کراچی (29 جولائی 2018) پی پی پی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی نے این اے-230 پر ہونے والی گنتی کے دوران پی پی پی امیدوار رسول بخش چانڈیو کے ووٹوں میں اضافے کے بعد جی ڈی اے کی امیدوار فھمیدہ مرزا اور ان کے شوہر ذوالفقار مرزا کا بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر آر او آفس کے عملے کو دھونس دھمکیاں دینے کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں وقار مہدی نے کہا کہ ذوالفقار مرزا نے آر او آفس کے عملے کو ہرساں کرتے ہوئے مغلظات بھی بکیں، جو کسی سیاسی آدمی کا رویہ نہیں ہو سکتا۔ وقار مہدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن و انتظامیہ کو مرزا فئملی کے اس عمل پر ایکشن لینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مرزا فئملی دھاندھلی کے ذریعے دو سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی، جو ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں ظاہر ہو رہی ہے۔ وقار مہدی نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ این اے-230 اور پی ایس 73 کی 9 پولنگ اسٹیشنز کی دوبارہ گنتی کے دوران قومی اسمبلی کے حلقے پر 64 اور صوبائی حلقے پر 104 ووٹوں کا اضافہ ہوا، جس کو دیکھ کر مرزا نے عملے کو دھمکیاں دیں اور ہنگامہ کیا، جس کے باعث گنتی کا عمل بھی روک دیا گیا۔ وقار مہدی نے کہا کہ رسول بخش چانڈیو کو الیکشن کے دن پولنگ کے بعد آنے والے غیرسرکاری نتائج میں واضح اکثریت حاصل تھی، حتیٰ کہ مختلف ٹی وی چینلز نے ان کی کمیابی کی خبریں بھی نشر کردیں تھیں، لیکن بعد ازاں رات دیر سے انہیں کہا گیا کہ وہ چند سو ووٹوں سے ہار گئے ہیں۔ وقار مہدی نے مطالبہ کیا کہ مرزا فیملی کی جانب سے الیکشن عملے کو ہراساں کرنے کے باوجود پولیس و انتظامیہ کی جانب سے ذوالفقار مرزا اور ان کے بیٹوں کے خلاف ایکشن نہ لینا قابل مذمت و تشویش ناک اقدام ہے۔