Archive for February, 2019

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنتیرینز کے سیکریٹر جنرل فرحت اللہ بابر نے بے نامی اکاﺅنٹس کیس میں سپریم کورٹ میں دائر کردہ نظرثانی پٹیشنز کے مسترد کئے جانے پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنتیرینز کے سیکریٹر جنرل فرحت اللہ بابر نے بے نامی اکاﺅنٹس کیس میں سپریم کورٹ میں دائر کردہ نظرثانی پٹیشنز کے مسترد کئے جانے پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے سوموٹو لینے کے اختیار کی حدود متعین کی جائیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پٹیشن میں اٹھائے گئے نکات خاص طور پر سوموٹو استعمال کرنے کے اختیارات بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس کی حدود متعین کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے جرمنی کے شہر میونخ میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے انٹرویو کا بھی ذکر کیا جس میں پارٹی چیئرمین نے یہ بات کی ہے کہ انہیں کسی بھی عدالت میں اپنا موقف بیان کرنے کا موقع نہیں دیا گیا جو کہ قانون میں دئیے گئے آرٹیکل 10(a) کی نفی ہے کیونکہ یہ آرٹیکل ایک منصفانہ ٹرائل کی گارنٹی دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ سوموٹو نوٹس اس بنیاد پر لیا گیا تھا کہ تحقیقات میں سستی تھی۔ بلاول بھٹوزرداری نے ایک نکتہ اٹھایا تھاکہ کیا کسی سست روی پر سوموٹو نوٹس لیا جا سکتا ہے؟ ایف آئی آر درج ہوگئی تھی اور تحقیقات جاری تھی اور ابتدائی رپورٹ بھی مکمل ہو چکی تھی اور مقدمہ بینکنگ کورٹ میں چل رہا تھا اسی لئے نظرثانی پٹیشن میں سپریم کورٹ میں استدعا کی گئی تھی کہ سوموٹو لینے کے اختیارات کے حدود کے تعین کے لئے بڑا بینچ تشکیل دیا جائے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے جس کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی۔ جب سپریم کورٹ سوموٹو نوٹس کے ذریعے فیصلہ کرتی ہے تو اس فیصلے کے خلاف متاثرہ فرد کو اپیل کرنے کے لئے کوئی دوسرا فورم میسر نہیں ہوتا جو کہ انصاف کے بنیادی اصول کے خلاف اس لئے یہ بات زیادہ ضروری ہوگئی ہے کہ سوموٹو کے اختیارات اور طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی عدالت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے چاہے وہ اس سے اتفاق نہ کرتی ہو اس لئے پارٹی آرٹیکل 184(3) پر پارلیمنٹ میں بحث کے لئے کام کرنا شروع کرے گی تاکہ سوموٹو کے اختیارات کا تعین کرنے کے لئے قانون سازی کی جا سکے۔

 

 

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی کے اکثر لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ہمیں سپریم کورٹ سے کبھی انصاف نہیں

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی کے اکثر لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ہمیں سپریم کورٹ سے کبھی انصاف نہیں ملا مگر میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا ضروری تھا۔ ریلیف ملے یا نہ ملے لیکن تاریخ کے لئے میں اپنے اعتراضات ریکارڈ پرلاﺅں۔ میونخ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ مجھے سنے بغیر میرے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ مجھے ابھی تک موقع ہی نہیں دیا گیا کہ میں اپنا موقف بیان کر سکوں۔ میرے ساتھ یہ ناانصافی ہے۔ مجھے موقف پیش کرنے کے لئے موقع ملنا چاہیے تھا۔ آرٹیکل 10(a) ملک کے ہر شہری کو فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ میرے کیس میں بے شمار ایسی مثالیں ہیں جب مجھے فیئرٹرائل کے حق سے محروم رکھا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بے نامی اکاﺅنٹس کیس کی تحقیقات میں سست روی کس طرح انسانی حقوق یا ازخود نوٹس کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کیس ازخود نوٹس کے زمرے میں آتا بھی ہے تو بھی سوال یہ ہے کہ اسے سست روی کا شکار کیس کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایف آئی آر درج تھی، تحقیقات جاری تھیں، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ موجود تھی اور کیس بینکنگ کورٹ میں زیر سماعت تھا اس صورتحال میں کیس کو سست روی کا شکار کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عام انتخابات کے دوران اس پور ازخود نوٹس لے کر بہت بڑا معاملہ بنا دیا گیا۔ میں اعلیٰ عدلیہ سے گزارش کرتا ہوں کہ میری پٹیشن پر لارجر بینچ بنایا جائے تاکہ آئینی سوالات کا جواب مل سکے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ معزز چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے ایک فرد سے پوچھا تھا کہ میرا نام کس کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔ چیف جسٹس صاحب اس سوال کا جواب ہمیں نہیں ملا جو آرڈر چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں سنایا اور پورے ملک نے سنا وہ تحریری حکمنامے میں شامل نہیں۔ جب فیصلہ سنایا جا رہا تھا تو اس وقت چیف جسٹس صاحب کی آبزرویشن غیرمعمولی تھیں۔ آیا یہ غلطی کلرک سے سرزد ہوئی ہے یا اس کا جواز کیا ہے؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ تضاد بطور ایک ادارہ عدلیہ کے تقدس کو مجروح کرتا ہے۔ یہ انصاف نہیں کہ ایک چیف جسٹس کسی کو بھری عدالت میں کہے کہ آپ بے گناہ ہو لیکن فیصلے میں سزا سنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تضاد بطور ایک ادارہ عدلیہ کے تقدس کو مجروح کرتا ہے اگر زبانی حکم اور تحریری حکم میں اتنا تضاد آنا تھا تو ہمیں فیئر ٹرائل کے تحت موقف پیش کرنے کا موقع دیتے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ ہمارے خلاف فیصلہ سناتے تو بھی ہم قبول کرتے لیکن اس طریقے سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ میرا فیئرٹرائل کا حق بھی چھینا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ بھی خلاف قانون فیصلہ دیا گیا کہ ہمارے خلاف مقدمہ راولپنڈی میں چلایا جائے گا۔ جیوریسڈیکشن کے مطابق یہ کیس سندھ میں چلایا جانا ہے۔ بھٹوز کے لئے ہمیشہ راولپنڈی میں کربلا برپا کیا جاتا ہے، ہم تیار ہیں۔ میرا یہ بھی اعتراض ہے کہ یہ کیس نیب کا کیس کیسے بنتا ہے؟ سپریم کورٹ میں داخل نظرثانی اپیل میرے لئے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ پارٹی کے اکثر لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ہمیں سپریم کورٹ سے کبھی انصاف نہیں ملا مگر میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا ضروری تھا، ریلیف ملے یا نہ ملے لیکن تاریخ کے لئے میں اپنے اعتراضات ریکارڈ کروا رہا ہوں۔

 

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بیرونِ ملک دورہ کے دوران میڈیا سے گفتگو

** پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بیرونِ ملک دورہ کے دوران میڈیا سے گفتگو

** مجھے سنے بغیر میرے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے: بلاول بھٹو زرداری

** مجھے ابھی تک موقعہ ہی نہیں دیا گیا کہ میں اپنا موقف بیان کرسکوں: بلاول بھٹو زرداری

** میری ساتھ یہ ناانصافی ہے، مجھے موقف پیش کرنے کے لیئے موقعہ ملنا چاہیئے تھا: بلاول بھٹو زرداری

** آرٹیکل 10-اے ملک کے ہر شہری کو فیئر ٹرائیل کا حق دیتا ہے: بلاول بھٹو زرداری

** میرے کیس میں بیشمار ایسی مثالیں موجود ہیں جب مجھے فیئرٹرائیل کے حق سے محروم کیا گیا: بلاول بھٹو زرداری

** میں نے بے نامی اکائونٹس کیس میں نظرثانی اپیل داخل کی ہے: بلاول بھٹو زرداری

** میں نے نظرثانی اپیل میں آرٹیکل 184-3 کے تحت ازخود نوٹیس پر سوال اٹھایا ہے: بلاول بھٹو زرداری

** بے نامی اکائونٹس کیس کی تحقیقات میں سست روی کس طرح انسانی حقوق یا ازخود نوتیس کا معاملہ بن سکتا ہے: بلاول بھٹو زرداری

** اگر یہ کیس ازخود نوٹیس کے ذمرے میں آتا بھی ہے تو بھی سوال ہے کہ اسے سست روی کا شکار کیس کیسے قرار دیا جاسکتا ہے: بلاول بھٹو زرداری

** ایف آئی آر درج تھی، تحقیقات جاری تھی، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ موجود تھی اور کیس بئنکنگ کورٹ میں زیرِ سماعت تھا: بلاول بھٹو زرداری

** اس صورتحال میں کیس کو سست روی کا شکار کیونکر قرار دیا جسکتا ہے: بلاول بھٹو زرداری

** عام انتخابات کے دوران اس پر ازخود نوٹیس لے کر بہت بڑا معاملہ بنا دیا گیا: بلاول بھٹو زرداری

** اعلیٰ عدلیہ کو گذارش کرتا ہوں کہ میری پٹیشن پر لارجر بئنچ بنایا جائے تاکہ آئینی سوالات کا جواب ملے: بلاول بھٹو زرداری

** جب فیصلہ سنایا جارہا تھا تو اس وقت چیف جسٹس صاحب کی آبزرویشنز غیرمعمولی تھیں: بلاول بھٹو زرداری

** معزز چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے ایک فرد سے پوچھا تھا کہ میرا نام کس کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا: بلاول بھٹو زرداری

** چیف جسٹس صاحب کے اس سوال کا جواب ہمیں نہیں ملا: بلاول بھٹو زرداری

** جو آرڈر چیف جسٹس نے کورٹ میں سنایا اور پورے ملک نے سنا وہ تحریری حکمنامے میں شامل نہیں: بلاول بھٹو زرداری

** آیا یہ غلطی کلرک سے سرزد ہوئی یا اس کا جواز کیا ہے: بلاول بھٹو زرداری

** یہ انصاف نہیں کہ ایک چیف جسٹس کسی کو بھری عدالت میں کہے کہ آپ بے گناہ ہو لیکن فیصلے میں سزا سنائی جائے: بلاول بھٹو زرداری

** یہ تضاد بطور ایک ادارہ عدلیہ کے تقدس کو مجروح کرتا ہے: بلاول بھٹو زرداری

** اگر زبانی حکم اور تحریری حکم میں اتنا تفاوت آنا تھا تو ہمیں
فیئر ٹرائیل کے تحت موقف پیش کرنے کا موقعہ دیتے: بلاول بھٹو زرداری

** اس کے بعد بھی اگر آپ ہمارے خلاف فیصلہ سناتے تو بھی ہم قبول کرتے: بلاول بھٹو زرداری

** لیکن اس طریقے سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ میرا فیئر ٹرائیل کا حق بھی چھینا گیا: بلاول بھٹو زرداری

** یہ بھی خلافِ قانون فیصلہ دیا گیا ہے کہ ہمارے خلاف مقدمہ راولپنڈی میں چلایا جائیگا: بلاول بھٹو زرداری

** جورسڈکشن کے اصولوں کے مطابق یہ کیس سندھ میں چلایا جانا ہے: بلاول بھٹو زرداری

** بھٹوز کے لیئے ہمیشہ راولپنڈی مین کربلا برپا کیا جاتا ہے، ہم تیار ہیں: بلاول بھٹو زرداری

** میرا یہ بھی اعتراض ہے کہ یہ کیس نیب کا کیس کیسے بنتا ہے: بلاول بھٹو زرداری

** سپریم کورٹ میں داخل نظرثانی اپیل میرے لیئے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے: بلاول بھٹو زرداری

** پارٹی کے اکثر لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ہمیں سپریم کورٹ سے کبھی انصاف نہیں ملا: بلاول بھٹو زرداری

** مگر میں سمجھتا ہوں، اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا ضروری تھا: بلاول بھٹو زرداری

** ریلیف ملے یا نہ ملے، لیکن تاریخ کے لیئے میں اپنے اعتراضات رکارڈ کروالوں: بلاول بھٹو زرداری

** پلوامہ حملے کے معاملے پر تمام پاکستانی قوم ایک پیج پر ہے: بلاول بھٹو زرداری

** افسوس ہے کہ حکومت پورے پاکستان کے لیئے نہیں بلکہ فقط پی ٹی آئی کو مدنظر رکھ کر سوچتی ہے: بلاول بھٹو زرداری

** حکومت نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا: بلاول بھٹو زرداری

** پلوامہ حملے جیسے واقعے کے بعد حکومت کو چاہیئے تھا وہ سب کو ساتھ بٹھاتی: بلاول بھٹو زرداری

** یہ قابل ستائش ہے کہ اپوزیشن میں سے کسی نے اس معاملے پر سیاست نہیں کی: بلاول بھٹو زرداری

** پلوامہ حملے کی مذمت کرتا ہوں، لیکن اگر استصواب رائے کرایا جاتا تو ایسے حملے نہ ہوتے: بلاول بھٹو زرداری

** سعودی عرب کے ولی عہد کا دورہِ پاکستان خوش آئند ہے: بلاول بھٹو زرداری

** ہم اپنے پڑوسی ممالک سے بھی دوستانہ تعلقات کے خواہشمند ہیں: بلاول بھٹو زرداری

** عمران خان فقط ان ممالک کا دورہ کرتے ہیں جہان سے اسے امداد ملنے کا آسرا ہو: بلاول بھٹو زرداری

** ہمیں دیگر ممالک سے فقط مالی حصول کے لیئے نہیں بلکہ ہمہ جہت بنیادوں پر تعلقات استوار کرنے چاہئیں: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو رہائی پر مبارکباد دی ہے۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو رہائی پر مبارکباد دی ہے۔ آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں اور کارکنوں کو بھی شہباز شریف کی رہائی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف کی رہائی جمہوریت کے لئے نیک شگون ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت میں ملک بھر میں کوئی بھی سیاسی قیدی نہیں تھا اس لئے کہ پاکستان پیپلزپارٹی انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا بنیادی جزو ہے۔ صرف الزام کی بنیاد پر کسی کو جیل میں بند رکھنا مناسب بات نہیں۔ الزامات کی سیاست سے ملک کا نقصان ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم سے وفاق مضبوط اور مستحکم ہوا۔ آئین کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے سعودی پرنس ولی

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے سعودی پرنس ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کیا ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات دائمی رہے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کا انتہائی محترم اور قابل احترام دوست ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان سعودی عرب کے پرنس محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کو خیرمقدم کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان اور پاکستانی قوم کی مدد کی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کر دی ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔ یہ اپیل جعلی اکاﺅنٹس کیس میں سپریم کورٹ کے 7جنوری 2019ءکو دیئے گئے فیصلے پر دائر کی گئی ہے۔ 8فروری 2019ءکو دائر کی گئی نظرثانی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ 7جنوری 2019ءکے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور ان کا نام جے آئی ٹی رپورٹ سے نکالا جائے اور ایف آئی اے، نیب یا کسی بھی دیگر تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کسی بھی قسم کی انکوائری یا تحقیقات میں سے بھی ان کا نام خارج کیا جائے۔ نظرثانی کی یہ اپیل ایڈووکیٹ خالد جاوید خان نے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ قاسم میرجت کے ذریعے دائر کی۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو 7جنوری 2019ءکی سماعت کے لئے نہ تو کوئی نوٹس یاسمن جاری کیا گیا۔ 7جنوری 2019ءکو سپریم کورٹ نے کچھ ہدایات دی تھیںجن میں یہ بات بھی شامل تھی کہ بلاول بھٹو زرداری کا نام جے آئی ٹی کی رپورٹ سے نکالا جائےاور یہ ہدایت تمام وکلائ، حکومتی نمائندوں، نیب کے افسران، ایف اائی اے کے افسران، جے آئی ٹی کے اراکین، اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، میڈیا اور عدالت میں موجود تمام دیگر افراد کی موجودگی میں دی گئی تھی۔ یہ بات تمام میڈیا میں رپورٹ بھی ہوئی تھی۔ اس کے باوجودبلاول بھٹو زرداری کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔ اس نظرثانی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ ہدایت کا ذکر نہیں کیا گیا اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس غلطی کو درست کیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کا نام غلط طور پر ای سی ایل مین شامل کیا گیا جسے بعد میں عدالت نے نکلوا دیا اور نہ ہی ان کے خلاف اس کیس مین کسی قسم کی انکوائری یا تحقیقات ہو سکتی ہیں۔ نظرثانی اپیل میں عدالت سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ سوﺅموٹو کے اختیارکی حد کیا ہے اور کیا اس کے استعمال سے کسی فرد کے بنیادی حقوق تو متاثر نہیں ہوتے۔ پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی میں ایف آئی اے کے ڈی جی کی سفارش پر ارکان شامل کئے گئے ہیں جبکہ ڈی جی ایف آئی اے پر انہیں شعدید تحفظات ہیں۔ کیا جے آئی ٹی اس صورت میں قانون کے مطابق بنائی گئی ہے؟ بلاول بھٹو زرداری کو نہیں سنا گیا اور کیا یہ انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے کہ انہیں سے بغیر عدالت نے حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے متعلق اپنے حکم نامے کے پیراگراف 37(v) میں خدشات ظاہر کئے ہیں۔ اس صورت میں کیا اپیل کنندہ کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوئے؟ جن کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 4 اور 10(A) میں دی گئی ہے۔ کیا عدالت کا یہ حکم کہ تحقیقات اور مقدمہ کراچی کی بجائے اسلام آباد /راولپنڈی میں ہو نیب آرڈیننس 1999ءکے مطابق ہے اور ایسے کیسوں میں territorial jurisdiction کے مطابق ہے۔ نظرثانی اپیل میں کہا گیا ہے کہ عدلات نے یہ کیس متعدد مرتبہ سنا اور 5.9.18 کو عدلات نے جے آئی ٹی بنائی۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ دروخواست گزار کو کبھی بھی کوئی نوٹس یا سمن جاری نہیں کیا گیا۔ بعد میں جے آئی ٹی کی جانب سے درخواست گزار کو ایک سوالنامہ موصول ہوا۔ درخواست گزار عدالت کے سامنے اپنے بہت سارے خدشات جے آئی ٹی اور اس کی تحقیقات کے بارے میں پیش کرنا چاہتا تھا اور متعدد قانون اور آئینی سوالات اٹھانا چاہتا تھا کیونکہ درخواست گزار کبھی بھی جعلی اکاﺅنٹس میں کسی بھی طرح ملوث نہیں رہا اور نہ ہی کسی قسم کی غیرقانونی سرگرمی کا مرتکب ہوا۔ یہ قانون کا صدیوں پرانا اصول ہے اور آئین کے آرٹیکل 4 اور 13 میں بھی درج ہے کہ بغیر کسی ٹھوس اور کافی ثبوتوں کے کسی کے خلاف بھی کوئی تحقیقات یا انکوائری نہیں ہو سکتی۔ جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے کیس میں ایہ اصول الٹا کر دی اگیا ہے اور ان کے خلاف بغیر ٹھوس اور کافی ثبوت کے تحقیقات ہو رہی ہیں جبکہ وہ کسی حکومتی عہدے پر کبھی بھی فائز نہیں رہے۔ نظرثانی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ عدلات کے زبانی احکامات سلیم کرنا وزیراعظم، وزراءاعلیٰ اور تمام اعلیٰ عہدیداراوں کے لئے ضروری ہوتا ہے لیکن اعلیٰ عدالت کے 7جنوری 2019ءکے حکم پر عمل نہیں کیا گیااور جے آئی ٹی، نیب اور حکومت نے عدالت کا حکم مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ نظرثانی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کے واضح احکامات کے خلاف جے آئی ٹی کے کسی رکن نے جان بوجھ کر جی اائی ٹی کی رپورٹ کے کچھ حصے میڈیا کو لپک کر دئیے جس سے بہت سارے لوگوں کے نام اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور ان کے حقوق کی روگردانی ہوئی۔ عدالت کے پاس جے آئی ٹی کی رپورٹ کو یکسر رد کر دینے کی متعدد وجوہات موجود ہیں۔ درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے اس کیس میں عملدرآمد بینچ بنای اہے جس مپر عدالت کو نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ اس سے تحتقیقات پر اثر پڑ سکتا ہے اس لئے استدعا کی جاتی ہے کہ اس کیس میں عملدرآمد بینچ بنانے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔ نظرثانی اپیل میں درخواست کی گئی ہے کہ اس اپیل کی سماعت کے لئے بڑا بینچ تشکیل دیا جائے۔

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کی سیکریٹری اطلاعات و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کی سیکریٹری اطلاعات و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو عمران خان اور ان کی گسٹاپو پولیس کی نگرانی میں سیاسی اور سماجی لیڈران کی گرفتاریاں ماورائے عدالت قتل، سول رائٹس پر پابندیاں اور آزادی اظہار کو ختم کرنے پر سخت تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں پولیس اصلاحات کرنے کی بجائے نیازی رول لاگو کر دیا گیا اور پاکستان کو پولیس اسٹیٹ بناد یا گیا ہے۔ جس کی واضح مثال ساہیوال کا واقعہ ہے جہاں پولیس نے بیدردی سے معصوم خاندان کا قتل کر دیا۔ پاکستان میں سیاستدانوں کی گرفتاریاں جاری ہیں جن میں قائد حزب اختلاف بھی شامل ہے۔ سندھ میں 172افراد کو ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے، سندھ اور پنجاب میں سینکڑوں افراد کو نیب نے گرفتار کیا ہوا ہے، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بیرون ملک سفر سے روک دیا ہے اور یہ سارے اقدامات اشارہ کرتے ہیں کہ یہ کٹھ پتلی حکومت یا تو بے بس ہے یا پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنا رہی ہے جہاں شہریوں کو بے بس کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی اور سیاسی کارکنوں کو کچل دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کی بھی زباں بندی کر دی گئی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ، جیے سندھ اور بلوچ تحریکوں کے افراد کو غائب کیا جا رہا ہے اور قتل کیا جا رہا ہے اور یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ ملک پر ایک نیازی ڈکٹیٹرشپ مسلط کر دی گئی ہے۔ سماجی کارکنوں جیسا کہ گلالئی اسماعیل اور محترم استاد عمار جان کو صرف احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا جاتا ہے اور یہ نیازی رول میں کی گئی ناجائز گرفتاریوں کی کھلی مثال ہے۔ انسانی حقوق کی وزارت ایک مثال بن کر رہ گئی ہے اور وہ یا تو بالکل ہی نااہل ہے یا اس ظالمانہ نظام کا حصہ بن چکی ہے جہاں قانون سے بالاتر اقدامات کئے جا رہے ۔ اس خوفناک نئے پاکستان میں عاصمہ جہانگری جیسی شخصیتوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ اس مطلق العنانی کے خلاف جدوجہد کرے جس کی وجہ سے آج پاکستان پر جبر کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں اور جہاں آزادی رائے کو کچلا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی توقع کرتی ہے کہ اس موقع پر عدلیہ شہریوں کے بنیادی حقوق جو انہیں آئین میں دئیے گئے ہیں کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری احسان الحق پراچہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے سابق وزیر خزانہ احسان الحق پراچہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ احسان الحق پراچہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی حکومت میں ملک کے وزیر خزانہ رہے ہیں۔ احسان الحق پراچہ کے صاحبزادے ہارون پراچہ سے ان کے والد کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے سابق صدر نے مرحومہ احسان الحق پراچہ کی خدمات کو سراہا۔ آصف علی زرداری نے مرحوم پراچہ کی مغفرت اور ان کے خاندان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے عوامی نیشنل پارٹی

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور کی رہائشگاہ اسلام آباد پر ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے حکومتی عزائم پر تبادلہ خیال کیا۔ سابق صدر نے کہا کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں پارلیمنٹ کے اختیارات پر اتفاق کرتی ہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے عوام مشکلات کا شکار ہوں گے۔ آج ہر مکتبہ فکر اور فرقے سے تعلق رکھنے والے ملکی صورتحال سے فکرمند ہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری سے عوام سخت مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر اے این پی رہنما میاں افتخار حسین، پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر، سید نیر حسین بخاری، عامر فدا پراچا، ڈاکٹر قیوم سومرو اور ہمایوں خان بھی موجود تھے۔