان کے عوام سے بہت پیار کر تے تھے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی ترجیح ہے کہ قومی راہداری کے ثمرات گلگت بلتستان کے عوام کو بھی ملیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وقت آنے پر ایسی قانون سازی اور اقدامات اٹھائے جائیں کہ پورے ملک کی طرح گلگت بلتستان میں بھی ایک ہی دن انتخابات ہوں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفد کو ہدایت کی کہ صوبے میں پارٹی کو منظم اور مضبوط کیا جائے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین اور سابق صدر مملکت ا?صف علی زرداری نے کہاہے کہ نوازشریف اور انکے خاندان کا وی آئی پی احتساب ہورہا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین اور سابق صدر مملکت ا?صف علی زرداری نے کہاہے کہ نوازشریف اور انکے خاندان کا وی آئی پی احتساب ہورہا ہے، ان کو اسی طرح احتساب کی چکی سے گزارا جائے جس طرح ہمار احتساب کیا گیا تھا،ان کے خلاف کرپشن کے سنگین مقدمات ہیں انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے، انہوں نے کہا کہ گاڈ فادر لندن میں بیٹھ کر ہمیں مفاہمت کے خفیہ پیغامات بھیجتا ہے لیکن مومن ایک سوراخ سے دوسری دفعہ ڈسا نہیں جاتا، ہم نے مفاہمت کے تمام پیغامات مسترد کردئیے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم نے تو سیف الرحمٰن کے احتساب بیورو کا بھی احتساب برداشت کیا ہے ا?ج یہ نیب کےبارے میں باتیں کررہے ہیں انہیں یاد ہونا چاہیے کہ ان کا اپنا نیب کیا کرتا رہا ہے،ا?صف علی زرداری نے کہا کہ ان کا وی آئی پی پروٹو کول کے ساتھ احتساب کیا جارہا ہے،جب تک برابری کی بنیاد پر احتساب نہیںہوگا ہم نہیں مانیں گے، شریف فیملی کا فرد ہو تو ایک دن میں ضمانت ہوجاتی ہے، ہمارے لوگوں کی اڑھائی سال بعد ضمانت ہوتی ہے،یہ کیسا احتساب ہے، سابق صدر مملکت نے کہا کہ جس طرح ہمارا ٹرائل ہوتا رہا ہے کبھی ایک جگہ پھر دوسری جگہ کاش شریف فیملی کا ایک کیس میں وہی ٹرائل ہوجائے،ہمیں تو پہلے گرفتار کیا جاتا تھا پھر جیل بھیجا جاتا تھا پھر کیس ڈھونڈے جاتے تھے ان کے خلاف تو سپریم کورٹ کے حکم پر مقدمات بنے ہیں اس کے باوجود یہ دندناتے پھرتے ہیں، انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے ،انہوں نے سوال کیا کہ نواز شریف کو اس وقت 90 کی دہائی میں احتساب یاد نہیں تھا جب ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا پھر انہیں اپنے تیسرے ساڑھے چار سالہ دور میں انصاف یاد نہیں ا?یا جب ہمارے لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیلوں میں بھیجا گیا اس وقت شریف خاندان فرعون بنا ہوا تھا، ا?صف زرداری نے کہا کہ قوم سے کہتا ہوں کہ وہ سسلین مافیا کے بارے میں ضرور پڑھیں کہ وہ کیا کرتا تھا وہ صرف پاور گیم ہی نہیں کرتا تھا بلکہ اور بھی ہزاروں غلط کام کرتا تھا، مجھے ڈر ہے کہیں نواز شریف اور انکے ساتھی بھی اسی طرح کے کام نہ کررہے ہوں،اگرانہوں نے ایسا کیا تو قوم ان کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے گی،انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف متضاد بیانات کے ذریعے قوم کو گمراہ کررہے ہیں،یہ دونوں کے ایک دوسرے کی وارداتوں کے ہزاروں راز جانتے ہیں، مغل بادشاہ کو پتہ ہونا چاہیے کہ قوم ان کے جنگل سے ا?زادی چاہتی ہے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف اب وزیراعظم ہے نہ ہی ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ اس کے باجود لاہور میں انکے ساتھ 3ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی کرتے ہیں اور 40سرکاری گاڑیوں کا استعمال کررہے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیںایل این جی کے ہرجہاز پر 4 ملین ڈالر کمیشن مل رہا ہے،اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ انہوں نے پائپ لائن معاہدوں کوختم کیوں کیا، ایران گیس پائپ لائن معاہدہ سے پاکستان کو سستی گیس ملتی ارو ملک ترقی کرتا لیکن نواز شریف ذاتی مفاد کےلئے پاکستان کے مفاد کو قربان کیا۔

سابق صدر پاکستان اورپاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان انسان کی بنیادی ضروریات ہیں

سابق صدر پاکستان اورپاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان انسان کی بنیادی ضروریات ہیں اس لئے پاکستان پیپلزپارٹی کی ترجیح رہی ہے کہ عوام کے لئے روزگار کے وسائل پیدا کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کا نظریہ اور فلسفہ ہی پارٹی کا منشور ہے۔ قائدعوام ذوالفقارعلی بھٹو نے پہلی مرتبہ ملک کے ہر شہری کو پاسپورٹ بنانے کا حق دیا۔ آج لاکھوں پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں، وہ خوشحال ہیں اور پاکستان کو زرمبادلہ بھیج کر ملک کی معیشت کر مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے پیپلزپارٹی کے منشور کمیٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی جو بلاول ہاﺅس لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سید نیر حسین بخاری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر شیری رحمن، میاں منظور وٹو، چوہدری لطیف اکبر، امجد حسین، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، صابر بلوچ، اخونزادہ چٹان، نثار احمد کھوڑو اور سید نوید قمر نے شرکت کی۔ کمیٹی میں شامل اراکین نے اپنی تجاویز پیش کیں۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید جب اقتدار میں آئیں تو انہوں نے لاکھوں نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کیں اور ان ملازمین کو بھی بحال کیا جن کو ضیا آمریت کے دوران برطرف کیا گیا تھا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ جن کو غریب عوام کی خوشحالی پسند نہیں انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے خلاف نوجوانوں کو روزگار دینے کے ریفرنس بنائے۔ عوام دشمنوں نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی حکومت کو برطرف کرنے کے بعد بے شمار سرکاری ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا مگر جب پاکستان پیپلزپارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی تو نہ صرف روزگار کے نئے وسائل پیدا کئے لاکھوں نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کیں اور ان ملازمین کو معاوضے کے ساتھ بحال کیا جن کو نواز شریف کے دور میں ملازمتوں سے فارغ کیا گیا تھا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ تعلیم، صحت اور امن پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیادی ترجیح ہے۔ اس لئے پاکستان پیپلزپارٹی کا منشور انقلابی ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سوچ اور فلسفے کے عین مطابق ملک کو فلاحی ریاست بنانا چاہتی ہے۔ ایسا ملک جہاں انصاف اور ایسی ریاست جہاں عوام کو ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا مکمل حق حاصل ہو۔

 

 

ہمارے قومی کیلنڈر میں 18اکتوبر ایک اہم دن ہے۔ اس دن جمہوریت اور کثیرالجہتی اور مذہبی انتہا پسندی اور تعصب کے درمیان جنگ بندی ہوگئی تھی۔

ہمارے قومی کیلنڈر میں 18اکتوبر ایک اہم دن ہے۔ اس دن جمہوریت اور کثیرالجہتی اور مذہبی انتہا پسندی اور تعصب کے درمیان جنگ بندی ہوگئی تھی۔ گزشتہ 10سالوں میں یہ صف بندی مزید گہری ہوگئی ہے اور مذہبی انتہاپسندی اور تعصب سے جنگ کے لئے ہمیں 18اکتوبر کی یاد ہمت دلاتی ہے۔ سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے یہ بات سانئحہ کارساز کے دس سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہی۔ آج سے دس سال قبل شہید محترمہ بینظیر بھٹو تمام دھمکیوں اور مخالفتوں کے باوجود جلا وطنی ختم کرکے وطن واپس آئیں کیونکہ انہیں اندازہ وہوگیا تھا کہ پاکستان کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے اور یہ خطرہ ایک جانب مذہبی انتہاپسندوں اور دوسری جانب ڈکٹیٹرشپ سے تھا۔ آج کے دن جمہوریت اور پاکستان دشمنوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے کاروان پر حملہ کیا اور تقریبا 200 پارٹی کارکنوں ااور جمہوریت پسندوں نے شہادت کو جمہوریت اور ڈکٹیٹرشپ سے نجات کے لئے گلے لگایا۔ آج ہم ان شہیدوں کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ یہ شہید ہمارے قومی ہیرو اور ہیروئنیں ہیں اور قوم کی قوت ہیں۔ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے انہوں نے ہماری امیدوں کو بڑھایا اور ہمارے عزم کو پختہ کر دیا۔ آج شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مشن کو مکمل کرنے کے عزم کا ارادہ کرنے کا دن ہے تاکہ جمہوریت کو فروغ دیا جائے اور عسکریت پسندوں کو شکست دی جائے اور ساتھ ساتھ انہیں بھی شکست دی جائے جو مذہب کی تعصب زدہ تصویراس لئے دکھاتے ہیں تاکہ جمہوریت اور خواتین دشمن ایجنڈہ پر عمل کیا جا سکے۔ دو روز قبل شہدائے کارساز ریلی کراچی میں پارٹی نے ان شہداءکو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے اور جمہوریت دشمنوں کے خلاف عزم کی تجدید کے لئے نکالی جس پر سابق صدر نے اس ریلی کے متنظمین کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ قائد سامنے آکر قیادت کرتے ہیں اور 18اکتوبر 2007ءکو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ڈکٹیٹرشپ اور مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف جنگ کی قیادت سامنے آکر کی۔ وہ انتہاپسند اور ان کے سیاسی پشت پناہ جو محترمہ بینظیر بھٹو کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے وہ ابھی بھی ترقی پسندوں اور جمہوری قوتوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے لئے مذہب کو استعمال کر رہے ہیں۔ ہم ان مذہبی انتہاپسندوں اور جمہوریت دشمنوں سے آخری فتح تک جنگ جاری رکھیں گےئ۔ آج انتہاپسند اور جمہوریت دشمنوں سے جنگ لڑنے کے لئے خود کو وقف کرنے کی تجدید کرتے ہیں۔ جہاں ہم شہدائے کارساز کو یاد کر رہے ہیں اس دن ہم فوج کے جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور ان شہریوں کو بھی یاد کر یں جنہوں نے عسکریت پسندی سے جنگ کے لئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے خانیوال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی رفعت حیات ڈاہا کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے خانیوال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی رفعت حیات ڈاہا کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ سابق صدر نے مرحوم رفعت حیات ڈاہا کے صاحبزادے وسیم حیات ڈاہا کو فون کرکے ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ سابق صدر نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک خاندان کی طرح ہے۔ اس خاندان کے دکھ اور خوشیاں سانجھی ہیں۔ بھٹو خاندان اور پاکستان پیپلزپارٹی دکھ کی اس گھڑی میں آپ کے ساتھ ہے۔ آصف علی زرداری نے مرحوم رفعت حیات ڈاہا کی پارٹی کے لئے خدمات کو سراہاتے ہوئے دوا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

کراچی(4اکتوبر) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا ہے

کراچی(4اکتوبر) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا ہے کہ18اکتوبر کو حیدرآباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے جلسہ عام کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں اس سلسلہ میں پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر و سینئر صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو نے جلسہ کی پبلسٹی اور آرگنائیزنگ کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں، پبلسٹی کمیٹی میں پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما مولا بخش چانڈیو، صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ، سینیٹر عاجز دھامراہ، شرجیل انعام میمن، پیپلزپارٹی حیدرآباد ڈویژن کے سیکریٹری اطلاعات آفتاب خانزادہ اورحیدرآباد ڈسٹرکٹ کے سیکریٹری اطلاعات احسان ابڑو شامل ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی حیدرآباد ڈویژن کے صدر سید علی نواز شاہ رضوی کی سربراہی میں آرگنائیزنگ کمیٹی میں پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما مولابخش چانڈیو، ڈویژنل جنرل سیکریٹری دوست علی جیسر، حیدرآباد ضلع کے صدر صغیر قریشی، جنرل سیکریٹری علی محمد سہتو، پیپلزپارٹی خواتین ونگ سندھ کی صدر شگفتہ جمانی، ایم این اے سید امیر علی شاہ جاموٹ،صوبائی وزیرجام خان شورو، مخدوم رفیق الزماں، شرجیل انعام میمن، زاہد بھرگڑی، عبدالجبار خان، عرفان گل مگسی اور قاضی اسد عابد شامل ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی فاٹا کے اراکین اسمبلی کی جانب سے فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے کے لئے مطالبے کے لئے 9اکتوبر کو فاٹا کے اراکین کی جانب سے مظاہرے میں شرکت کرے گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی فاٹا کے اراکین اسمبلی کی جانب سے فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے کے لئے مطالبے کے لئے 9اکتوبر کو فاٹا کے اراکین کی جانب سے مظاہرے میں شرکت کرے گی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں فاٹا کے اراکین کے ایک وفد سے ملاقات میں انہیں یقین دہانی کروائی کہ پارٹی ان کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے اور فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے اصلاحات چاہتی ہے۔ فاٹا کے اراکین کے وفد کی سربراہی رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے کی اور اراکین قومی اسمبلی حاجی بسم اللہ خان، ناصر خان اور بلال رحمن وفد میں شامل تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اس ملاقات میں رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی، سینیٹر فرحت اللہ بابر، نیر حسین بخاری، سردار علی خان اور قیوم سومرو موجود تھے۔ وفد سے باتیں کرتے ہوئے آصف علی زردری نے کہا کہ پی پی پی فاٹا کے کے پی میں ضم ہونے کی حمایت کرتی ہے کیونکہ انتظامی، سماجی، ثقافتی، لسانی، سیاسی اور جغرافیائی طور پر فاٹا کا کے پی میں ضم ہونا سب سے منطقی حل ہے۔ اس کی مخالفت منطق کو جھٹلانا ہے۔ آصف علی زرداری نے فاٹا کے اس مطالبے کی بھی حمایت کی کہ پشاور ہائی کورٹ کے اختیار کو فاٹا تک وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ کابینہ نے پہلے پشاور ہائی کورٹ کے اختیارات کو قبائلی علاقوں تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا اور پھر اچانک ہی نہ جانے کیوں اسے واپس لے لیا۔ اگر فاٹا کو بالآخر کے پی میں جم ہونا ہے تو پشاور ہائی کورٹ کے اختیارات کو فاٹا تک وسعت دینا عقل کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب فاٹا کے پی میں ضم ہو جائے گا تو اسلام آباد ہائی کورٹ سے سارے مقدمات پشاور ہائی کورٹ منتقل کرنا پڑیں گے اور اس وقت اس کے کیا مضمرات ہوں۔ سابق صدر زرداری نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پولیٹیکل ایجنٹ کو یکطرفہ طور پر ٹیکس، سیس اور راہداری کے اختیارات ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کی بجائے پولیٹیکل ایجنٹ کے لئے انتظامی اخراجات کے لئے بجٹ میں رقم مختص کی جائے اور اس رقم کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے کروایا جائے۔ فاٹا کے اراکین قومی اسمبلی نے سابق صدر کی جانب سے ان کے مطالبات کی حمایت کرنے پر سابق صدر کا شکریہ ادا کیا بعد میں آصف علی زرداری نے وفد کو ایک عشائیہ دیا۔

 

 

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے یوم عاشور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے یوم عاشور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف مذاحمت کے لئے امام حسینؓ کی پیروی کریں کیونکہ حضرت امام حسینؓ کی قربانی، زیادتی، جھوٹ اور ناانصافی کے خلاف ہر قیمت پر اور ہر صورتحال میں مذاحمت کے لئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ پیغام گزشتہ کل کے لئے بھی تھا، آج کے لئے بھی ہے اور آنے والے کل کے لئے بھی صادق ہے۔ بلا شک و شبہ یہ پیغام عالمی ہے، اس کی کوئی سرحد نہیں اور اس پیغام کے لئے وقت کی کوئی قید نہیں۔ انہوںنے کہا کہ ظلم اور زیادتی وقت کے ساتھ اپنا لبادہ تبدیل کرتی رہتی ہے اور ہمارے وقت میں اس نے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور مذہب کے نام پر دہشت پھیلا رکھی ہے۔ آج ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ظالم کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے۔ آج کا دن حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جو انسانی تہذیب کے لئے منارائے روشنی ہے اور آنے والی نسلوں تک منارائے روشنی رہیں گی۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری سے زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں برطانوی رکن پارلیمنٹ سیدہ ناز شاہ کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری سے زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں برطانوی رکن پارلیمنٹ سیدہ ناز شاہ کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان برطانیہ تعلقات برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی ملک کے لئے خدمات اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سید نیر حسین بخاری، سینیٹر فرحت اللہ بابر، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور اور چوہدری یاسین بھی موجود تھے۔