Archive for January, 2019

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے لورالائی میں دہشتگردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے لورالائی میں دہشتگردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ دہشتگردوں، ان کے سرپرستوں، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے۔آصف علی زرداری نے دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد کسی صورت میں معاف کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ان کو قانون کے مطابق سزا ضرورت ملے گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لورالائی میں دہشتگردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کسی بھی شکل میں ہوں ناقابل قبول اور ناقابل بردشت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے حملے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف قوم متحد اور ایک رائے رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشگردوں کا حملے کے بعد آسانی سے فرار ہونا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ حکمران دہشتگردوں کے خلاف سینہ سپر ہونے کی بجائے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

و (Bridges) کا افتتاح کرنے آیا ہوں کوٹری (Bridge) اور جام شورو پھاٹک Flyover Bridge سندھ حکومت کے (2)اور projectsجو عوام کی فلاح کے لیے بنائے گئے ہیں سندھ حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے governance of deliverance کو اپنی ترجیح بنایا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نعرے تکبیر ۔۔۔ اللہ اکبر
نعرے رسالت ۔۔ یا رسول اللہ
نعرے حیدری ۔۔۔ یاعلی
نعرے بھٹو ۔۔۔ جئے بھٹو
السلام علیکم
آج میں دو (Bridges) کا افتتاح کرنے آیا ہوں کوٹری (Bridge) اور جام شورو پھاٹک Flyover Bridge سندھ حکومت کے (2)اور projectsجو عوام کی فلاح کے لیے بنائے گئے ہیں سندھ حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے governance of deliverance کو اپنی ترجیح بنایا ،دریائے سندھ پرBridges ہویا ہزاروں kilometerلمبا معیاریRoads جال پانی کی بچت کے لیے Canalsکی Lining ہو یا کسانوں کو subsidies، تھر کول میں مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنا ہو یا پورے صوبے میں مفت اور معیاری دل کی طبی سہولیات ۔
ہم نے صرف اور صرف خدمت کی ،عوام کی خدمت آپ کی خدمت اور اسی خدمت کا نتیجہ ہم آج بھگت رہے ہیں ۔
سچ تو یہ ہے کے PTIکو حکومت صرف دھاندلی کی وجہ سے ملی ہے ،وہ ہم سے Free-fareالیکشن میں جیت نہیں سکتے نہ ہمارے کام سے مقابلہ کر سکتے ہیں ،وفاق کا Selected Wazeer e Azamپنجاب کا بوزدار ، مراد علی شاہ سے Merit پہ مقابلہ نہیں کر سکتے تو سازش کے تحت ہمیں نکالنہ چاہتے ہیں ،پہلے بھی ناکام ہوئے اور اب بھی نا کام ہونگے ،جب ایک نا اہل وفاقی حکومت سندھ اور اس کی عوام سے سوتیلا سلوک کرنے پر ڈٹی ہوئی ہے اور سندھ کے لوگوں کو پاکستان پیپلز پارٹی سے محبت کرنے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کی سزا دی جارہی ہے ۔
ساتھیو!
آپ کو یاد ہے کے میں نے انتخابات سے پہلے کہا تھا کے خان صاحب اصولوں کی سیاست سے پہلے سیاست کے اصول سیکھو ۔
کرکٹ میں Umpire کی انگلی چلتی ہے سیاست میں عوام کی مرضی چلتی ہے ،
آپ نے آج اصولوں کی سیاست کا دھوکا دے کر عوام کے ووٹ تو چوری کر لیے لیکن آج آپ سیاست کے اصولوں کے آگے ہار گئے ،
آپ نے اقتدار تو حاصل کر لیا لیکن قوم کا وقار قائم نہ رکھ سکے ، آپ نے اور آپ کے لاڈلوں نے حکومتی عہدے تو حاصل کرلیے لیکن ان عہدوں کی پاسداری نہ کرسکے ،انہوں نے جتنے وعدے کیے جھوٹ نکلے ،جتنے دعوے کیے فراڈ نکلے ،جتنی قسمیں کھائیں ہوا میں اڑگئی ،الیکشن سے پہلے جو سبز باغ دکھائے وہ عوام کے لیے کانٹوں کا ہار بن گئے یہ حکومت جتنا آگے جارہی ہے ملک اتنا پیچھے جارہا ہے آج معیشت کمزور تر ہوگئی ہے عوام مہنگائی کی Tsunamiمیں ڈوب رہی ہے Millsبند پڑی ہیں دوکانوں پر تالے لگ گئے ہیں غریبوں کو چولہے ٹھنڈے ہورہے ہیں ،نیا روزگار مل نہیں رہا اور پہلے سے موجود روزگار پر حملے ہو رہے ہیں ،جنہوں نے ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں انہوں نے پہلے سے موجود نوکریاں چھین لیں ،جنہوں نے (50)لاکھ گھر دینے تھے انہوں نے لوگوں کے سروں سے چھت بھی چھین لی ۔
آج ملک میں بجلی نہیں آرہی ،گیس نہیں آرہی ،سرمایہ کاری نہیں آرہی ،قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں،مہنگائی کا طوفان پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے لیکن حکومتی وزیروں کی دیدا دلیری دیکھیں وہ کہہ رہے ہیں کے مہنگائی کم ہوئی ہے ،میں حکومتی نمائندوں سے کہتا ہوں کے آپ کی آنکھوں پر غرور کی پٹی ہے اور آپ کا دماغ طاقت کے نشے میں ہے آپ کا دل بے حسی سے پتھر ہو چکا ہے آپ کو نہ تو نظر آ رہاہے نہ سنائی دے رہا ہے نہ محسوس ہو رہا ہے کے لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں اور آپ اعلان کر رہے ہیں کے مہنگائی کم ہوگئی صبر کریں قیامت تو نہیں آگئی سب ٹھیک ہوجائیگا ،میں کہتا ہوں ہاں خان صاحب جس کا بچہ بھوک سے مرجائے اس کے لیے قیامت آچکی ہے لیکن آپ اور آپ کے وزیروں کے لیے ابھی قیامت نہیں آئی اسلام آباد میں بیٹھے لاڈلوں کے لیے قیامت نہیں آئی لیکن سندھ کے عوام کے لیے آپ نے ایک بار پھر کربلا برپہ کر دی سندھ کا پانی بند کر دیا سندھ کی بجلی بند کردی وہ سندھ جہاں سے پورے ملک کو (80%)گیس فراہم کی جاتی ہے اس کے عوام کو گیس سے محروم کردیا ،صوبائے سندھ کے اربوں روپے روک لیے جس سے سندھ کا ترقیاتی عمل متاثر ہوا میں پوچھتا ہوں سندھ کے عوام کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے؟
سندھ کے عوام کو دیوار سے کیوں لگایا جارہا ہے؟
صرف اس لیے کے انہوں نے اپنے ووٹ چوری نہیں ہونے دیے؟
صرف اس لیے کے انہوں نے کٹ پتلیوں کو مسترد کیا ،
صرف اس لیے کے وہ پیٹ پرست مطلب پرست لوگوں کے جھانسے میں نہیں آئے ؟
اس لیے سندھ کے عوام کو سزا دے رہے ہو کے وہ بھٹو شہید سے وفاداری کو اپنا ایما ن سمجھتے ہیں ،
ان کو صرف اس لیے سزا دے رہے ہو کے وہ بی بی شہید کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں ،
صرف اس لیے انہیں سزا دے رہے ہو کے انہوں نے اپنا ضمیر نہیں بیچا اگر یہ بات ہے تو پھر یاد رکھو اگر سندھ کے عوام نے اسلام آباد پر چڑہائی کا فیصلہ کر لیا ، اگر بلوچستان کی عوام نے احساسِ محرومی کی وجہ سے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا، اگر جنوبی پنجاب کی عوام نے اپنا حق لینے کے لیے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا،اگر پنجاب کے عوام نے ان کی نا اہلی کی وجہ سے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا اگر پختونخواہ نے اپنی انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیاتو تمہاری جعلی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دینگے ۔
میں کہتا ہوں تم ہمارے صبر کا امتحان مت لو تم سے پہلے بھی بہت فرعون آئے ان کے انجام سے سبق سیکھو ،پاکستا ن پیپلز پارٹی کے جیالوں کو مت للکارو اگرتم باز نہ آئے تو پھر تمہیں سکھائیں گے کے ووٹ کی چوری کا بدلہ کیسے لیا جاتا ہے ،یاد رکھو زہریلی زبان چلانے سے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکتا بد زبانی کی سیاست سے رواداری کے پھول نہیں کھل سکتے ،الزام تراشی سے آپ کی جھوٹی انا کی تسکین تو ہو سکتی ہے لیکن غریب عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتا ،کانٹوں کی جھاڑیوں سے آپ کا دامن تو تار تار ہوسکتا ہے لیکن ان سے سایا نہیں مل سکتا آج PTIکی حکومت بھی کانٹوں کی جھاڑیوں میں تبدیل ہو چکی ہے ،پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ اس حکومت کو کچھ نہیں آتا ،اس افلاطونی حکومت کو آج تک یہ پتا نہیں چل سکا کے روپے کی قدر کم کیوں ہوئی Speedکی Lightسے چلنے والی حکومت کو یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کے معیشت کا پہیا جام کیوں ہو چکا ہے انڈوں اور مرغیوں سے ،
Foreign Exchange Reserves بڑھانے والی حکومت کو یہ بھی پتا نہیں چل سکا کے ایک دن میں (500)ارب کا قرضہ کیسے بڑھا ؟
قرضہ لینے سے خود کشی کو فوقیت دینے والے آج قرضہ ملنے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں یہ وہ ہی لوگ ہیں جنہوں نے (2018)کے انتخابات میں پورے پاکستان سے ووٹ چوری کیے لیکن سندھ کے غیور عوام نے ان کی بھر پور کوششوں کے باوجود ان کی دھاندلی کو ناکام بنا دیا اپنے ووٹ کا پہرا دیا اپنا ووٹ چور ی نہیں ہونے دیا تو یہ (3)مہینے بعد سندھ کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے آئے اور مایوس ہو کر بھاگ گئے سندھ نے پھر کہا کے ہم لاڈلوں کو بھی نہیں مانتے،ہم کٹ پتلیوں کو بھی نہیں مانتے،ہم کسی جعلی JITکو بھی نہیں مانتے،ہم سیاسی انتقام کا مقابلہ کریں گے ہم ان کے ECL،NABاور جیل کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ہم ضیاء کے کوڑوں ،جیلوں اور پھانسی گھاٹ سے نہیں ڈرے،ہم احتساب الرحمان کی
جیلوں تشدد اور ظلم سے نہیں ڈرے ہم مشرف کی جیلوں،جلاوطنی اور دہشتگردی سے نہیں ڈرے، تم کیا چیز ہو؟
تم تو کٹ پتلی ہو،تم تو بے نامی وزیر اعظم ہو
تم تیر آزماؤ، ہم جگر آزمائینگے،تم ستم آزماؤ،ہم صبر آزمائینگے
اور دیکھیں گے کہ آخری فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے
جئے بھٹو جئے بی بی جئے عوام
آپ سب کا شکریہ۔۔۔۔۔

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پارٹی کے سینئر ترین رہنما سابق سینیٹر ملک حاکمین خان کے انتقال کی وجہ سے پارٹی کے عہدیداروں اور ذیلی تنظیموں کو ہدایت کی ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پارٹی کے سینئر ترین رہنما سابق سینیٹر ملک حاکمین خان کے انتقال کی وجہ سے پارٹی کے عہدیداروں اور ذیلی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ کل بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ صرف دعائیہ تقریب تک محدود ہو۔ ملک حاکمین خان کے سوگ میں سالگرہ کے کیک نہ کاٹے جائیں۔ سابق صدر نے مرحوم ملک حاکمین خان نے صاحبزادے شاہان ملک سے ٹیلی فون پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ملک حاکمین خان کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک حاکمین خان بہادر اور ثابت قدم رہنما پارٹی کا انمول اثاثہ تھے۔ ان کا انتقال پارٹی کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک حاکمین خان نے آمروں کا بہادری اور بے خوفی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ وہ ہر قدم پر شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا وفادار ساتھی رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ملک حاکمین خان کی قربانیوں، جدوجہد اور ثابت قدمی کو کبھی نہیں بھولے گی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ بھٹو خاندان دکھ کی اس گھڑی میں ملک حاکمین خان کے خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ آصف علی زرداری نے مرحوم حاکمین خان کے بلند درجات اور مغفرت کی بھی دعا کی۔

اسلام آباد

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ملک حاکمین خان جن کا انتقال جمعہ کے روز لاہور میں ہوگیا تھا ان کی نماز جنازہ ہفتہ کے روز سہ پہر تین بجے ان کے آبائی گاﺅں اٹک میں ہوگی۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے سابق وزیراعظم و پی پی پی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ان کی 91 ویں سالگراہ کے موقعے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے سابق وزیراعظم و پی پی پی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ان کی 91 ویں سالگراہ کے موقعے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت و جیالے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فلسفے، ویژن اور مشن کو پایئہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئے سرگرمِ عمل رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نہ فقط شہید بھٹو کے نظریئے پر سختی سے کاربند رہنا ان کا نصب العین ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو ان کے مشن سے کمٹمنٹ، سیاسی ویژن، تدبر اور بھادری کے متعلق بھی آگہی دینا ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو غیرمعمولی طور ذرخیز ذھن کے مالک تھے، جمہوریت بے مثال طور ان کے خون میں ایسے رچی بسی تھی اور بینظیر سیاسی ویژن کے بل بوتے وہ ایک متفقہ دستور تخلیق کرنے میں بھی سرخرو ہوئے۔ وہ ہتھیار ڈالنے والے 90 ہزار جنگی قیدیوں کو بھارت سے واپس لانے، پاکستان کی ہزاروں میلوں پر مبنی زمین بھارتی قبضے سے واگذار کرانے اور تاریخی شملہ معاہدہ کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھنے سے لے کر اسٹیل ملز اور پورٹ قاسم جیسے سینکڑوں میگا پروجیکٹس کے ذریعے ملک میں معاشی انقلاب برپا کیا اور یونیورسٹیاں و اسپتالیں قائم کیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید بھٹو کے عدالتی قتل نے عوام کو ان کی خدمات اور صدیوں میں پیدا ہونے والے عظیم مدبر سے محروم کردیا، لیکن ان کی سیاسی میراث ناقابل تسخیر ہے، جو پاکستان میں جمہوریت کے اقدار اور معیار کی آبیاری کرتی رہے گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی خواتین رہنماﺅوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود حکومت کا ای سی ایل میں شامل کئے گئے 172افراد کے ناموں پر نظرثانی نہ کرنا توہین عدالت کے مترادف ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کی خواتین رہنماﺅوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود حکومت کا ای سی ایل میں شامل کئے گئے 172افراد کے ناموں پر نظرثانی نہ کرنا توہین عدالت کے مترادف ہے،حکومت ایف آئی اے سے ملکر اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہی ہے،اوگرا نے حکومت کو تیل کی قیمت 9.50روپے کم کرنے کی تجویز دی تھی،لیکن حکومت نے صرف4.50روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے،حکومت نے چین سے 2ارب ڈالر کا قرضہ لیا،جس پر 8.50فیصد شرح سود ادا کی جائے گی،رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی پانچ خطرناک اسٹاک مارکیٹوں میں شامل ہے،وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے سندھ سے 12لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں،مودی کہتا تھا کہ پاکستان کا پانی بند کردیں گے لیکن ہماری اپنی وفاقی حکومت کہتی ہے کہ سندھ کا پانی بند کردیں گے،ان کو دوست سمجھیں یا دشمن۔ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔پیپلزپارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈینیٹر نذیر ڈوکی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ 172لوگوں کا نام ای سی ایل میں کیوں شامل کیا گیا۔جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ کی پراپرٹی ہوتی ہے،اس پر وفاقی وزراءکس طرح بات کرتے ہیں اور وفاقی حکومت کا حصہ وزیر اعلیٰ سندھ کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا گیا اور اس حوالے سے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اس پر نظرثانی کی جائے لیکن وفاقی کابینہ کی میٹنگ میں اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،صرف کمیٹی بنائی گئی یہ سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین کے مترادف ہے۔انہوںنے کہا کہ سندھ حکومت کےخلاف سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل نہیں کیا گیا،حکومت ایف آئی اے کے ساتھ ملکر انتقامی کارروائی کر رہی ہے،پی ٹی آئی منی بجٹ کیوں لے کر آرہی ہے،دو دفعہ روپے کی قدر میں کمی کی گئی اور تیل کی قیمتیں بڑھائی گئیں،اوگرا کی تجویز کے مطابق حکومت نے پٹرول کی قیمتیں کم نہیں کیں،17فیصد ٹیکس لگا دئیے ہیں،وزیرخزانہ کہتے تھے کہ بین الاقوامی ریٹ کم ہوتے ہیں لیکن ملک میں پٹرولیم کے ریٹ زیادہ ہوتے ہیں،لیکن اب ان کو نظر نہیں آرہا،مہنگائی عروج پر چلی گئی ہے،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور چائنا کے پاس وزیراعظم ڈالر لینے کیلئے گئے لیکن اب بتایا جائے کہ وہ ڈالر کہاں گے؟۔چین سے کمرشل لون لیا گیا،جس پر 8فیصد سود ادا کیا جائے گا۔پاکستان کی سٹاک مارکیٹ دنیا کی پانچ خطرناک ترین سٹاک مارکیٹوں میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ڈویلپمنٹ بجٹ میں300ارب روپے کی کٹوتی کردی ہے۔کار کے رینٹل پاور پروجیکٹ اور ریکوڈیک میں 8ارب روپے کے جرمانے ہوئے ہیں،اس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔اگر پیپلزپارٹی کو دیوار کے ساتھ لگایا گیا تو ردعمل ہوگا،تین بار وزیراعظم رہنے والے سے کمرے کی صفائی کرانے کی مذمت کرتے ہیں اور جو گند موجودہ حکومت ڈال رہی ہے یہ کون صاف کرے گا؟۔پلوشہ خان نے کہا کہ سندھ سے 10لاکھ لوگوں کو وفاقی حکومت نے بے روزگار کردیا،یہ مدینہ کی ریاست نہیں بلکہ اسرائیل کی ریاست لگتی ہے جہاں پاکستانیوں سے فلسطینیوں جیسا سلوک ہورہا ہے۔حکومت علیمہ خان،علیم خان اور جہانگیر ترین کو کیوں نہیں پکڑتی،سندھ کی حکومت گرانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب میں خفیہ درخواستیں آتی ہیں اور اپوزیشن کے لیڈروں کی پکڑ دھکڑ کی جارہی ہے لیکن حکومتی وزرائ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی،ایک وزیر جس نے استعفی دیا اس کے بیٹے کو بہت بڑا ٹھیکہ دیا گیا۔18ویں ترمیم اور این ایف سی پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔پاکستان پیپلزپارٹی پی ٹی آئی حکومت کو گرانا نہیں چاہ رہی،فوجی عدالتوں کی توسیع کے حوالے سے کوئی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ڈیسکون پاکستان کو دیا گیا ہے جو کہ وزیر اعظم کے مشیر تجارت کی کمپنی ہے

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمن ©تیرنز کے سیکریٹری جنرل سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مطالبہ کیا ہے کہ مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ڈیسکون پاکستان کو دیا گیا ہے جو کہ وزیر اعظم کے مشیر تجارت کی کمپنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیکہ دینا انتہائی غیر اخلاقی ہے اور یہ ایک بہت بڑے اسکینڈل کی ابتدا ہے جس کی شفاف طریقے سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ایک بیان میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارٹی نے دو روز تک انتظار کیا کہ حکومت کی جانب سے کوئی قابل قدر وضاحت آئے گی لیکن جب حکومت نے وضاحت دی تو اس سے بہت سارے مزید سوالات سامنے آگئے اور حکومت کی جانب سے کسی معقول وضاحت نہ آنے کے بعد پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اس ٹھیکے کی شفاف تحقیقات کرائی جائٰں اور جب تک تحقیقات جاری رہتی ہیں تو وزیر تجارت کو اپنا عہدہ چھوڑ دیانا چاہیے۔ فرحت اللہ بابر نے مندرجہ ذیل سوال پوچھے:-
کہ کیا یہ درست ہے کہ دیگر دوسرے بولی دینے والوں کی بولیاں ٹیکنیکل بنیادوں پر مسترد کرکے ڈیسکون کے لئے میدان خالی چھوڑ دیا گیا؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ ضروری نہیں کہ دیگر بولیاں دینے والے نااہل ہوگئے تو نئی بولیوں کے لئے دوبارہ نئے سرے سے اعلان کیا جاتا؟
انہوں نے کہا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ ڈیسکون نے اپنی بولی عام انتخابات کے بعد جمع کرائی؟
انہوںنے یہ بھی پوچھا کہ دیگر بولیاں دینے والوں کی نااہلی کے کتنے عرصے بعد ڈیسکون کی بولی کھولی گئی تھی؟
انہوںنے یہ سوال بھی کیا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ پیپرا رولز اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ صرف ایک واحد بولی کو قبول کر لیا جائے؟ اس شرط کو نظرانداز کرنے کے لئے کیا طریقہ اپنایا گیا؟
یہ وضاحت کے ڈیسکون اس جوائنٹ وینچر میں صرف 30فیصد کا حصہ دار ہے انتہائی مضحکہ خیز ہے اور یہ معاملے کو چھپانے کی مجرمانہ کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف دوروز قبل خیبرپختونخواہ اسمبلی کے سابق اور موجودہ اسپیکر صاحبان اسمبلی میں ایک سینئر افسر کی تقرری کے معاملے اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل ہی کابینہ نے سی ڈی اے کو حکم دیا کہ وہ وزیراعظم کی بنی گالہ میں رہائش گاہ کو ریگولرائز کرنے کے لئے سی ڈی اے کے ماسٹر پلان میں تبدیلی کرے۔ ابھی اس اسکینڈل کی بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ مہمند ڈیم کا اسکینڈل سامنے آگیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے گھر کو صاف کرے اور یہ بھی کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نہ صرف حکومتی کرپٹ عناصر کو بے نقاب کرے گی بلکہ ان کا پیچھا بھی کرے گی چاہے وہ کتنے ہی اعلیٰ عہدے پر فائز کیوں نہ ہوں اور اخلاقی طور پر کتنے ہی گرے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں۔