سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے 78ویں یوم پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں قوم سے کہا ہے کہ قائداعظم کے پہلی آئین ساز اسمبلی سے 11اگست 1947ءکے خطاب کو ریاست کے لئے رہنما اصول کے طور پر اپنانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی اور فلاح و بہبود ، بلا لحاظ رنگ و نسل اور مذہب کے سب کا حق ہے اور یہ بات بابائے قوم نے کی ہے کہ ریاست کے کاموں میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ ہمارے بابائے قوم کے ان نظریات کے لئے سب سے بڑا خطرا انتہاپسندوں اور مذہبی جنونیوں سے ہے جنہوں نے اپنی آستینوں میں اپنا مذہب پہنا ہوا ہے اور وہ اپنا قدامت پسند، خواتین دشمن اور غیرمسلم دشمن ایجنڈا ملک پر تھوپنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسے عناصر آخر وقت تک لڑتے رہیں گے۔ قائداعظم قانون کی حکمرانی چاہتے تھے لیکن اس وقت ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے اور کریمنل جسٹس سسٹم توڑ پھوڑ کا شکار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر وہ یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کریمنل جسٹس سسٹم کو درست کرنے میں فوقیت سے کام لے گی۔ سابق صدر نے ان لوگوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے جمہوریت کی خاطر سختیاں جھیلیں اور جنہوں نے عسکریت پسندوں اور انتہاپسندوں سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان شہیدوں کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم ایک آزاد زندگی گزار رہے ہیں اور وہ سارے لوگ اس قوم کے صحیح معنوں میں ہیرو اور ہیروئنیں ہیں۔