Archive for December, 2018

** میڈیا سیل بلاول ہاوَس کے انچارج سریندر ولاسائی کا پارٹی قیادت کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر ردعمل

** میڈیا سیل بلاول ہاوَس کے انچارج سریندر ولاسائی کا پارٹی قیادت کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر ردعمل

** عمران خان اور اس کی ٹیم من و عن گورباچوف کی پیروی میں مصروف ہے

** پاکستان کھپے والوں کے لیئے ای سی ایل اور آئین شکنوں کے لیئے طوطا چشمی ہے

** یہ رسمِ نیا پاکستان ہے، عوامی قیادت و اساتذہ مقید جبکہ آئین شکن و الیکشن چور آزاد

** یہ بھی رسم چلی ہے کہ جمہور، دستور اور وفاقی اکائیوں کا کوئی نہ تذکرہ کرے

** پارلیامان کو بااختیار بنانا، صوبوں کو حقوق دینا، بلوچستان سے معافی مانگنا جرم بن چکا ہے

** کٹھ پتلی وزراء کہتے ہیں کہ جمہوریت کے تذکرے سے ملک کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں

** جعلی خان سے جو سوال کرے گا، اس کے لیئے نیب، ایف آئی اے اور جے آئی ٹی ہے

** جس نے بھی کٹھ پتلیوں کی نااہلی، یوٹرنز اور جھوٹ کو آشکار کیا، اس نے نیب کی دشمنی مول لی

** منگو تنگو معیشت، انتقام اور کٹھ پتلی حکمران، یہ ہے نیا پاکستان؟

** معیشت بربادی کی سونامی میں ڈوب گئی، ملک مہنگائی کی آگ میں جل رہا ہے

** لیکن نیرو خان اپنے محل میں چین کی بانسری بجا رہا ہے

** کٹھ پتلی حکومت کے اطوار آئس ڈرگ کے نشئیوں جیسے ہیں، عوام سے لاتعلق بن چکی

** مہنگائی کی ستائی ہوئی عوام نے کٹھ پتلی حکومت کو تین طلاقیں دے چکی

جاری کردہ

سریندر ولاسائی
انچارج
میڈیا سیل بلاول ھائوس

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ

پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار

پیپلز پارٹی کی قیادت کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سخت مذمت کرتے ہیں ، شیری رحمان

پیپلز پارٹی اس طرح کی سازش اور میڈیا ٹرائل سے نہیں ڈرتی ، شیری رحمان

بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل میں ڈال کرتحریک انتقام نے اپنا اصل چہرہ دکھا دیا ہے ، شیری رحمان

بی بی شہید کی برسی کے دن ان کے خاندان کو ای سی ایل میں ڈالا گیا، شیری رحمان

بی بی کی شہادت والے دن ان کے خاندان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا عمل شرم ناک ہے ، شیری رحمان

بلاول بھٹو پر اس وقت کے کیسز بنائے گئے ہیں جب وہ ایک سال کے تھے ، شیری رحمان

ڈرتے ہیں گالی والے ایک مہذب لڑکے سے ، شیری رحمان

کیا پاکستان تحریک انتقام بلاول بھٹو زرداری کی تقریروں سے ڈر رہی ہے ، شیری رحمان

ارکان پارلیمان کا نام ای سی میں ڈالنے کی روایت غیر جمہوری ہے ، سینیٹر شیری رحمان

جمہوریت کے لبادے میں آمریت کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی، شیری رحمان

اس حکومت کا ایجنڈا عوامی مسائل نہیں سیاسی انتقام ہے ، شیری رحمان

آصف علی زرداری کبھی عدالتوں اور جیلوں سے نہی بھاگے، نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان

پاکستان تحریک انتقام اورجے آئی ٹی کی ملی بھگت سے ہم نہیں ڈرتے، شیری رحمان

تحریک انتقام پوری سندھ حکومت کو مفلوج کر رہی ہے ، شیری رحمان

ای سی ایل میں نام ڈالنے کا فیصلہ کورٹ نے نہیںپاکستان تحریک انتقام کی حکومت نے کیا ہے، شیری رحمان

پاکستان تحریک انتقام اطمینان کر لے ہم اسی ملک میں رہ کے سازش کا مقابلہ کرے گے، سینیٹر شیری رحمان

چار ماہ میں تحریک انصاف کے کتنے لوگ ای سی ایل میں ڈالے گئے ہیں ، سینیٹر شیری رحمان

عمران خان نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکلوایا تاکہ وہ ان کے ساتھ دورے پر جا سکے، شیری رحمان

زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکلوانے تک عمران خان کا طیارہ ایئرپورٹ پر رکا رہا، شیری رحمان

حکومت احتساب اور انتقام میں فرق جان لے ورنہ دمادم مست قلندر ہوگا، شیری رحمان

احتساب کا عمل یکطرفہ ہے، احتساب کرنا ہے تو سب کا کریں اور شروعات اپنے گھر سے کریں ، شیری رحمان

ترجمان چیئرمن پیپلز پارٹی سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا ای سی ایل پر ردعمل

وفاقی کابینہ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ احتساب نہیں انتقام ہو رہا ہے، ترجمان بلاول بھٹو

چیئرمن بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل پر ڈالنا تحریک انصاف حکومت کی شکست کا اعتراف ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر

وزیراعلیٰ سندھ کی بیرون ملک جانے پر پابندی ون یونٹ کے الزام کی تائید ہے، ترجمان بلاول بھٹو
اگر وزیراعلیٰ کا نام ایک ای سی ایل آ سکتا ہے تو وزیراعظم کا کیوں نہیں ؟، مصطفیٰ نواز کھوکھر

سیلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان پر کرپشن الزامات کی نیب تحقیقات کر رہا ہے، ترجمان بلاول بھٹو

جن وفاقی وزرا پر کرپشن کے الزامات ہیں ان کے نام ای سی ایل پرکیوں نہیں ڈالے جا رہے، مصطفیٰ نواز کھرکھو

وفاقی کابینہ کے فیصلے سے لگتا ہے کہ عمران خان کو گھر جانے کی جلدی ہے، ترجمان بلاول بھٹو

عمران خان ضیا الحق کا ادھورا خواب پورا کرنے کیلئے آمرانہ اقدام پر اترا آئے ہیں، مصطفیٰ نواز کھوکھر

عمران خان کے آمر استاد ایوب خان، ضیا الحق پی پی کو ختم کرنے کی حسرت دل میں لئے چلے گئے، ترجمان بلاول بھٹو

سلیکٹ وزیراعظم زندہ آمر مشرف کا ہی حال دیکھ کر سبق حاصل کر لے، مصطفیٰ نواز کھوکھر

خان صاحب اداروں کے پیچھے چھپ کر وار کر رہے ہیں، ترجمان بلاول بھٹو

عمران خان میں ہمت ہے تو کھل کر سامنے آئے، مصطفیٰ نواز کھوکھر

ہم ماضی میں بھی سرخرو ہوئے اور یہ جنگ بھی پیپلز پارٹی ہی جیتے گی، ترجمان بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر پاکستان و پی پی پی پارلیامینٹرین کے صدر آصف علی زرداری کی زیرصدارت پارٹی کے سینیئر رہنماوَں اور اراکین اسمبلی کا اہم اجلاس بلاول ہاوَس کراچی میں ہوا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر پاکستان و پی پی پی پارلیامینٹرین کے صدر آصف علی زرداری کی زیرصدارت پارٹی کے سینیئر رہنماوَں اور اراکین اسمبلی کا اہم اجلاس بلاول ہاوَس کراچی میں ہوا۔ اجلاس کے دوران شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے 11 ویں یوم شہادت کے موقعے پر گڑھی خدابخش میں ہونے والے جلسہ عام کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سید خورشید احمد شاہ، قائم علی شاہ، قمر الزمان کائرہ، نثار احمد کھڑو، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، سردار لظیف کھوسہ علی مدد جتک، ہمایوں خان، چودھری لطیف اور پارٹی کے دیگر رہنماوَں، وزراء اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ مشکل حالات سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ مشکل حالات میں وہ ہمیشہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں موجودہ حالات کو مشکل وقت نہیں کہتا۔ مشکل وقت وہ تھا، جس کا سامنا شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کیا تھا، جنہوں نے ضیاء جیسے بدترین آمر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خلاف لگائے جانے والے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ جھوٹے دستاویزات کے ذریعے ہمیں ڈرایا، دھمکایا نہیں جاسکتا۔ ہم پر جتنا ظلم کیا جائیگا، ہم برداشت کا بھی اتنا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہم اِتنا برداشت کریں گے کہ ظلم کرنے والے تھک جائیں گے۔ آصف علی زرداری نے کہا 27 دسمبر کو پاکستان کی عوام ثابت کرے گی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم نہیں کیا جاسکتا اور انشااللہ پیپلز پارٹی عوام کی حمایت سے الیکشنز جیتے گی اور وفاق سمیت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتیں بھی بنائے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا یوم شہادت بھرپور عقیدت و احترام سے منایا جائیگا اور اس موقعے پر پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیوٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران پارٹی کی نئی حکمت عملی تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ون یونٹ کی جانب دھکیلنے کی سازش کی جارہی ہے۔ ایک طرف پانی اور گئس بند کردیئے گئے تو دوسری جانب صوبائی حکومت کو اس کے جائز فنڈز بھی نہیں دیئے جا رہے۔ کالاباغ ڈیم کی حمایت میں مہم بھی چلائی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو 1973ع کا آئین دیا، جبکہ بعد میں آنے والے آمر اس متفقہ دستور کا حلیہ بگاڑتے رہے۔ ہم نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے 1973ع کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا۔ ہم 18 ترمیم کے معاملے پر کسی مصلحت کا شکار نہیں ہونگے۔ ہم نے ہمیشہ غیرجمہوری قوتوں کو شکست دی ہے۔ 27 دسمبر کو ملک طول و عرض سے ہر مکتبہ فکر کے لوگ گڑھی خدابخش میں جمع ہو کر سازشی عناصر کو شکست فاش سے ہمکنار کریں گے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ حالات کے مطابق کسی بھی پارٹی سے اتحاد کیا جاسکتا ہے‘

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبا یونین کی بحالی سے جمہوری کلچر پروان چڑھتا ہے۔ آمرانہ ذہنیت، سیاسی شعوراور جمہوری کلچر سے خائف ہوتے ہیں اس لئے ہر سطح پر جمہوریت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ منگل کے روز زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن وسطی پنجاب کے صدر موسیٰ کھوکھر، جنرل سیکریٹری وقاص احمد عباسی کے زیر قیادت وفد نے بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں کامران نثار وڑائچ، حافظ احمد شہزاد اور راجہ ذیشان شامل تھے۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن کی شاندار تاریخ ہے۔ پی ایس ایف سے تعلق رکھنے والے طالب علموں نے جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لئے تاریخی قربانیاں دیں، تشدد اور مشکلات برداشت کیں، کئی نوجوانوں نے قوم کے روشن مستقبل کے لئے قید و بند کی مشکلات برداشت اور اپنا مستقبل قربان کیا۔ وفد نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اس بات کا یقین دلایا کہ طلبا کی قوت آپ کے ساتھ ہے، آپ کی صورت میں نوجوان قائد ملنا یہ قدرت کا عظیم تحفہ ہے۔طلبا نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے تعلیمی اداروں کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی آزادیوں اور یونینوں کے انتخابات کے حق میں ہیں۔ پیپلزپارٹی اقتدار میں آکر تعلیمی اداروں میں یونینوں کے انتخابات کے لئے طلبا کے حقوق بحال کرے گی۔انہوں نے کہا کہ طلبا نے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا جس طرح ساتھ دیا تھا میرا بھی ساتھ دیں۔ ہم مل کر شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفے اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے منشور کی روشنی میں ترقی یافتہ پاکستان بنائیں گے جہاں جمہوری روایات ہوں گی ۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا کلچر ہوگا۔ پیپلزپارٹی ملک کو بھوک، بدحالی، بیروزگاری، دہشتگردی اور شدت پسندی جیسے اندھیروں سے پاک کرے گی۔ اس موقع پر فرحت اللہ بابر اور سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر بھی موجود تھے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ حالات کے مطابق کسی بھی پارٹی سے اتحاد کیا جاسکتا ہے‘

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ حالات کے مطابق کسی بھی پارٹی سے اتحاد کیا جاسکتا ہے‘ موجودہ کٹھ پتلی حکومت اداروںکو بدنام کررہی ہے اور عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے مشکلات کے انبار لگا دیئے ہیں۔ تمام امراض کا علاج پارلیمنٹ ہے جب کوئی کرسی پر آتا ہے تو وہ فرشتہ بن جاتا ہے اور جب وہ کرسی سے اتر جاتا ہے تو وہ ملک کا دشمن بن جاتا ہے‘ احتساب کے نام پر انتقام کی سیاست کی جارہی ہے پیپلزپارٹی نے پہلے سابق آمر کہتا تھا کہ بے نظیر اور نواز شریف ملک نہیں آئیں گے‘ لیکن دیکھیں آج وہ خود ملک سے باہر ہے‘ پیپلزپارٹی کو کمزور نہ سمجھا جائے پیپلزپارٹی ملک کیلئے جانیں دینا جانتی ہے موجودہ حالات میں ساری توپوں کا رخ ہماری طرف کردیا گیا ہے۔ پاکستان کے اداروں کو کہتے ہیں کہ حکومت کو ایسے اقدامات سے روکیں جس سے تصادم پیدا ہو۔ اپوزیشن کے ہاتھ باندھنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایک پارٹی کو ہی کھیلنے کا موقع دیا جارہا ہے جبکہ ملکی بحران اس کی ترجیح میں شامل ہی نہیں ہے۔ موجودہ حکومت اداروں کو مفلوج کرنے کے ساتھ پارلیمنٹ کو بھی مفلوج کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولا بخش چانڈیو ‘ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کے ہمراہ تمام صوبائی سیکرٹری اطلاعات و ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات کے علاوہ سینیٹر روبینہ خالد ‘ سحر کامران اور نذیر ڈھوکی بھی شامل تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی بے نظیر بھٹو کی گیارہویں برسی منا رہی ہے بے نظیر بھٹو نے اس ملک کیلئے بہت قربانیاں دیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کیلئے کام کیا۔ اور اٹھارہویں ترمیم پاس کی تاریخ میں کم ایسے صدور ملیں گے جنہوں نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دیئے ہوں۔ موجودہ کٹھ پتلی حکومت اداروں کو بدنام کررہی ہے انیل مسرت عمران خان کے خلیفہ ان کا گھر چلاتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرکے پارلیمنٹ کو مفلوج کیا جارہا ہے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حکومتیں ایسے کام کرتی ہیں جس سے عوام کیلئے آسانیاں پیدا ہوں۔ موجودہ حکومت کو ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ وہ حکومت میں آئے ہیں۔ اپنے منشور پر عمل نہیں کررہے۔ پیپلزپارٹی نے اپنے خون سے جمہوریت کی تاریخ لکھی ہے موجودہ حکومت نے تھوڑے ہی ٹائم میں عوام کی خوشیاں ختم کردی ہیں مہنگائی کا طوفان برپا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا لہجہ دیکھیں اور پنجاب کے وزیر اطلاعات کی اوقات دیکھیں اور ان کے بیانات دیکھیں۔ احتساب کے نام پر انتقام کی سیاست شروع کی گئی ہے اور سیاسی پارٹیوںکو دباﺅ میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے پاکستان پیپلزپارٹی کو ضیائ ‘ مشرف بھی دباﺅ میں نہیں لاسکا یہ آج کے وزیراعظم کس طرح دبا? میں لاسکتے ہیں۔ یہ عدلیہ افواج اور نیب کو متنازعہ بنا رہے ہیں کہتے ہیں کہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے سارے ادارے ان کے کہنے پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ جے آئی ٹی کے حوالے سے ان کو خبریں کون دیتا ہے کہ جے آئی ٹی بنی گالہ میں بیٹھی ہے۔ پیپلزپارٹی کو کمزور نہ سمجھا جائے ہم جانیں دینا بھی جانتے ہیں۔ اگر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ان کو نظر آتی ہے تو وزیراعظم کی ہمشیرہ ان کو نظر کیوں نہیں آتی۔ حکومت جتنی بھی طاقت ور ہے لیکن ہمیں عوام پر بھروسہ ہے اور ہم عدلیہ ‘ افواج پاکستان اور ملک کے دیگر اداروں کا احترام کرتے ہیں کیاں نیب صرف پاکستان پیپلزپارٹی کیلئے ہی کھلی ہے انہوں نے کہا کہ ساری توپوں کا رخ پیپلزپارٹی کی طرف کردیا گیا ہے کیا کبھی کسی کے سوچا کہ کسی کیس میں ایک سال کے بچے کو بھی بلایا جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری پر جو کیس بنایا گیا وہ اس وقت ایک سال کے بچے تھے۔ پہلے بھی آصف علی زرداری پر کیسز بنائے جاتے رہے اب بھی بنا کر دیکھ لیں تصادم کی سیاست سے حکمران جماعت کو فائدہ نہیں ملے گا موجودہ حکومت کو صوبائی خود مختاری کو ختم کرنا ہوگا وقت سے پہلے انتخابات نہیں ہونے چاہیں عوام نے موجودہ حکومت کو طاقت دی اور اپنے پانچ سال پورے کرے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل پارلیمنٹ ہے برطانیہ کی مثال سب کے سامنے ہے۔ سیاسی پارٹیاں حالات کے مطابق ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے ایسے فیصلے کرتی ہیں اور اتحاد کرتی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز نجی ٹی وی کے کیمرہ مین پر نواز شریف کے گارڈ کی طرف سے کئے جانے والے تشدد کی پر زور الفاظ میں مذمت کی۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم طلبہ کا خونِ ناحق قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا

 چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم طلبہ کا خونِ ناحق قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا جب تک دہشتگردی کی عفریت کا اس کے مددگاروں اور سہولتکاروں کے ساتھ ساتھ ملک سے مکمل صفایا نہیں ہو جاتا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی چوتھی برسی کے موقعے پر جاری کردہ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ چار سال قبل آج کے دن دہشتگردوں نے معصوم بچوں پر حملہ کرکے نہ فقط پورے ملک بلکہ تمام دنیا کو اشکبار کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پاکستان اور اس کی عوام کے لیئے ہمیشہ باعثِ صدمہ رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آج بھی اس سانحہ کے متاثر والدین اور خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتھاپسندی و دہشتگردی اِس ریاست اور پاکستانی عوام کی بدترین دشمن ہیں اور قوم کسی بھی شخص یا گروہ کی جانب سے انہیں ظاہری یا خفیہ طور دی جانے والی نرمی کو برداشت نہیں کرے گی۔ پی پی پی چیئرمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی پارٹی دہشتگردوں کا بدترین نشانہ بننے کے باوجود دہشتگردی کے خلاف مزاحمت کی قیادت کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ خون کے پیاسے درندوں کے خلاف ان کے موقف سے بالاخر آج ملک میں سب متفق ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا اور اپنی پارٹی رہنماوَں پر زور دیا کہ آج کے دن وہ متاثر خاندانوں سے جاکر ملیں اور ان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو چیئرمن پی اے سی بنانے پر حکومتی آمادگی کا خیرمقدم کرتے ہیں، ترجمان بلاول بھٹو

قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو چیئرمن پی اے سی بنانے پر حکومتی آمادگی کا خیرمقدم کرتے ہیں، ترجمان بلاول بھٹو

چیئرمن بلاول بھٹو کی تجویز پر ہی معاملا آگے بڑھا اور جمہوریت کی فتح ہوئی، مصظفی نواز کھوکھر

بلاول بھٹو نے چیئرمن پی اے سی بنانے کی حکومتی پیشکش ٹھکرا دی تھی، ترجمان بلاول بھٹو

چیئرمن بلاول کا موقف واضح اور دو ٹوک رہا کہ چیئرمن پی اے سی کے عہدے پر اپوزیشن لیڈر کا ہی حق ہے، مصطفی نواز کھوکھر

اپوزیشن لیڈر کو چیئرمن پی اے سے مقرر کرنے کی روایت خود پیپلز پارٹی نے ڈالی، ترجمان بلاول بھٹو

نواز دور کے پیراز کی آڈٹ کیلئے الگ کمیٹی بنانے کی تجوہز بھی پیپلز پارٹی نے ہی دی تھی، مصطفی نواز کھوکھر

آج چیئرمن بلال بھٹو کی تجویز پر اتفاق کر کے پارلیمنٹ کو ڈیڈ لاک کی صورتحال سے بچا لیا گیا ہے، ترجمان بلاول بھٹو

پی پی پی جمہوری روایتوں کی امین جماعت ہے، مصطفی نواز کھوکھر

ہم اپنے سیاسی نفعے نقصان کیلئے نہیں جمہوریت اور اداروں کی بہتری کیلئے فیصلے کرتے ہیں، ترجمان بلاول بھٹو

آج پھر پیپلز پارٹی کے اصولی موقف کی وجہ سے پارلیمنٹ سرخرو ہوئی ہے، مصطفی نواز کھوکھر

پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے پی پی پی اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کی قیادت کے خلاف پکڑ دھکڑ کو انتھائی گندی انتقامی کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے

کراچی (12 دسمبر 2018) پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے پی پی پی اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کی قیادت کے خلاف پکڑ دھکڑ کو انتھائی گندی انتقامی کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو کٹھ پتلی حکمرانوں کو ہاتھ میں آلہ کار بن کر رہ گیا ہے۔ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت چاروں صوبوں سمیت آزاد جموں و کشمیر کے پارٹی رہنماوَں کا ایک اہم اجلاس بلاول ہاوَس میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 11 ویں برسی کے سلسلے میں جاری تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نیئر حسین بخاری، قائم علی شاہ، خورشید احمد شاہ، قمرالزمان کائرہ، مخدوم احمد محمود، نثار احمد کھڑو، ہمایوں خان، لطیف اکبر، علی مدد جتک، وقار مہدی اور دیگر رہنماوَں نے شرکت کی۔ پی پی پی چیئرمین نے اجلاس میں شریک رہنماوَں کی آراء سے اتفاق کیا کہ قوم کے اجتماعی فیصلے کے خلاف اپنی کٹھ پتلیوں کو اقتدار میں لانے کے لیئے شرمناک ڈرائی کلیننگ مہم چلائی گئی اور اس کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے حزب اختلاف کی جماعتوں اور خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اجلاس نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت جعلی اور سطحی منصوبوں کے ڈھول تو بجا رہی ہے لیکن درحقیقت اس کی کمزور و بے سمت پالیسیوں نے مہنگائی کو آسمان پر پہنچا کر قومی معیشت کو بربادی کے سمندر میں ڈبکیاں لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اجلاس نے تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے حددخلیوں کے خلاف جاری ظالمانہ کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا جس کے دوران داد رسی و تلافی کی کسی منصوبہ بندی کے بغیر فقط غریب لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی اپنی روزی روٹی کمانے کے ذرائع سے محروم ہو رہے ہیں۔ اجلاس میں شریک رہنماوَں کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلی سرکار عوام کو نوکریاں دینے کے بجائے ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کر رہی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت آمروں اور ان کے حواریوں کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کا سامنا کرتی رہی لیکن کبھی بھی اپنے نظریئے اور اس جدوجہد پر مصلحت کا شکار نہیں ہوئی، جس کا مقصد عوام کو غیرجمہوری اور جعلی جمہوریت پسندوں کے ہاتھوں جاری استحصال کا خاتمہ ہے۔ اجلاس کے دوران شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے 11 ویں یوم شہادت کے سلسلے میں 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں ہونے والے جلسہ عام کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی رہنماﺅں کی گرفتاریوں سے حکومت کے عزائم بے نقاب ہو رہے ہیں۔ اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈال کر کوئی بھی حکومت مضبوط اور پائیدار نہیں ہوگی۔ ایک بیان میں سابق صدر کے ترجمان عامر فدا پراچہ نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی خواہش رہی ہے کہ ہر حکومت اپنی معیاد پوری کرے اس سے پارلیمانی نظام مضبوط ہوگا مگر سلیکٹڈ وزیراعظم نہیں چاہتے کہ پارلیمنٹ مضبوط ہو اور ہر فیصلہ پارلیمنٹ میں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت پارلیمنٹ میں جمہوریت رویہ اختیار کرکے ایک طرف پارلیمنٹ کا ماحول کشیدہ کرنے کے لئے کوشاں رہتی ہے تو دوسری طرف سیاسی مخالفین کو گرفتار کرکے احتساب کی آڑ میں انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے جو ناقابل قبول ہے۔ سابق صدر کے ترجمان نے کہا کہ لاڈلے کو قوم پر مسلط تو کیا گیا ہے مگر لاڈلے میں یہ اہلیت ہرگز نہیں کہ ان کو ملکی معاملات کا ادراک ہو اور وہ معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی کارروائیوں سے سیاسی قیادت اور سیاسی پارٹیاں ہرگز کمزور نہیں ہوں گی بلکہ عوام میں پذیرائی اور مقبولیت حاصل کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک خطرناک معاشی بحران کا شکار ہو رہا ہے، مہنگائی اور بیروزگاری سے عوام پریشان ہیں تو دوسری طرف حکومت عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے سیاسی قیادت کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔