Archive for May, 2018

پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق مرکزی سیکریٹری اطلاعات سینیٹ تاج حیدر نے وفاقی حکومت کی جانب سے مردم شماری کے نتائج مشترکہ مفادات کونسل کی اجلت میں بلائے گئے

پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق مرکزی سیکریٹری اطلاعات سینیٹ تاج حیدر نے وفاقی حکومت کی جانب سے مردم شماری کے نتائج مشترکہ مفادات کونسل کی اجلت میں بلائے گئے اجلاس میں توثیق کرنے کی کوشش پر سخت احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں شماریات ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری اس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے جس پر سینیٹ میں تمام سیاسی پارٹیوں نے اتفاق کیا تھا۔ یہ معاہدہ اس اجلاس میں کیا گیا تھا جس کی سربراہی وزیراعظم نے کی تھی اور راجہ ظفرالحق نے سینیٹ کے اندر اس پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کی گارنٹی دی تھی۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ سندھ اور فاٹا کی آبادی کم شمار کرنے سے نہ صرف منتخب ایوانوں میں ان دونوں علاقوں کی نمائندگی کم ہو جائے گی بلکہ انہیں وسائل اور نوکریوں کے کوٹے میں کٹوتی بھی برداشت کرنی پڑے گی جس سے وفاق کی بنیاد پر ضرب لگے گی۔ 2017ءکی مردم شماری ایک صوبے سے نقل مکانی کرکے دوسرے صوبے میں رہنے والوں کو ان کے اصلی صوبے میں شمار کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو قطعی طور پر شمار ہی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تین صوبوں میں نوکریوں کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے ایک صوبہ سندھ میں دو کروڑ افراد نقل مکانی کرکے رہ رہے ہیں۔ سندھ کے ہسپتالوں میں علاج کرانے والے افراد میں سے 60فیصدکا تعلق دیگر صوبوں میں سے ہے۔ کیونکہ دیگر صوبوں میں صحت کی سہولیات انہیں مہیا نہیں کی گئی ہیں۔ صوبہ سندھ میں دیگر صوبوں سے آئے ہوئے لوگوں کو شمار نہ کرنے اور سندھ میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو بھی شمار نہ کرنے کی وجہ سے اگلے دس سالوں تک اوسطاً 50ارب سالانہ کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا اور وفاق کی جانب سے سندھ کا حصہ کم ہو جائے گا۔ فاٹا کی آبادی میں 50لاکھ لوگوں کو شمار ہی نہیں کیا گہا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اسلام آباد کی آبادی تیزی سے بڑھتی ہوئی دکھائی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں دیگر صوبوں سے نقل مکانی کرکے لوگوں کی آبادی بڑھ گئی ہے۔ اگر یہی اصول اپنایا جائے تو سندھ میں بھی دو کروڑ لوگ نقل مکانی کرے آباد ہو گئے ہیں لیکن انہیں شمار نہیں کیا گیا۔ سینیٹر تاج حیدر نے یاد دلایا کہ موجودہ حکومت نے سی پیک کے روٹ پر آل پارٹیز معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ جس پر سندھ کے تما م سینیٹروں نے سی پیک پر سینیٹ کی کمیٹی میں پرزور احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ سی پیک کے روٹ کے معاملے میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ اس احتجاج کے وقت سندھ کے سینیٹروں نے کے پی اور بلوچستان کے مفاد کو مدنظر رکھا اور بھائی چارے کے طور پر پشتونوں اور بلوچوں کا ساتھ دیا۔ اب سندھ دوسرے صوبوں خاص طور پر کے پی اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کی جانب دیکھ رہا ہے کہ وہ سندھ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر احتجاج کریں گے۔

 

 

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پیپلزپارٹی کے رہنما اور کارکنوں پر زور دیا ہے کہ میرے دست بازو بن کر عام انتخابات میں پارٹی کے نامزد امیدواروں کو جتوانے کے لئے بھرپور کردار

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پیپلزپارٹی کے رہنما اور کارکنوں پر زور دیا ہے کہ میرے دست بازو بن کر عام انتخابات میں پارٹی کے نامزد امیدواروں کو جتوانے کے لئے بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ باقی سیاسی پارٹیوں کے پاس کھوکھلے دعوے اور جھوٹے نعرے ہیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس عوام کی بہبود کے لئے قابل عمل پروگرا م ہے۔ بدھ کے روز زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں مختلف وفود جن میں فاٹا کے ایم این اے ساجد حسین طوری، ایم پی اے ضیااللہ آفریدی، نواب محسن علی خان اور پیپلزپارٹی ضلع منڈی بہاﺅالدین کے عہدیدار شامل تھے۔ ملاقات کے دوران قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ اور فیصل کریم کنڈی بھی موجود تھے۔ ایم این اے ساجد حسین طوری سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فاٹا ہمیشہ پیپلزپارٹی کی ترجیح رہی ہے۔ فاٹا کی ترقی کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے بتائے ہوئے راستے پر صدر آصف علی زرداری نے فاٹا کو کے پی میں شامل کرنے کے لئے کام شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹوں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد فاٹا کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ضیااللہ آفریدی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ پورے صوبے کے نوجوانوں تک میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ ان کے بہتر مستقبل کی ضمانت دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے جھوٹے نعرے لگانے والے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس عوام کی بھلائی اور خوشحالی کا پروگرام تھا ہی نہیں۔ پیپلزپارٹی منڈی بہاﺅالدین کے وفد سے بات کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات جیتنے کے لئے آپ کو بہت محنت کرنی پڑے گی۔ آپ کی محنت اور جدوجہد سے پاکستان پیپلزپارٹی انتخابات جیتے گی۔

 

پاکستان پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کی طرف سے 100 ایجنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اسے الیکشن سے قبل دھاندلی قرار دے دیا ہے۔

 

پاکستان پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کی طرف سے 100 ایجنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اسے الیکشن سے قبل دھاندلی قرار دے دیا ہے۔ عمران خان نے گزشتہ انتخابات میں بھی 90 دن کا ایجنڈا دیا تھا جو پانچ سال میں بھی پورا نہ ہوسکا‘ عمران خان اپنے بیانات سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آئندہ وزیراعظم ہوں گے لیکن ان کے ہاتھ میں وزیراعظمکی لکیر ہی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخواہ میں اپنے پانچ سالہ دور میں تعلیم ‘ صحت انفراسٹرکچر سمیت عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی بجائے پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔ نواز شریف اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ملکی سلامتی کو دا? پر لگانا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے لیکن ان کی تنخواہوں کیلئے اربوں روپے کے فنڈز کس اے ٹی ایم مشین سے آئیں گے۔ عمران خان نے 50 دن میں 100 لوٹے اکٹھے کرلئے ہیں لوٹے کیا تبدیلی لائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما?ں ذاکر نفیسہ شاہ ‘ مولا بخش چانڈیو‘ کے پی کے پیپلزپارٹی کے صدر ہمایوں خان‘ سیکرٹری جنرل فیصل کریم کنڈی اور سیکرٹری اطلاعات کے پی کے روبینہ خالد نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نزیر ڈھوکی بھی ان کے ہمراہ تھے پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ الیکشن سے 70 روز قبل پی ٹی آئی کا 100 دن کا ایجنڈاالیکشن سے قبل دھاندلی ہے یہ ایجنڈا پتہ نہیں 100 دن کا ہے یا سو سال کا کیونکہ اسد عمر نے کہا تھا کہ یہ ایجنڈا سو سال کا ہے۔ اس بات کا شائد کسی کو پتہ ہے یا نہیں انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بھی نااہل ہونے والے جہانگیر ترین اٹھارہ ہزار ایکڑ رقبے کے مالک ہیں یہ آج کے جاگیر دار ہیں۔ پی ٹی آئی بتائے کہ کے پی کے میں اٹھارہ سو پچیس دن میں عوام کیلئے انہوں نے کیا کیا ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ عمران خان جیسے شخص کیسے وزیراعظم بن سکتے ہیں جو 550 قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں سے صرف بیس میں آئے ہیں۔ عمران خان نے پچاس دنوں میں سو لوٹے جمع کرلئے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ہم دعویٰ نہیں کرتے انتخابات آنے دیں۔ پیپلزپارٹی اپنی کامیابی سے ”سو سنار کی ایک لوہار کی“ ثابت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چند لوٹے پی ٹی آئی میں جانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ جو پانچ سال میں کے پی کے میں کچھ نہیں کر سکے وہ سو دن میں پورے پاکستان میں کیا کریں گے عمران خان کے ہاتھ میں وزیراعظم کی لکیر ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ میری پارٹی میں فرشتے ہوں گے لیکن اب انہوں نے لوٹے کی بجائے ڈرم اکٹھے کرلئے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے کوئی ایسا گناہ نہیں کیا کہ اس کو مجرم ٹھہرایا جائے۔ پیپلزپارٹی شہید ذوالفقارعلی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کے ویڑن کے مطابق چل رہی ہے پیپلزپارٹی کے قائدین کے علاوہ کسی نے نہیں کہا کہ ہم پاکستان کیلئے اپنی جان قربان کردیں گے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی ذات کیلئے ملکی سلامتی دا? پر لگانا چاہتے ہیں صدر پاکستان پیپلزپارٹی کے پی کے ہمایوں خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پھولوں کے شہر پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔ کے پی کے کے لوگ پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر اب پچھتا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے صحت ‘ تعلیم اور انفراسٹرکچر کیلئے کچھ نہیں کیا۔ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ آرمی پبلک سکول اور جیل پر حملہ بھی پی ٹی آئی کے دور میں ہوا تھا جیل سے دہشت گرد اپنا ساتھی چھڑا کر لے گئے تھے سیکرٹری اطلاعات روبینہ خالد نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پی کے کی صورتحال جو سوشل میڈیا پر دکھائی جارہی ہے اس کے برعکس ہے صوبے میں ایک بھی برن یونٹ نہیں ہے ہم نے شروع کیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے پانچ سال میں بھی اسے مکمل نہیں کیا۔ سوات آپریشن کے دوران ہمارے دور میں متاثرین کو مکمل سہولیات دی گئیں لیکن آج سوات کے لوگ اس توجہ کے طلب گار ہیں پی ٹی آئی نے سو دن کے ایجنڈے میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کیا ہے اگر ایک کروڑ ملازمین کی تنخواہ بیس ہزار روپے فی کس ماہانہ ہو تو چوبیس کھرب روپے سالانہ بنتے ہیں لیکن یہ فنڈز کہاں سے لائیں گے کس اے ٹی ایم مشین سے نکالیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا بخش چانڈیو نے کہا کہ ناہید خان اور صفدر عباسی سے ہم ناراض نہیں بلکہ وہ ہم سے ناراض ہیں اگر وہ بے نظیر کے بیٹے اور ان کے سوہاگ سے ناراض ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں ہمیشہ قانون سازی ہوئی ہے۔

 

پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ پارٹی تنظیموں کے رکنیت سازی کیمپ کامیابی سے جاری کارکنوں سے براہ راست رابطوں کے ذریعے متحرک کرنے کے لئے پارٹی کے مرکزی

 

: پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ پارٹی تنظیموں کے رکنیت سازی کیمپ کامیابی سے جاری کارکنوں سے براہ راست رابطوں کے ذریعے متحرک کرنے کے لئے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نیر بخاری نے راولپنڈی کے کیمپوں کا دورہ کیا۔ نیر بخاری نے عوامی اجتماعات سے خطاب میں کہا کہ جن پارٹیوں نے دہشت گردوں کو استعمال کیا وہ قوم کو جواب دہ ہیں ان جماعتوں کی کوتاہیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت بے حال ہے، ادھار مانگ کر حکمران عیاشیاں کرنا چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاداریاں تبدیل کرانے کی سیاست 2002 سے جاری ہے لیکن اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی سیاسی قیادت نے دہشت گردوں کو چیلنج نہیں کیا اور بلاول بھٹو زرداری وہ واحد سیاسی لیڈر ہے جس نے آج دہشت گردوں کو للکارا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قتل میں ملوث دہشت گرد آج کھلے عام پھر رہے ہیں جو دہشتگردی کی سرپرستی کے مترادف ہے۔ دہشت گردوں نے بی بی شہید کو پی پی پی اور اولاد سے الگ نہیں کیا بلکہ قوم سے جرا ¿ت مند دلیر عوام دوست رہنما چھین لی۔ پی پی پی بھٹو خاندان اور کارکنوں کی ملک و ملت کے لیے قربانیوں کی ایک تاریخ ہے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں دہشت گردانہ سوچ کا خاتمہ کرکے پاکستان کو حقیقی فلاحی پاکستان بنائیں گے۔ آئندہ انتخابات میں غیر جمہوری قوتوں کو عوامی قوت سے شکست دیکر نشان عبرت بنا دینگے۔ نیر بخاری نے کہا کہ ملک کو آئین کا جمہوری تحفہ دینے والی پی پی پی یر غیر آئینی قدم کی راہ روکی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی بنیاد آج بھی مضبوط ہے۔ عمران خان کے کارکن کے پی میں اسے چھوڑ گئے مگر سند ھ میں پیپلز پارٹی کو کسی نے نہیں چھوڑا ۔ پنجاب میں آئندہ الیکشن میں اپنا حصہ لے لیں گے جو خود کو بے گناہ ثابت نہیں کر سکے عدلیہ پر الزامات لگا رہے ہیں۔ کیمپوںمیں سٹی صدر بابر جدون، چوہدری افتخار قاسم، ظہیر سلیم اعوان، مہدی حسن، اویس واسطی، راجہ ظہہیر ارسلان کے علاوہ کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

 

 

 

کراچی (11 مئی 2018) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نامور سینیئر صحافی ادریس بختیار کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

کراچی (11 مئی 2018) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نامور سینیئر صحافی ادریس بختیار کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں پی پی پی چیئرمین نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

پاڪستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قتل میں ملوث پانچ افراد کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے پر سخت تشویش کا اظہارکیا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قتل میں ملوث پانچ افراد کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے پر سخت تشویش کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قتل میں ملوث پرویز مشرف کو پہلے ہی بیرون ملک جانے دیا گیا اور وہ پاکستان آکر مقدمے کا سامنا کرنے سے گریزاں ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قتل کے جرم میں جن پولیس آفیسروں کو سزا سنائی گئی تھی کو نہ صرف ضمانت پر رہا کیا گیا ہے بلکہ انہیں عہدوں پر بحال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید عوام کی دو مرتبہ منتخب وزیراعظم تھیں اور عالمی لیڈر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قتل میں ملوث افراد کی رہائی انصاف دینے سے انکار کے مترادف ہے اور اس عمل سے ان عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی جو ریاست کی رٹ چیلنج کرتے رہے ہیں اور دہشتگردی کی وارداتیں کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ عوام کی مقبول رہنما کے قاتلوں کی رہائی بہت سارے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قتل میں حکومت کی طرف سے مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل کو سرعام قتل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کی بہت بڑی اکثریت کی اس شکایت کو تقویت مل رہی ہے کہ انصاف کے ایوانوں سے بھٹو کو کبھی انصاف نہیں ملا۔

 

اسلام آباد (05 مارچ 2018) پاڪستان پيپلز پارٽي جي چيئرمين بلاول ڀٽو زرداري ڊيرا اسماعيل خان ۾ گذريل ٻن هفتن کان جاري پوليس

اسلام آباد (05 مارچ 2018) پاڪستان پيپلز پارٽي جي چيئرمين بلاول ڀٽو زرداري ڊيرا اسماعيل خان ۾ گذريل ٻن هفتن کان جاري پوليس ۽ شهرين جي ٽارگيٽ ڪلنگ جي سخت مذمت ڪئي آهي. پنهنجي بيان ۾ پي پي پي چيئرمين خيبرپختونخوا حڪومت تي تنقيد ڪندي چيو ته عام شهري ۽ پوليس سميت قانون لاڳو ڪندڙ ادارا خطرناڪ دهشتگردي جو نشانو بڻجي رهيا آهن، پر صوبائي حڪومت پاران مجرماڻي خاموشي اختيار ڪيل آهي. هن چيو ته اطلاع آهن ته هڪ درجن کان وڌيڪ ماڻهو ٽارگيٽ ڪلنگ ۽ گهات لڳائي ڪيل حملن جو شڪار ٿي چڪا آهن، پر خيبرپختونخوا جي وڏي وزير سميتا ڪنهن به حڪومتي ذميدار ان معاملي تي هڪ لفظ به ناهي ڪڇيو ۽ نه ئي مظلوم خاندانن جي واهر لاءِ ڪو اعلان ڪيو ويو آهي. بلاول ڀٽو زرداري پنهنجي ڳڻتي جو اظهار ڪندي چيو خيبرپختونخوا جي حڪومت ڊيرا اسماعيل خان جي عوام کي اڪيلو ۽ انتهاپسندن توڙي دهشتگردن جي رحم و کرم تی ڇڏي ڏنو آهي ته هو ڀلي پيا پکين وانگر سندن شڪار ڪن. پي پي پي چيئرمين مطالبو ڪيو ته عوام کي دهشتگردي کان تحفظ ڏنو وڃي ۽ سمورن شهيدن جي وارثن لاءِ مناسب امداد جو اعلان ڪيو وڃي.

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری سے منڈی بہاﺅالدین اور سرگودھا کی ممتاز شخصیات نے بلاول ہاﺅس لاہور میں ملاقات کرکے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری سے منڈی بہاﺅالدین اور سرگودھا کی ممتاز شخصیات نے بلاول ہاﺅس لاہور میں ملاقات کرکے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کا تعلق مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی سے تھا۔ ان میں محمد نواز تارڑ سابق امیدوار قومی اسمبلی، محمد یعقوب تارڑچیئرمین یونین کونسل ساہی اور وائس چیئرمین محمد اشرف ساہی، محمد اسلم گوندل ، سابق سینیٹر محمد اسلم ، محمد انور تارڑ، محمد عثمان گوندل، محمد سعود گوندل، عادل عباس رانا، سید احسان اللہ، تصور حسین تارڑ اور عبدالقیوم شامل ہیں جبکہ سرگودھا سے ممبر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی پی ٹی آے کے رہنما بریگیڈیئر اظہار الحسن، تحصیل صدر بھیرہ ارسلان حسن اور سابق ایم پی اے میجر احسان شامل ہیں۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کرنے والوں کو خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاق کی جمہوریت پسند پارٹی ہے۔ یہ ایک خاندان کی طرح ہے جس کے خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ملک کو متفقہ دستور دیا۔ اس دستور میں مختلف غاصبوں نے ترامیم کرکے پارلیمان کے اختیارات ہتھیائے اور پھر پاکستان پیپلزپارٹی نے آئین کو آمرانہ ترامیم سے پاک کیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ غریب عوام کی خدمت کرنا پاکستان پیپلزپارٹی کا منشور ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریب خواتین کی خدمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب کی قسمت میں یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ وہ ہمیشہ غریب رہیں، مزدور کا بچہ بھی مزدوری کرتا رہے اور ان کی آنے والی نسل بھی معاشی بدحالی کی بھینٹ چڑھتے رہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی صرف نعرے نہیں لگاتی، دعوے نہیں کرتی بلکہ جب بھی اقتدار میں آتی ہے تو مزدوروں اور کسانوں کے بچوں کو مساوی روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کا دل غریب عوام کے لئے دھڑکتا تھا۔ ہم ان کا مشن آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ ہم معاشرے کو ہر طرح کے استحصال سے پاک کر سکیں۔ آصف علی زرداری نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو ہدایت کی کہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طاقت بنیں اور ان کے ہاتھ مضبوط کریں۔ ملاقات کے دوران قمر زمان کائرہ اور عامر فدا پراچہ بھی موجود تھے۔

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری سے منڈی بہاﺅالدین اور سرگودھا کی ممتاز شخصیات نے بلاول ہاﺅس لاہور میں ملاقات کرکے پاکستان پیپلزپارٹی

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری سے منڈی بہاﺅالدین اور سرگودھا کی ممتاز شخصیات نے بلاول ہاﺅس لاہور میں ملاقات کرکے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کا تعلق مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی سے تھا۔ ان میں محمد نواز تارڑ سابق امیدوار قومی اسمبلی، محمد یعقوب تارڑچیئرمین یونین کونسل ساہی اور وائس چیئرمین محمد اشرف ساہی، محمد اسلم گوندل ، سابق سینیٹر محمد اسلم ، محمد انور تارڑ، محمد عثمان گوندل، محمد سعود گوندل، عادل عباس رانا، سید احسان اللہ، تصور حسین تارڑ اور عبدالقیوم شامل ہیں جبکہ سرگودھا سے ممبر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی پی ٹی آے کے رہنما بریگیڈیئر اظہار الحسن، تحصیل صدر بھیرہ ارسلان حسن اور سابق ایم پی اے میجر احسان شامل ہیں۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کرنے والوں کو خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاق کی جمہوریت پسند پارٹی ہے۔ یہ ایک خاندان کی طرح ہے جس کے خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ملک کو متفقہ دستور دیا۔ اس دستور میں مختلف غاصبوں نے ترامیم کرکے پارلیمان کے اختیارات ہتھیائے اور پھر پاکستان پیپلزپارٹی نے آئین کو آمرانہ ترامیم سے پاک کیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ غریب عوام کی خدمت کرنا پاکستان پیپلزپارٹی کا منشور ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریب خواتین کی خدمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب کی قسمت میں یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ وہ ہمیشہ غریب رہیں، مزدور کا بچہ بھی مزدوری کرتا رہے اور ان کی آنے والی نسل بھی معاشی بدحالی کی بھینٹ چڑھتے رہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی صرف نعرے نہیں لگاتی، دعوے نہیں کرتی بلکہ جب بھی اقتدار میں آتی ہے تو مزدوروں اور کسانوں کے بچوں کو مساوی روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کا دل غریب عوام کے لئے دھڑکتا تھا۔ ہم ان کا مشن آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ ہم معاشرے کو ہر طرح کے استحصال سے پاک کر سکیں۔ آصف علی زرداری نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو ہدایت کی کہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طاقت بنیں اور ان کے ہاتھ مضبوط کریں۔ ملاقات کے دوران قمر زمان کائرہ اور عامر فدا پراچہ بھی موجود تھے۔

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے آزادی صحافت کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے آزادی صحافت کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج کا دن ہمیں یہ مناسب موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو صحافیوں کے خلاف تشدد کے لئے وقف کریںاور آزادی اظہار جس کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے اس کا تحفظ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات تک رسائی کا حق استعمال کرنے کے لئے آزادی اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ صحافی کو اس کی جان ہر کسی قسم کا دباﺅ اور خطرات لاحق نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس عالمی یوم صحافت کے موقع پر ہم صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ہم سب سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ صحافی محفوظ رہیں اور صحافیوں کے خلاف جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو قانون کے دائرے میں لائیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ بات بھی اہم ہے کہ صحافیوں کو جسمانی تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ بھی حاصل ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسا طریقہ کار اپنایا جائے جس سے صحافیوں کے معاشی حقوق کا تحفظ ہو سکے کیونکہ معاشی طور پر صحافیوں کا گلا گھونٹنا جسمانی تشدد کے خطرے سے کم نہیں ہے۔