پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک خط کے ذریعے پیمرا سے کہا ہے کہ وہ غلط اور منگھڑت خبریں نشر کرنے پر چینل 92 کے خلاف خاص طور پر اور دیگر ان تمام چینلوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرے جنہوں نے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے ایف آئی اے کے دفتر واقع G-13 اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر قطعی غلط اور منگھڑت خبریں نشر کیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے پیمرا کے چیئرمین کے نام ایک خط لکھ کر انہیں مطلع کیا کہ چینل 92 نے ایسے خیالی سوالات نشر کئے جو اس کے مطابق آصف علی زرداری اور مس فریال تالپور سے پوچھے۔ یہ بات قطعی غلط ہے کہ زرداری گروپ آف کمپنیز کے متعلق آصف علی زرداری سے سوالات پوچھے گئے۔ آصف علی زرداری کا 2008ءسے زرداری گروپ سے کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کیس کی ایف آئی آر میں نہ تو آصف علی زرداری اور نہ ہی فریال تالپور ملزمان ہیں بلکہ یہ دونوں گواہوں کے طور پر پیش ہوئے۔ انہوں نے خط میں مزید لکھا کہ یہ بات بھی قطعی غلط ہے کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو کوئی سوالنامہ دیا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سینیٹر فاروق نائیک جو آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے فوکل پرسن ہیں کو بھی کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا۔ فرحت اللہ بابر نے مزید لکھا کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے متعلق انتہائی غلط تاثر پیدا کیا گیا اور یہ صریحاً میڈیا ٹرائل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی آبزرویشن بھی ضمن میں موجود ہے کہ اس قسم کی کوئی رپورٹ جو تحقیقاتی عمل کے مطابق ہونہ تو نشر کی جا سکتی ہے اور نہ شائع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خط میں پیمرا سے کہا ہے کہ وہ چینل 92 اور دیگر چینلوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن ایکشن لے اور انہیں اس قسم کی رپورٹیں نشر کرنے سے روکے۔