پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دعویٰ قطعی کھوکھلا ہے کہ انتخابات کا عمل کسی شک و شبے سے بالا تر تھا اور عوام نے اپنی مرضی سے آزادانہ طور پر بغیر کسی زور زبردستی کے ووٹ کا حق استعمال کیا اور کسی قسم کی شکایت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ کھوکھلے دعووں کے بعد کھوکھلی وضاحت انتخابات کو مذاق بنانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ دعویٰ کہ لوگوں کو انتخابی عمل میں رسائی دی گئی بالکل سفید جھوٹ ہے۔ آرٹی ایس کی خرابی کے بعد نتائج میں دیر ہوئی اور اس طرح سے یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ آرٹی ایس بیٹھ گیا تھا یا بٹھا دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ نتائج کو ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں آرٹی ایس اس لئے متعارف کرایا گیا تھا کہ آراوز کا کردار کم سے کم ہو۔ آرٹی ایس کچھ دیر کام کرتا رہا لیکن اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ آرٹی ایس بیٹھ گیا ہے اس لئے پولنگ افسران اپنے نتائج ماضی کی طرح آراو کے پاس جمع کرائیں۔ اس طرح آراو کا کردار جو ہمیشہ ماضی میں متنازعہ رہا ہے اسے بحال کر دیا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ آرٹی ایس کس وقت اور کیوں بیٹھا؟ کوئی بیک اپ سسٹم کیوں نہیں تھا اور کیوں آرٹی ایس کو جلدی بحال نہیں کیا جا سکا؟ اگر آرٹی ایس کے بیٹھنے کا دعویٰ غلط تھا تو کس نے یہ اعلان کیا کہ آرٹی ایس بیٹھ گیا ہے اور یہ اعلان کیوں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ نادرا بینکوں، پاسپورٹس کے دفاتر اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پیسوں کی ترسیل کے لئے ایک نظام بنا چکا ہے اور یہ کبھی بھی خراب نہیں ہوا۔ آرٹی ایس کیوں ایسا بنایا گیا کہ یہ ناکام ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ ان سارے سوالات کے جوابات سے انتخابات میں دھاندلی کے متعلق جوابات مل جائیں گے۔ یہ دعویٰ کہ قومی اور بین الاقوامی مبصرین نے انتخابات کو منصفانہ قرار دیا اور یہ دعویٰ بھی ریاستی ایجنسیوں نے پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ نہیں کیا اصل میں پورا سچ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مبصرین نے انتخابات کو کلین چِٹ نہیں دی بلکہ اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ انتخابات سے قبل ایک خاص جماعت کے لئے سیاسی ماحول بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آرٹی ایس کو جان بوجھ کر بٹھایا گیا تو کسی بھی ریاستی ایجنسی کی جانب سے پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

 

 

 

 

ہے۔