کراچی (12 دسمبر 2018) پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے پی پی پی اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کی قیادت کے خلاف پکڑ دھکڑ کو انتھائی گندی انتقامی کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو کٹھ پتلی حکمرانوں کو ہاتھ میں آلہ کار بن کر رہ گیا ہے۔ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت چاروں صوبوں سمیت آزاد جموں و کشمیر کے پارٹی رہنماوَں کا ایک اہم اجلاس بلاول ہاوَس میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 11 ویں برسی کے سلسلے میں جاری تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نیئر حسین بخاری، قائم علی شاہ، خورشید احمد شاہ، قمرالزمان کائرہ، مخدوم احمد محمود، نثار احمد کھڑو، ہمایوں خان، لطیف اکبر، علی مدد جتک، وقار مہدی اور دیگر رہنماوَں نے شرکت کی۔ پی پی پی چیئرمین نے اجلاس میں شریک رہنماوَں کی آراء سے اتفاق کیا کہ قوم کے اجتماعی فیصلے کے خلاف اپنی کٹھ پتلیوں کو اقتدار میں لانے کے لیئے شرمناک ڈرائی کلیننگ مہم چلائی گئی اور اس کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے حزب اختلاف کی جماعتوں اور خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اجلاس نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت جعلی اور سطحی منصوبوں کے ڈھول تو بجا رہی ہے لیکن درحقیقت اس کی کمزور و بے سمت پالیسیوں نے مہنگائی کو آسمان پر پہنچا کر قومی معیشت کو بربادی کے سمندر میں ڈبکیاں لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اجلاس نے تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے حددخلیوں کے خلاف جاری ظالمانہ کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا جس کے دوران داد رسی و تلافی کی کسی منصوبہ بندی کے بغیر فقط غریب لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی اپنی روزی روٹی کمانے کے ذرائع سے محروم ہو رہے ہیں۔ اجلاس میں شریک رہنماوَں کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلی سرکار عوام کو نوکریاں دینے کے بجائے ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کر رہی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت آمروں اور ان کے حواریوں کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کا سامنا کرتی رہی لیکن کبھی بھی اپنے نظریئے اور اس جدوجہد پر مصلحت کا شکار نہیں ہوئی، جس کا مقصد عوام کو غیرجمہوری اور جعلی جمہوریت پسندوں کے ہاتھوں جاری استحصال کا خاتمہ ہے۔ اجلاس کے دوران شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے 11 ویں یوم شہادت کے سلسلے میں 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں ہونے والے جلسہ عام کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔