پاکستان پیپلزپارٹی فاٹا کے اراکین اسمبلی کی جانب سے فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے کے لئے مطالبے کے لئے 9اکتوبر کو فاٹا کے اراکین کی جانب سے مظاہرے میں شرکت کرے گی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں فاٹا کے اراکین کے ایک وفد سے ملاقات میں انہیں یقین دہانی کروائی کہ پارٹی ان کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے اور فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے اصلاحات چاہتی ہے۔ فاٹا کے اراکین کے وفد کی سربراہی رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے کی اور اراکین قومی اسمبلی حاجی بسم اللہ خان، ناصر خان اور بلال رحمن وفد میں شامل تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اس ملاقات میں رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی، سینیٹر فرحت اللہ بابر، نیر حسین بخاری، سردار علی خان اور قیوم سومرو موجود تھے۔ وفد سے باتیں کرتے ہوئے آصف علی زردری نے کہا کہ پی پی پی فاٹا کے کے پی میں ضم ہونے کی حمایت کرتی ہے کیونکہ انتظامی، سماجی، ثقافتی، لسانی، سیاسی اور جغرافیائی طور پر فاٹا کا کے پی میں ضم ہونا سب سے منطقی حل ہے۔ اس کی مخالفت منطق کو جھٹلانا ہے۔ آصف علی زرداری نے فاٹا کے اس مطالبے کی بھی حمایت کی کہ پشاور ہائی کورٹ کے اختیار کو فاٹا تک وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ کابینہ نے پہلے پشاور ہائی کورٹ کے اختیارات کو قبائلی علاقوں تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا اور پھر اچانک ہی نہ جانے کیوں اسے واپس لے لیا۔ اگر فاٹا کو بالآخر کے پی میں جم ہونا ہے تو پشاور ہائی کورٹ کے اختیارات کو فاٹا تک وسعت دینا عقل کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب فاٹا کے پی میں ضم ہو جائے گا تو اسلام آباد ہائی کورٹ سے سارے مقدمات پشاور ہائی کورٹ منتقل کرنا پڑیں گے اور اس وقت اس کے کیا مضمرات ہوں۔ سابق صدر زرداری نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پولیٹیکل ایجنٹ کو یکطرفہ طور پر ٹیکس، سیس اور راہداری کے اختیارات ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کی بجائے پولیٹیکل ایجنٹ کے لئے انتظامی اخراجات کے لئے بجٹ میں رقم مختص کی جائے اور اس رقم کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے کروایا جائے۔ فاٹا کے اراکین قومی اسمبلی نے سابق صدر کی جانب سے ان کے مطالبات کی حمایت کرنے پر سابق صدر کا شکریہ ادا کیا بعد میں آصف علی زرداری نے وفد کو ایک عشائیہ دیا۔