پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سیکریٹری اطلاعات سینیٹر تاج حیدر نے ایک بیان میں یہ تجویز دی ہے کہ ڈیم کی تعمیر کے لئے قوم کی جانب سے عطیہ کی گئی رقم کو بلوچستان میں 100 چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے تیسرے اور آخری مرحلے کے لئے استعمال کیا جائے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے پانچ ٹھیکیداروں کی بولیاں موصول ہوگئی ہیں۔ اس ڈیم کی تعمیر کے لئے 1500ارب روپے درکار ہیں جبکہ اس وقت تک ڈیم کی تعمیر کے لئے جو رقم اکٹھی کی گئی ہے وہ صرف ساڑھے تین ارب روپے ہیں جو زیادہ سے زیادہ چھ یا سات ارب تک پہنچ سکتی ہے لیکن یہ رقم دیامیر بھاشا جیسے میگا پروجیکٹ کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ رقم بلوچستان میں قائم کئے گئے 100چھوٹے ڈیموں کے لئے استعمال کی جائے تو اس سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے عام آدمی کی زندگی پر بہت بہتر اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز سے ایک طرف تو مفلوک الحال عوام کی بہتری ہوگی اور دوسری جانب ملک کے عوام کی جانب سے بلوچستان کے عوام کے لئے اظہار یکجہتی کا اظہار ہوگا۔ اگر کراچی اور لاہور کا ہر بچہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے عوام کے لئے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر میں مدد کرے تو بلوچستان کے عوام کو یہ احساس بھی ہوگا کہ پاکستان کے عوام اور اس کا ہر بچہ بلوچستان کے لوگوں کی بہتری کے لئے سوچتا ہے اور یہ انتہائی مثبت پیغام ہوگا۔