سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکن جمہوریت کے لئے آگ کے دریا عبور کئے ہیں اور اپنی جانیں دے کر سرخرو ہوئے ہیں۔ آج جب جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے تو اس کے لئے پیپلزپارٹی کی لازوال قربانیاں ہیں۔ شہدادپور میں ذوالفقار خادم زرداری کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ 2008ءمیں پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں مکمل اکثریت نہیں تھی اس کے باوجود ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیاتاکہ دنیا میں پاکستان کا جمہوری چہرہ سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ میری پہلی ترجیح 1973ءکے آئین کی بحالی کی تھی جس کے لئے محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے ساری زندگی جدوجہد کی تھی۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے پھانسیاں قبول کی تھیں، جیل کی تکلیفیں ا ورکوڑے برداشت کئے تھے۔ الحمدللہ 1973ءکا آئین اصل صورت میں بحال ہوا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ صوبوں کو خود مختاری دینے کا وعدہ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کیا تھا۔ پیپلزپارٹی نے بھی یہ وعدہ پورا کیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ہر خواب کی خوبصورت تعبیر کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بونے اور عقل سے خالی عناصر کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی جب بھی اقتدار میں آتی ہے تو نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرتی ہے، روزگار ہو تو روٹی اور کپڑا بھی میسر ہوتا ہے اور مکان بھی بن جاتا ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ شہید کا علم سنبھال لیا ہے۔ یقینا بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ وہ دن دور نہیں جب ہر نوجوان کو روزگار ملے گا، ریاست کے ثمرات ہر شہری کو ملیں گے۔ ملک کے تمام شہریوں کے ساتھ سماجی انصاف ہوگا، طبقاتی امتیاز کا خاتمہ ہوگا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ عوام کی مدد سے انتخابات جیت کر جب اقتدار میں آئے تو پارٹی منشور کے ایک ایک نکتے پر عمل کریں گے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے سابق ایم این اے روشن علی جونیجوکی رہائش گاہ پر جا کر ان کے صاحبزادے عباس جونیجو کے انتقال پر تعزیت کی۔