سکھر (24 فروری 2018) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پانچ سال سیاسی جماعت ایک شہر کو ترجیح دیتی رہی لیکن سندہ میں ان کی صوبائی حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دی، اسکول، کالج بنائے، یونیورسٹیاں قائم کیں اور 6 بڑے ہسپتال بنائے۔ سکھر میں قومی اداراہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) سیٹلائیٹ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ نواز شریف نے مخالفین کو سزائیں دلانے کے لیے ججوں پر دباؤ ڈالا اور ان کےخلاف فیصلے آنے پربغلیں بجائیں۔ انہوں نے کہا کہ نااہل وزیراعظم نے ایک آمر کو معافی نامہ لکھ کردیا اور عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد فیصلے کے خلاف اپیل تک نہیں کی، لیکن آٹھ سال بعد واپس آئے تو ساری سزائیں معاف کردی گئیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ٹکراؤ کی پالیسی جمہوریت اور ملک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں اصل مسائل پر بات نہیں ہورہی، پانامہ اور اقامہ کی عوام کو پرواہ نہیں، کیونکہ یہ عوام کے مسائل نہیں اور عوام کو اس سے بھی غرض نہیں کہ آپ کو کیوں نکالا گیا۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ عوام کے مسائل پر کام نہیں ہورہا۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور صحت و تعلیم کی صورتحال ابتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز، پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان میں نواز لیگ کی حکومت ہے مگر پھر بھی ان کا رونا ختم نہیں ہوتا۔ جو کام ان کو کرنا ہے وہ نہیں کرتے، جو نہیں کرنا وہ کررہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کے اثاثے اونے پونے داموں بیچے جارہے ہیں، ذاتی ایئرلائن چلارہے ہیں اور قومی ایئرلائن فروخت کررہے ہیں، حالات جیسے بھی ہوں، اپنی ماں کا زیور نہیں بیچا جاتا۔ تقریب کو وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ، پی پی پی سندہ کے صدر نثار احمد کھڑو، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سکندر مرزا اور NICVD کے ایگزیکیوٹو ڈئریکٹر ڈکٹر ندیم قمر نے خطاب کیا، جبکہ سیید قائم علی شاہ، صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، سہیل انور سیال، منظور حسین وسان، جام مھتاب ڈہر، ایم این اے اعجاز حسین جکھرانی، نعمان اسلام شیخ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔