Archive for March, 2018

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری نے ایسٹر کے موقع پر ساری دنیا کے مسیحیوں کو بالعموم اور پاکستان کی مسیحی برادری کو بالخصوص مبارکباد دی

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری نے ایسٹر کے موقع پر ساری دنیا کے مسیحیوں کو بالعموم اور پاکستان کی مسیحی برادری کو بالخصوص مبارکباد دی ہے۔ اپنے تہنیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جانب اور پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے تمام مسیحی بھائیوں اور بہنوں کو ایسٹر کے موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس موقع پر ہماری دعا ہے کہ ہم دیانتداری اور خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ ایسٹر نہ صرف خوشی کا موقع ہے بلکہ یہ دن کمزوروں اور غریبوں کے ساتھ یکجہتی کا درس بھی دیتا ہے۔ سابق وزیراعظم نے مسیحی برادری کی جانب سے جمہوریت، سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے لئے پاکستان بھر میں جدوجہد کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے جدوجہد میں مسیحی برادری ہمیشہ آگے آگے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے وہ اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ مسیحیوں کی سماجی بہتری اور انہیں قومی دھارے میں مکمل طور پر شامل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور تمام غیرمسلموں کے حقوق اور انہیں بھی قومی دھارے میں شامل کرنے کی جدوجہد کرتی رہے گی۔ اس موقع پر انہوں نے یہ عہد بھی کیا کہ پارٹی کسی کو مذہب کی بنیاد پر بنائے گئے قوانین کو غلط استعمال کرکے غیرمسلموں کو انتقام کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی۔

 

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر سسی پلیجونے ارسا کی طرف سے پانی کی تقسیم میں سندھ سے کی جانے والی ناانصافی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر سسی پلیجونے ارسا کی طرف سے پانی کی تقسیم میں سندھ سے کی جانے والی ناانصافی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں پینے اور زراعت کے لئے پانی دستیاب نہیں ہے۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ سندھ کا ضلع ٹھٹھہ اور بدین پانی کی کمی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارسا 1991ءکے معاہدے پر بھی عملدرآمد کرنے کے لئے تیار نہیں اور سندھ کے پانی پر اعتراضات کر رہا ہے۔ سینیٹر پلیجو نے کہا کہ وفاق نے بجلی اور گیس کی طرح پانی میں بھی ناانصافی کرکے سندھ کو انتقام کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے سندھ کی مرضی کے خلاف لائی گئی کوئی بھی واٹر پالیسی قبول نہیں کی جائے گی۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں ارسا کی ہٹ دھرمی اور سندھ دشمن پالیسی پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

 

 

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے فیصل آباد میں یونیورسٹی کی طالبہ عابدہ احمد سے زیادتی اور قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے فیصل آباد میں یونیورسٹی کی طالبہ عابدہ احمد سے زیادتی اور قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے شرمناک واقعات کو روکنے کے لئے صرف قانون سازی ہی نہیں بلکہ قانون پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ ایسے واقعات معاشرے پر سیاہ دھبہ ہے۔ اس طرح کے مجرمانہ حملوں میں ملوث مجرموں کی حوصلہ شکنی انتہائی ضروری ہے۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کو قابل نفرت عمل کے طور پر متعارف کرانے کے لئے اپنی طاقت کا استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ مہذب معاشرے کے لئے میڈیا کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ معاشرے میں خواتین کا باوقار مقام اور یقینی تحفظ پیپلزپارٹی کا بیانیہ ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے متاثرہ خاندان سے ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عابدہ احمد کے قاتل قانون اور قدرت کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔

 

 

پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے وزیراعظم کے خطاب پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا

پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے وزیراعظم کے خطاب پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان کا خطاب محض گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑنے تک محدود تھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور ان کی باقیات نے ہر سمت تباہی مچائی ہے۔ اس لئے لوگ نواز شریف کو ان الفاظ سے یاد کریں گے کہ وہ آئے، تباہی کی اور نکالے گئے۔ نیر حسین بخاری نے کہا کہ نواز شریف اینڈ کمپنی کی ساری توجہ لوٹ مار پر رہی جس کی وجہ سے ملک معاشی طور پر بدحال ہوا۔ یہ نواز شریف کا کارنامہ ہے کہ ایک لٹر پٹرول پر عوام کی جیب پر 40روپے کا ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز حکومت کے دوران بیرون ملک مقیم لاکھوں افراد ڈی پورٹ ہو کر واپس آئے جس کی وجہ سے ذرائع مبادلہ میں تباہ کن کمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان کیسے بھول گئے کہ نواز شریف کو ملنے والے ہر بھاری مینڈیٹ پر جعل سازی اور دھوکہ دہی کی مہر ثبت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ ہیں جس کے ہاتھ سانحہ ماڈل ٹاﺅن ڈیڑھ درجن افراد کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ تیزی سے خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حکومتی خرچے پر پٹواریوں کے ذریعے جلسیوں میں لوگ لانے کا وقت ختم ہونے کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے مخالفین کے اعصاب پر آصف علی زرداری سوار ہیں اور ان کے ذہن پر آصف زردار کا خوف طاری ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری نے سکھر میں کھجور مارکیٹ کی چھت گرنے کے واقعے جس میں مزدور اور خواتین جاں بحق ہوئے ہیں پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد(28مارچ2018)

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری نے سکھر میں کھجور مارکیٹ کی چھت گرنے کے واقعے جس میں مزدور اور خواتین جاں بحق ہوئے ہیں پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آصف علی زرداری نے حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کرکے مجرمانہ غفلت کرنے والوں کو سزا دلائی جائے۔ آصف علی زرداری نے سندھ حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ جاں بحق مزدوروں کو معاوضہ دیا جائے اور زخمیوں کو بہتر علاج کی سہولیات کے ساتھ ان کی مالی مدد بھی کی جائے۔ آصف علی زرداری نے جاں بحق مزدوروں کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہارجبکہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔

 

 

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے

اسلام آباد 28مارچ 2018)

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ خواتین کو چاہیے کہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کریں کیونکہ پیپلزپارٹی ہی خواتین کے حقوق کی ضمانت ہے۔ اسلا م آباد میں ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پارٹی کے صدر آصف علی زداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری چاہتے ہیں کہ ہر شعبے میں خواتین کی بھرپور نمائندگی ہو۔ اس کی مثال یہ بھی ہے کہ سینیٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی نے خواتین کو سب سے زیادہ نمائندگی دی ہے اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بھی خاتون ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی امانت ہے جس کی قائدانہ صلاحیتوں کا پوری دنیا اعتراف کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے فلسفے پر عمل پیرا ہے اور ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور معاشرے میں خواتین کا باوقار مقام پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیادی ترجیح ہے اور یہ کوشش ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کا پاکستان بنا کر خواتین کو ہر طرح کے تشدد سے محفوظ بنایا جائے۔

 

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خطاب

بسم االلہ الرحمن الرحیم
نعرے تکبیر اللہ اکبر
نعرے رسالت یارسول اللہ
نعرے حیدری یا علی
نعرے بھٹوجئے بھٹو
السلام علیکم!
 
ساتھیو!
آپ کو یاد ہوگا میں اپنی عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں پہلے چترال، مانسہرہ،کاغان اور پشاور گیا تھا، وہاں بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا تھا،اسی سلسے میں آج میں یہاں بنوں میں آپ کے پاس حاضرہوا ہوں۔
 
بنوں کے جیالو !
میں سلام پیش کرتا ہوں آپ کے جوش کو، آپ کے جذبے کو، آپ نے ہر مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ دیا، پارٹی کا پرچم تھامے رکھا، اور آج یہاں جمع ہو کر اس بات کاثبوت دیا ہے کہ بھٹو شہید کے جیالے بی بی شہید کے جانثار، آج بھی جدو جہد کا علم تھامے عوام دشمن قوتوں کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔
 
میرے پختون بہنوں اور بھا ئیو،
آ پ سب جانتے ہیں کے پاکستان پیپلز پارٹی آپ سے خیبر پختونخواں سے رشتہ آج کا نہیں، بلکہ پچاس سال(50)پرانہ ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے انیس سو باہتر(1972) میں مینگورہ میں خطاب کرتے ہوئے مالاکنڈ ڈویزن سے (FCR) جیسے کالے قانون کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے، جنہوں نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا ، فاٹا کا ترقیاتی بجٹ بڑھایا، رزمک کالج قائم کیا، اورکزئی اور باجوڑ ایجنسیز کا قیام عمل میں لا یا گیا،پاکستان پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے فاٹا ریفارمزکا آغاز کیا، فاٹا کے لوگو ں کو ووٹ کا حق دیا،سیاسی جماعتوں کو فاٹا میں کام کرنے کا موقعہ ملا،
پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد پار ٹی ہے جو فاٹا کو خیبر پختونخواں میں ضم کرے گی، لیکن یہاں پر مولانا صاحب ہیں، جو فاٹا کو خیبر پختونخواں میں ضم کرنے کی مخالفت کررہے ہیں، مولانا صاحب آ پ کو فاٹا کی عوام سے دشمنی کیا ہے؟آپ ان کے بنیادی انسانی حقوق کیوں پامال کر رہے ہیں؟
ساتھیو!
آپ کو یاد ہوگا کے اپنی شہادت سے کچھ دن پہلے بی بی شہیدخیبر پختونخواں تشریف لائی تھی، اور ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کے میں �آپ کے بچوں کو دیکھتی ہوں تو مجھے اپنے بچے یاد آتے ہیں اور جب میں اپنے بچوں کو دیکھتی ہوں تو مجھے آپ کے بچے یاد آتے ہیں،انہوں نے کہا تھا کے مجھ سے زیادہ آپ کے دکھ اور درد کون سمجھ سکتا ہے،اور آج میں یہ کہتا ہوں کہ ہر مظلوم کا دکھ میرا دکھ ہے،ہر مقتول کا درد میرا درد ہے اور یہ صرف میں جانتا ہوں کوئی اور نہیں جان سکتا۔
خیبر پختونخواں کی بہادر عوام پچھلے چالیس سال (40)سے آگ اور خون کا مقابلہ کر رہی ہے، خوشبو کی وادی خون کی وادی میں تبدیل کر دی گئی ہے حالت جنگ میں ہے، گندھارا کی پر امن تہذیب جنگ کی لپیٹ میں ہے،آج بی بی شہید ہم میں موجود نہیں ، مگر انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی نے ہماری نسلیں برباد کر دی ہیں،لیکن ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ان درندوں اور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے، آج میں یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ ہم ان دہشت گردوں سے لڑیں گے، ہم ان سے جنگ
کریں گے،وہ ہمارے بچوں کو مارتے ہیں،ہماری عورتوں پر حملہ کرتے ہیں،ہمارے برزگوں کوقتل کرتے ہیں،ہمارے نہتے شہریوں پر حملے کرتے ہیں،ہمارے جوانوں کو مارتے ہیں،مگر ہم ان درندوں کی طرح نہیں ہیں ،ہم یہ نہیں کر سکتے، بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا گیا،ہم یہ چاہتے ہیں کہ دہشت گرد ہوں یا مشرف۔
وہ گرفتار ہوں ان پر مقدمہ چلے، اور عدالتیں ان کو قانون کے مطابق سزا دیں۔میں سمجھتا ہوں کہ دہشت گردی کوتب ہی شکست دی جا سکتی ہے جب ملک میں، رول آف لاء کا مکمل نفاذہو،جب انسانی حقوق کی پاسداری ہوگی۔
اگر لوگ لاپتا ہونگے ، اگر ٹارگٹ کلنگ ہوگی ،تو دہشتگردی ختم نہیں ہو سکتی ۔
یہاں نہ ایک نقیب اللہ محسود اور نہ ہی ایک ٹارگٹ کلر ہے ، یہ مسئلہ پورے ملک کا مسئلہ ہے ۔
اور اس کے حل کے لیے ہمیں ایسی عدلیہ کی ضرورت ہے جو انصاف کر سکے ۔
ہمیں ایسی پولیس کی ضرورت ہے ،جس پر لوگ اعتماد کر سکیں ۔
ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جوقانون کی حکمرانی کو ممکن بنائے ۔
مجھے اپنی پولیس پر فخر ہے ، چاہے وہ کے پی کے کی پولیس ہو۔
چاہے پنجاب کی ۔ چاہے بلوچستان یا سندھ کی ۔
انہوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ، دہشتگردوں کو خلاف بہادری سے لڑے ہیں ۔
یہ ہمارے دفا ء کی فرنٹ لائن ہیں ، ہمیں اس فرنٹ لائن کو منظم اور مضبوط کر نے کی ضرورت ہے ۔
کیونکہ ہم ہر گلی میں فوجی جوان کھڑا نہیں کر سکتے ۔
آج جو پشتون نوجوانوں نے اپنی آئینی حق کے لیے ایک جمہوری انداز میں آواز بلند کی ہے ،
ہم سب کو وہ آواز سننی چاہیے۔
اور دیکھنا چاہییے کے کہاں غفلت ہوئی ہے ،کہاں کوتاہی ہوئی ہے ،کہاں غلطیاں ہوئی ہے،
 
ساتھیو!
آپ کو یاد ہے کے شہید بی بی کی جدائی کا دکھ دل میں لیے ہم نے ۔2008کے انتخابات کے بعد جب حکومت سنبھالی تو دہشتگرد مالاکنڈ پر قبضہ کر چکے تھے ،سوات ان کے کنٹرول میں تھا پورے مالا کنڈ میں خوف کا راج تھا،اس وقت ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا ہم نے پورے پارلیامان کو اعتماد میں لیااور Sustainable Peaceکے قیام کے لیے پوری قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہوگئی ہم نے پہلا کامیاب آپریشن کیا ،اور مالاکنڈ کو دہشتگردوں سے آزاد کروایا(25)لاکھ افراد IDP’sبن گئے لیکن ہم نے صرف (3)مہینوں کے اندر تمام IDP’sکی بحالی کے عمل کو ممکن بنایا،ن لیگ کی حکومت میں APSسانحے کے بعدضربِ عضب شروع ہوا ،جس کے نتیجے میں (82)ہزارخاندان IDP’sبن گیے۔
مگر اس حکومت نے ان کے لیے کیا کیا؟
PTIکی حکومت نے ان کے لیے کیا کیا؟
حقیقت تو یہ ہے کے انہیں لاوارث چھوڑ دیا گیا۔
چار سال گذرنے کے باوجود،ابھی تک (20)ہزار خاندان دربدر ہیں ۔
 
ساتھیو!
پاکستان پیپلز پاٹی یہ سمجھتی ہے کے صرف طاقت کا استعمال دہشتگردی کو نہیں روک سکتا،ہم نے ہمیشہ کہا ہے کے دہشتگردی ،انتہا پسندی سے جنم لیتی ہے ،دہشتگردی علامت ہے ۔انتہا پسندی بیماری ہے اور یہ بیماری آمریت کے دور میں پھیلی ہے ،جب تک انتہا پسندی کو روکا نہیں جاتا ،اس وقت تک دہشتگردی ختم نہیں ہوسکتی ۔
انتہا پسندی کو روکنے کے لیے ،نصاب میں تبدیلی لانی پڑیگی ،سماجی انصاف قائم کرنا پڑیگا ،معاشی مواقعے پیدا کرنے پڑینگے،رواداری اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا،کالعدم تنظیموں کی ہر طرح کی سرگرمیوں کو روکنا پڑیگا۔
ساتھیو!
جب تک یہ اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ،انتہا پسندی نہیں رک سکتی ۔
جب تک طالبان کو بچھڑا ہوا بھائی کہا جائیگا، تب تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔
عمران خان صاحب جب بھی دوسرے صوبوں میں جاتا ہے،تو یہ کہتا ہے کے KPKمیں کرپشن ختم کردی ہے ،اسکول سے کوئی بچا باہر نہیں،صحت کا نظام ایسا ہے کے اب کوئی آدمی بیمار نہیں ہوتا ،امن ایسا ہے کے شیر اور بکری ایک ہی جگہ سے پانی پیتے ہیں اور روزگار ایسا دیا ہے کے نوجوان کم پڑگئے ہیں ۔
واہ خان صاحب واہ!
کیا بات ہے آپ کی ،اگر جھوٹوں کا عالمی میلا لگایا جائے تو سب سے بڑا تاج آپ کو ہی پہنایا جائیگا۔
خان صاحب آپ نے دی تو صرف گالی دی اور لیا تو U-Turnلیا۔
KPKکی عوام سے زیادہ کون جانتا ہے کے کرپشن ختم کرنے کا دعوی کرنے والے کے وزیر اعلیٰ پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں ،اور تو اور Supreme Courtکے خان صاحب کی ATMمشین کو نااہل ترین قرار دیا جو ابھی تک اس کے Rightاور Leftپر کھڑا ہوتا ہے ۔
تعلیم کی یہ حالت ہے کے پچھلے پانچ سال میں Kpkمیں ایک نئی یونورسٹی نہیں بنائی گئی ۔
یونورسٹی کیسے بنتی انہوں نے تو Kpkکے تعلیمی Budgetسے (57) کروڑ روپے صرف ایک مخصوص مدرسے کو دے دیے ۔
جبکہ ہم نے سندھ میں نئے Medical اور Engineering یونورسٹیز بنائی ہیں Collegesبنائے ہیں ۔
آپ کو معلوم ہے نہ کے پچھلے پانچ سالوں میں خان صاحب نے Kpkمیں ایک نیا سرکاری ہسپتال نہیں
بنایا ،جبکہ میں نے سندھ میں صرف پچھلے (8)مہینوں میں کرچی کے بعد عالمی معیارکے پانچ بڑے ہسپتال کا افتتاح کیا ۔
جہاں بلکل مفت علاج ہوتا ہے اور جہاں روزگار کی بات ہے تو اگر Kpkکی عوام کو یہاں کے نوجوانوں کو یہاں روزگار ملتا تو وہ دوسرے صوبوں یا شہروں میں روزگار تلاش کرنے کیوں جاتے ،کوئی بھی انسان اپنی مرضی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتا ۔
غربت اور روزگار کی کمی کی وجہ سے لوگ اپنا گھر خاندان اور زمین کو چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔
یہ ملک پورا آپ کاہے ،آپ جہاں رہنا چاہیں رہ سکتے ہیں ،آپ کراچی میں رہ سکتے ہیں،آپ وہاں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں ،آپ وہاں علاج کرا سکتے ہیں ،آپ وہاں روزگار حاصل کرسکتے ہیں ۔
سندھ کی صوبائی حکومت نے غربت کم کرنے کے لیے Union Council Levelپر غریب ترین عورتوں کواپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کے لیے بلہ سودقرضے دیے اور اس انقلابی صوبائی پروگرام کی وجہ سے (6)لاکھ خاندان غربت سے نکلے ۔
میں ایسا ہی پروگرام بنوں میں بھی چاہتا ہوں ،میں ایسا ہی پروگرام Kpkکی ہر Union Council میں چاہتا ہوں ،میں ایسا ہی پروگرام پورے پاکستان کے غریبوں کے لیے چاہتا ہوں ۔
میں چاہتا ہوں کے سندھ میں رہنے والے تمام پختونوں کو ہر سہولتیں دوں،ان کو روزگار بھی ملے ،مفت علاج بھی ہو ،تعلم بھی ملے ،مگر میں یہ بھی چاہتا ہوں کے پختونوں کے لیے Kpkمیں ان کے گھر میں روزگار ہو ،تعلیم ملے اور مفت علاج ہو ۔
غریبوں کی حالت بہتر کی جائے ،غربت میں کمی لائی جائے ،ہماری وفاقی حکومت نے جب BISPکا آغاز کیا تو اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کے سارے ملک کی غریب ترین خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنایا جائے ،یہ کوئی خیراتی پروگرام نہیں تھا بلکہ Economic Empowermentکا پروگرام تھا جس کے تحت لاکھوں خواتین نےskills سیکھیں ،اپنے کاروبار شروع کیے روزگار کے نئے مواقعے پیدا ہوئے اور اس طرح خواتین نے ملک کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ۔
مگر ساتھیو!
ان لوگوں نے BISPسے بی بی شہید کی تصویر ہٹا دی ہے،یہ اتنے بزدل ہیں کے اب بھی بینظیر سے ڈرتے ہیں ،آپ تصویر ہٹا سکتے ہو ،آپ نام بدل سکتے ہو لیکن غریب عورتوں کے دلوں سے بی بی شہید کی محبت کو ختم نہیں کر سکتے ۔
ن لیگ نے Kpkسے لیکر سندھ تک دیے گئے غریب عورتوں کے BISPکارڈ کینسل کردیے ہیں ۔
ظالموں ،غریب عورتوں سے ان کا حق مت چھینوں ،اور یاد رکھو کے میں آپ کو ان غریب خاندانوں کا حق چھیننے نہیں دونگا ۔
مگر میں آپ سے پوچھتا ہوں کے KPKحکومت نے آپ کے لیے کیا کیا ہے ؟
کیا نیا KPKبنایا ہے؟
کیا KPKمیں کوئی تبدیلی آئی ہے ؟
کیا (90)دن میں کرپشن ختم ہوئی ہے ؟
کیا KPKمیں غربت میں کمی آئی ہے؟
کیا پولیس کا نظام بہتر ہوا ہے؟
کیا ہر بچے کے لیے تعلیم کے دروازے کھلے ہیں ؟
کیا ہر شخص کو صحت کا انصاف ملا ہے؟
کیا آپ نے ایک ارب درخت دیکھیں ہیں ؟
کیا بنوں میں کوئی نیا سرکاری ہسپتال بنا ہے؟
کیا یہاں پر کوئی نئی یونیورسٹی بنی ہے؟
 
ساتھیو!
جو نیا پختونخواں نہیں بنا سکے وہ نیا پاکستان کیسے بنائیں گے؟
وہ نیا پختونخوا کیا بناتے ، انہوں نے تو پرانے پختونخوا کو بھی بیچ دالا۔
ہم نے پختونخوا کو اپنے وسائل کا مالک بنایا، اُ س نے وہ وسائل اپنے حواریوں میں تقسیم کر دیے ۔
ہم نے پختونخوا کو صوبائی خودمختاری دی ، اُ س نے یہ خودمختاری بنی گالا میں قید کر لی ۔
خان صاحب نے پختونوں کے ساتھ کھیل کھیلا ، یہ کھیل اب نہیں چلے گا ۔
پختون جاگ چکے ہیں ۔
پختونخواں جاگ چکا ہے ۔
نوجوانوں کی آنکھوں سے آپ کے دھوکے کی پٹی اُتر چکی ہے ۔
پختونخوا ں آپ سے بدلہ لے گا ۔
پختونخوا ںآپ سے ووٹ کے ذریعہ بدلہ لے گا ۔
میں بنوں کی عوام کو سلام پیش کرتاہوں ،جنہوں نے پہلے ہی خان صاحب کو ایک جلسہ عام میں آئینہ دکھا یا،جب انہوں نے پوچھاکے خیبر پختونخواں میں کرپشن ختم ہوئی یہ نہیں؟
تو پورے مجمعے سے وزیر اعلی کے سوا کسی نے ہاتھ کھڑا نہیں کیا تھا۔
ہمیں فخر ہے کے بنوں والوں نے سب سے پہلے سچ بول دیا تھا، اور یہ سچ عمران خان کے منہ پر بولا تھا۔
بنوں والو آپ بتائیں کیا آپ اپنے پختونخواں کی قومی اور سرکاری وسائل کی لوٹ مار کی اجازت دوگے؟
کیا آپ انہیں دوبارہ اپنے صوبے کو سیاسی تجربے گاہ بنانے کی اجازت دوگے؟ آج بنوں کی عوام نے پورے صوبے کا فیصلہ ایک ساتھ دے دیا ہے،کہ وہ اگلے انتخابات میں نیازیوں کی فیاضیوں کا جواب دیں گے اور پختونخواں کو بنی گالا کے تسلط سے نجات دلوائیں گے۔
 
ساتھیو!
وہ جو ایک ہفتے پہلے دوسروں کو چابی والا کھلونا کہہ رہا تھا �آآج میاں صاحب خود اپنی کھوئی ہوئی چابی کو ڈھونڈ رہا ہے ۔
آپ نے کبھی غور کیا ،کہ میاں صاحب نے آپ کے ساتھ کیا کیا ؟
آپ کو یاد ہے اٹھارویں ترمیم کے وقت میاں صاحب نے پختونخواں کی مخالفت کی تھی ۔
انہوں نے اعلان کر دیا تھا ، کہ اگر سرحد کا نام بدلہ گیا ، تو انکی جماعت اٹھارویں ترمیم پر دستخط نہیں کریگی
وہ پختونخوں کو اس کی تاریخی شناخت بحال کرنے کے خلاف تھے ۔
وہ پختونخوں کو انگریز کے صوبے کے طور پر قائم رکھنا چاہتے تھے ۔
لیکن بعد میں پیپلز پارٹی اور اتحادی پارٹیوں کے سخت مو قف نے میاں صاحب کو گھٹنے تٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔
اور انھیں صوبائی خودمختاری اور کے پی کے کی ترمیم کو مانناپڑا۔
مگر 2013 میں حکومت میںآنے کے بعد پچھلے پانچ سال سے وہ مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ اٹھارویں ترمیم اور ساتوے این ایف سی ایورڈ میں دی گئی سیاسی اور مالیاتی خودمختاری کو واپس لیا جا سکے
انہوں نے کئی باراس عظیم سیاسی اتفاق رائے پر خطرناک حملے کیے ۔
آج بھی انکا مشیر خزانہ کہتا ہے ، کہ صوبوں کو دیے گئے مالی اختیارات مرکز کو پھر چھین لینے چاہیے۔
لیکن یاد رکھو ،
جب تک اس ملک میں پیپلزپارٹی کا ایک بھی کارکن موجود ہے ہم آپ کو اٹھارویں ترمیم اور ساتوے این ایف سی ایواڈ کے ہو نے والی منصفانہ مالیاتی تقسیم کو تبدیل نہیں کرنے دینگے ۔
ہم نون لیگ کی اس سازش سے با خبر ہیں ۔
اور ہم اس قومی اتفاق رائے پر حملہ کرنے والوں کو موں توڑ جواب دینگے ۔
ہم وفاق کی بنیادی اساس کو چھیڑنے والو ں کا راستہ روکیں گے ۔
ہم صوبوں کی خودمختاری پر حملہ کر نے والوں کو عوام میں بے نقاب کرینگے ۔
 
پشتون بہنوں اور بھائیو،
CPEC کا منصوبہ پورے پاکستان کا منصوبہ ہے ،
جس کی بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی نے رکھی ۔ جس کا مقصد دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہ علاقوں کی معاشی بحالی تھی ۔جس کا مقصد کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی دینا اور غریبوں کو غربت سے باہر نکالنا تھا۔
مگر آج CPEC لاہور میں تو نظر آتا ہے ، بلوچستان اور کے پی کے میں نظر نہیں آتا ۔
اور مولانہ صاحب آپ نے اپنے گاؤں میں interchange کا منصوبہ تو منوالیا ،
لیکن کے پی کے اورفاٹا کے لئے کیا کیا آپ نے ؟
اور خان صاحب آپ نے بھی میانوالی میں تو interchange کا منصوبہ تو منوالیا ،
لیکن کے پی کے جہاں آپ کی حکومت ، ان کے ساتھ آپ کی کیا دشمنی ہے ؟
نواز لیگ نے وفاقی Discreationary فنڈ کا 94 فیصد پنجاب میں سرف کیا ،
جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 47 فیصد پنجاب میں ،اور 21 فیصدکے پی کے اور فاٹا میں سرف کیا۔
جس سے اندازہ ہوتا ہے ، کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ن کر تا ہے ،۔
 
ساتھیو!
ہم ان دونوں کو جان چکے ہیں ، آپ بھی ان دونوں کی اصلیت کو جان چکے ہیں ،
انکے نعروں کی حقیقت اب آپ کے سامنے کھل کر آچکی ہے ۔
اب وقت آگیا ہے ۔کے ان کو آئندہ انتخابات میں آئینہ دکھا یا جائے،اور یہ بتایا جائے کہ ہم تمہارے جال سے نکل چکے ہیں، ہم تمہارے فریب سے نکل چکے ہیں،ہم دوبارہ تمہارے دھوکے میں نہیں آئیں گے ،اور دو ہزار اٹھارہ(2018)میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کرایک پر امن خیبر پختونخواں نئی بنیاد رکھیں گے۔
 
ٓساتھیو!
میاں صاحب ہو، یا خان صاحب ، ہمارے لیے یہاں دونوں ایک ہی ہیں، ان کے نظریات ایک ہی ہیں،ان کی سیاست ایک ہی ہے، ان کی بنیاد ایک ہے،عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں، کے کس کو کیوں نکالا گیا،عوام اپنے مسائل کا حل چا ہتی ہے،عوام غربت کا خاتمہ چاہتی ہے،عوام مفت تعلیم چاہتی ہے،
عوام مفت علاج چاہتی ہے،عوام روزگار چاہتی ہے،عوام خوشحالی چاہتی ہے،عوام روٹی کپڑا اور مکان چاہتی ہے۔
مانگ رہا ہے ہر انسان
روٹی کپڑا اور مکان
علم صحت سب کو کام
 
مانگ رہا ہے ہر انسان
روٹی کپڑا اور مکان
علم صحت سب کو کام
 
آؤ جیالو میرے ساتھ نعرے لگاؤ
تیر چلے گا تیر چلے گا
بی بی تیرا تیر چلے گا
بھٹو تیرا تیر چلے گا
شہید تیرا تیر چلے گا
کل چلا تھا آج چلے گا
تیر چلے گا تیر چلے گا
شیر پر بھی تیر چلے گا
بلا ولا نہیں چلے گا
تیر چلے گا تیر چلے گا
سنو مولانا تیر چلے گا
کل چلا تھا آج چلے گا
تیر چلے گا تیر چلے گا
بنوں میں تیر چلے گا
کے پی میں تیر چلے گا
کل چلا تھا آج چلے گا
تیر چلے گا تیر چلے گا


بیگم نصرت بھٹو کے 89ویں یومِ پیدائش کے موقع پرسابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے بیگم بھٹو کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے

مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کے 89ویں یومِ پیدائش کے موقع پرسابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے بیگم بھٹو کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں قومی اثاثہ قرار دیا ہے۔ پاکستان کی سابق خاتون اول کو ایک انتہائی مشکل وقت میں عوام دشمن قوتوں کے خلاف جدوجہد کی قیادت کرنے والی شخصیت کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ اس بے مثال جدوجہد کے دوران انہیں ذہنی اور جسمانی زخم ملے اور آج یہ زخم اس خاتون کے لئے چمکتے ہوئے میڈل ہیں۔ مادرِ جمہوریت ملک کی جمہوری سیاسی جدوجہد میں ایک بے مثال مقام رکھتی ہیں۔ ان کی جرا ¿ت، برداشت اور صبر تمام جمہوریت پسندوں کے لئے مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے یومِ پیدائش کے موقع پر ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ جن اصولوں کی خاطر بیگم نصرت بھٹو نے ساری عمر جدوجہد کی انہیں ہم ہمیشہ مقدم رکھیں گے۔

 

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے 78ویں یوم پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں قوم سے کہا ہے

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے 78ویں یوم پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں قوم سے کہا ہے کہ قائداعظم کے پہلی آئین ساز اسمبلی سے 11اگست 1947ءکے خطاب کو ریاست کے لئے رہنما اصول کے طور پر اپنانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی اور فلاح و بہبود ، بلا لحاظ رنگ و نسل اور مذہب کے سب کا حق ہے اور یہ بات بابائے قوم نے کی ہے کہ ریاست کے کاموں میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ ہمارے بابائے قوم کے ان نظریات کے لئے سب سے بڑا خطرا انتہاپسندوں اور مذہبی جنونیوں سے ہے جنہوں نے اپنی آستینوں میں اپنا مذہب پہنا ہوا ہے اور وہ اپنا قدامت پسند، خواتین دشمن اور غیرمسلم دشمن ایجنڈا ملک پر تھوپنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسے عناصر آخر وقت تک لڑتے رہیں گے۔ قائداعظم قانون کی حکمرانی چاہتے تھے لیکن اس وقت ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے اور کریمنل جسٹس سسٹم توڑ پھوڑ کا شکار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر وہ یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کریمنل جسٹس سسٹم کو درست کرنے میں فوقیت سے کام لے گی۔ سابق صدر نے ان لوگوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے جمہوریت کی خاطر سختیاں جھیلیں اور جنہوں نے عسکریت پسندوں اور انتہاپسندوں سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان شہیدوں کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم ایک آزاد زندگی گزار رہے ہیں اور وہ سارے لوگ اس قوم کے صحیح معنوں میں ہیرو اور ہیروئنیں ہیں۔

 

کراچی (21 مارچ 2018) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے

کراچی (21 مارچ 2018) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے قومی پرچم بردار پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائینز اور ملک کے سب سے بڑے لوہے کے کارخانے پاکستان اسٹیل ملز کو فروخت کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت مذکورہ قومی اثاثوں کی نجکاری کا عمل فی الفور روک دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلاول ہائوس میں منعقد پارٹی رہنماوَں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پی پی پی سندھ کے صدر نثار احمد کھڑو، جنرل سیکریٹری وقار مہدی، سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی، پی پی پی کراچی ڈویژن کے صدر و صوبائی وزیر سعید غنی اور وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے شرکت کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی مالک پاکستان کی عوام ہے، اور وہ “ایک خریدو، دوسرا مفت” جیسے مشکوک عمل کے ذریعے قومی اثاثوں کو نیلامی کے ہتھوڑے کے نیچے نہیں آنے دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت بڑی بدیانتی ہے کہ ایک وزیراعظم جو اپنی ذاتی ایئرلائین منافعے میں چلارہے ہیں، قومی پرچم بردار ایئر لائین کی مارکیٹ و روٹس ہتھیانے کے لیئے پی آئی اے کو بیچنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح نواز شریف اور ان کا خاندان اندرون و بیرون ملک اپنے لوہے کے کارخانے بہت بڑے منافعے میں چلا رہے ہیں لیکن پاکستان اسٹیل ملز کو جان بوجھ کر تباھی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے تاکہ وہ اپنی اجارہ داری قائم کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سول ایویئیشن اتھارٹی (CAA ) کی نجکاری کے بھی خلاف ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے مذکورہ اداروں کے ملازمین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی رہنماوَں کو کہا کہ وہ پی آئی اے، اسٹیل ملز اور سول ایویئیشن اتھارٹی کی نام نہاد نجکاری کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں۔ انہوں نے میاں رضا ربانی کو ہدایت کی کہ وہ ملک بھر کی ٹریڈ یونینز سے ملک کر آئندہ کا لائحہ عمل طئے کریں۔