Archive for August, 2018

پاکستان پیپلزپارٹی کے الیکشن مانیٹرنگ کمیٹی کے مرکزی انچارج تاج حیدر نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ 2018ءکے انتخابات میں پارٹی کے جن امیدواروں نے انتخابات میں بدعنوانی

پاکستان پیپلزپارٹی کے الیکشن مانیٹرنگ کمیٹی کے مرکزی انچارج تاج حیدر نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ 2018ءکے انتخابات میں پارٹی کے جن امیدواروں نے انتخابات میں بدعنوانی کے خلاف قانونی اقدام کیا ہے ان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ NA-249 سے پارٹی کے امیدوار غلام قادر مندوخیل نے پی ٹی آئی کے کامیاب ہونے والے امیدوار کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار نااہل ہیں اور انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں سنجیدہ غلط بیانیاں کی ہیں۔ غلام قادر مندوخیل نے پریزائیڈنگ افسران کے خلاف بھی مقدمات دائر کئے ہیں کہ انہوں نے ان کے پولنگ ایجنٹوں کو یرغمال بنایا اور گنتی کے وقت انہیں کمروں میں بند کر دیا گیا۔ غلام قادر مندوخیل کو مستقل دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ اپنے مقدمات واپس لیں ورنہ انہیں شدید نقصانات پہنچائے جا سکتے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے مختلف وفاقی ایجنسیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ جیتنے والے امیدوار کی مکمل رپورٹ مہیا کرے۔ تاج حیدر نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ یہ ایجنسیاں اپنی رپورٹ میں تاخیر کر سکتی ہیں اور دباﺅ کے تحت غلط رپورٹیں بنا کر پیش کر سکتی ہیں۔ تاج حیدر نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی جمہوریت اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لئے ڈٹ کر کھڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیاں پارٹی کو ڈرانے میں ناکام ہوں گی اور پارٹی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لئے جدوجہد کرتی رہے گی۔

 

پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک خط کے ذریعے پیمرا سے کہا ہے کہ وہ غلط اور منگھڑت خبریں نشر کرنے پر چینل 92 کے خلاف خاص طور پر اور دیگر ان تمام چینلوں کے خلاف بھی سخت کارروائی

پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک خط کے ذریعے پیمرا سے کہا ہے کہ وہ غلط اور منگھڑت خبریں نشر کرنے پر چینل 92 کے خلاف خاص طور پر اور دیگر ان تمام چینلوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرے جنہوں نے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے ایف آئی اے کے دفتر واقع G-13 اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر قطعی غلط اور منگھڑت خبریں نشر کیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے پیمرا کے چیئرمین کے نام ایک خط لکھ کر انہیں مطلع کیا کہ چینل 92 نے ایسے خیالی سوالات نشر کئے جو اس کے مطابق آصف علی زرداری اور مس فریال تالپور سے پوچھے۔ یہ بات قطعی غلط ہے کہ زرداری گروپ آف کمپنیز کے متعلق آصف علی زرداری سے سوالات پوچھے گئے۔ آصف علی زرداری کا 2008ءسے زرداری گروپ سے کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کیس کی ایف آئی آر میں نہ تو آصف علی زرداری اور نہ ہی فریال تالپور ملزمان ہیں بلکہ یہ دونوں گواہوں کے طور پر پیش ہوئے۔ انہوں نے خط میں مزید لکھا کہ یہ بات بھی قطعی غلط ہے کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو کوئی سوالنامہ دیا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سینیٹر فاروق نائیک جو آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے فوکل پرسن ہیں کو بھی کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا۔ فرحت اللہ بابر نے مزید لکھا کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے متعلق انتہائی غلط تاثر پیدا کیا گیا اور یہ صریحاً میڈیا ٹرائل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی آبزرویشن بھی ضمن میں موجود ہے کہ اس قسم کی کوئی رپورٹ جو تحقیقاتی عمل کے مطابق ہونہ تو نشر کی جا سکتی ہے اور نہ شائع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خط میں پیمرا سے کہا ہے کہ وہ چینل 92 اور دیگر چینلوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن ایکشن لے اور انہیں اس قسم کی رپورٹیں نشر کرنے سے روکے۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینزکے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ 193ءکا آئین غیرمسلم شہریوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینزکے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ 193ءکا آئین غیرمسلم شہریوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ غیرمسلم پاکستانیوں کے حقوق کا دفاع کیا ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی۔ سابق صدر نے کہا کہ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ غیرمسلم شہریوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ٹکٹ دیا اور وہ بھاری اکثریت اور ریکارڈ ووٹ حاصل کرکے پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے پارلیمان میں غیرمسلم شہریوں کی نشستوں میں اضافہ کیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے ہمیشہ غیرمسلم ہم وطنوں کے حقوق کا دفاع کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی غیرمسلم ہم وطنوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی مذاحمت کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں سب شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں اوار انہیں مکمل آئینی حقوق کی ضمانت حاصل ہے۔

 

 

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماﺅں سے مشاورت کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر کے لئے سید خورشید احمد شاہ کے نام کی منظوری دے دی ہے

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماﺅں سے مشاورت کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر کے لئے سید خورشید احمد شاہ کے نام کی منظوری دے دی ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی مسلم لیگ(ن)، ایم ایم اے، اے این پی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے لئے متفقہ طور پر امیدوار لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ فیصلے کے مطابق وزیراعظم کا امیدوار مسلم لیگ(ن) سے ہوگا اورڈپٹی اسپیکر ایم ایم اے سے جبکہ اسپیکر پاکستان پیپلزپارٹی کو ہوگا۔ مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی دھاندلی زدہ انتخابات پر تمام تحفظات کے باوجود پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی قیادت نے تمام جمہوری قوتوں کو متحد کیا اور عہد کیا ہے کہ پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں گے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ہم ہر عہدے پر پاکستان تحریک انصاف کے ہر امیدوار کا مل کر مقابلہ کریں گے۔

 

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پولیس شہدا ڈے پر ایک پیغام میں دہشتگردوں اور امن دشمنوں کی بھرپور مذاحمت کرکے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پولیس شہدا ڈے پر ایک پیغام میں دہشتگردوں اور امن دشمنوں کی بھرپور مذاحمت کرکے شہادت پانے والے پولیس جوانوں اور افسروں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے بہادر جوانوںنے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملا دئیے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشتگردوں کو شکست دینے میں پولیس کا بھی قابل تعریف اور ناقابل فراموش کردار رہا ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ امن کی بحالی پر پولیس کے ان دلیر اور بہادر جانثاروں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے اور ان کے خاندانوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔

ترجمان بلاول بھٹو کا رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کی ناکامی کت تنازعے پر شدید تشویش کا اظہار

آر ٹی ایس کے متعلق الیکشن کمیشن کے دعووں کو میڈیا نے جھٹلا دیا ہے،، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر

میڈیا میں آر ٹی ایس سسٹم کے بند کئے جانے کی خبریں ہمارے موقف کی تائید ہیں،،ترجمان بلاول بھٹو

پیپلز پارٹی کو ملک بھر سے انتخابات کے روز دھاندلی کی شکایت موصول ہوتی رہی،،ل سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر

ہمارے امیدوار شکایت کرتے رہے کہ انکے پولنگ ایجنٹس کو اندار داخل ہونے نہیں دیا جا رہا،،یا نکالا جا رہا ہے، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر

چئرمین بلاول بھٹو کے لیاری، لاڑکانہ اور مالاکنڈ کے حلقوں میں بھی یہی رویہ اختیار کیا گیا،، ترجمان بلاول بھٹو

الیکشن کمیشن نے آٹھ روز بعد بلاول بھٹو کے لیاری کے حلقے کے فارم پینتالیس دئے گئے، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر

لاڑکانہ کے فارم 45 تین دنوں بعد ملے، ملاکنڈ سے ابھی تک نہیں ، ترجمان بلاول بھٹو

لاڑکانہ میں بھی کارکنوں کے شدید احتجاج کے بعد فارم 45 دئے گئے، سینیٹر مصطفی نواز

دیگر سیاسی جماعتوں سے الیکشن کمیشن کے خلاف ایسی ہی شکایات موصول ہو رہی ہیں، ترجمان

الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ جائزہ لے اور سیاسی جماعتوں کی شکایات دور کریں، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر

اس وقت تک چپ کر کے نہیں بیٹھیں گے جب تک الیکشن شکایات کے خلاف ہمیں ٹھوس ثبوت نہیں دے گا، ترجمان بلاول بھٹو

ہم جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں اور نظام کا تسلسل چاہتے ہیں، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر

ہماری جمہوریت پسندی کا مطلب یہ نہیں الیکشن کمیشن کے ناک کے نیچے ہمارا ووٹ چوری ہو ہم چپ کر کے ںیٹھے رہیں، ترجمان

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دعویٰ قطعی کھوکھلا ہے کہ انتخابات کا عمل کسی شک و شبے سے بالا تر تھ

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دعویٰ قطعی کھوکھلا ہے کہ انتخابات کا عمل کسی شک و شبے سے بالا تر تھا اور عوام نے اپنی مرضی سے آزادانہ طور پر بغیر کسی زور زبردستی کے ووٹ کا حق استعمال کیا اور کسی قسم کی شکایت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ کھوکھلے دعووں کے بعد کھوکھلی وضاحت انتخابات کو مذاق بنانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ دعویٰ کہ لوگوں کو انتخابی عمل میں رسائی دی گئی بالکل سفید جھوٹ ہے۔ آرٹی ایس کی خرابی کے بعد نتائج میں دیر ہوئی اور اس طرح سے یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ آرٹی ایس بیٹھ گیا تھا یا بٹھا دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ نتائج کو ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں آرٹی ایس اس لئے متعارف کرایا گیا تھا کہ آراوز کا کردار کم سے کم ہو۔ آرٹی ایس کچھ دیر کام کرتا رہا لیکن اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ آرٹی ایس بیٹھ گیا ہے اس لئے پولنگ افسران اپنے نتائج ماضی کی طرح آراو کے پاس جمع کرائیں۔ اس طرح آراو کا کردار جو ہمیشہ ماضی میں متنازعہ رہا ہے اسے بحال کر دیا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ آرٹی ایس کس وقت اور کیوں بیٹھا؟ کوئی بیک اپ سسٹم کیوں نہیں تھا اور کیوں آرٹی ایس کو جلدی بحال نہیں کیا جا سکا؟ اگر آرٹی ایس کے بیٹھنے کا دعویٰ غلط تھا تو کس نے یہ اعلان کیا کہ آرٹی ایس بیٹھ گیا ہے اور یہ اعلان کیوں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ نادرا بینکوں، پاسپورٹس کے دفاتر اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پیسوں کی ترسیل کے لئے ایک نظام بنا چکا ہے اور یہ کبھی بھی خراب نہیں ہوا۔ آرٹی ایس کیوں ایسا بنایا گیا کہ یہ ناکام ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ ان سارے سوالات کے جوابات سے انتخابات میں دھاندلی کے متعلق جوابات مل جائیں گے۔ یہ دعویٰ کہ قومی اور بین الاقوامی مبصرین نے انتخابات کو منصفانہ قرار دیا اور یہ دعویٰ بھی ریاستی ایجنسیوں نے پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ نہیں کیا اصل میں پورا سچ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مبصرین نے انتخابات کو کلین چِٹ نہیں دی بلکہ اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ انتخابات سے قبل ایک خاص جماعت کے لئے سیاسی ماحول بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آرٹی ایس کو جان بوجھ کر بٹھایا گیا تو کسی بھی ریاستی ایجنسی کی جانب سے پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

 

 

 

 

ہے۔