سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی رہنماﺅں کی گرفتاریوں سے حکومت کے عزائم بے نقاب ہو رہے ہیں۔ اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈال کر کوئی بھی حکومت مضبوط اور پائیدار نہیں ہوگی۔ ایک بیان میں سابق صدر کے ترجمان عامر فدا پراچہ نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی خواہش رہی ہے کہ ہر حکومت اپنی معیاد پوری کرے اس سے پارلیمانی نظام مضبوط ہوگا مگر سلیکٹڈ وزیراعظم نہیں چاہتے کہ پارلیمنٹ مضبوط ہو اور ہر فیصلہ پارلیمنٹ میں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت پارلیمنٹ میں جمہوریت رویہ اختیار کرکے ایک طرف پارلیمنٹ کا ماحول کشیدہ کرنے کے لئے کوشاں رہتی ہے تو دوسری طرف سیاسی مخالفین کو گرفتار کرکے احتساب کی آڑ میں انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے جو ناقابل قبول ہے۔ سابق صدر کے ترجمان نے کہا کہ لاڈلے کو قوم پر مسلط تو کیا گیا ہے مگر لاڈلے میں یہ اہلیت ہرگز نہیں کہ ان کو ملکی معاملات کا ادراک ہو اور وہ معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی کارروائیوں سے سیاسی قیادت اور سیاسی پارٹیاں ہرگز کمزور نہیں ہوں گی بلکہ عوام میں پذیرائی اور مقبولیت حاصل کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک خطرناک معاشی بحران کا شکار ہو رہا ہے، مہنگائی اور بیروزگاری سے عوام پریشان ہیں تو دوسری طرف حکومت عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے سیاسی قیادت کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔