پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کی سیکریٹری اطلاعات و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو عمران خان اور ان کی گسٹاپو پولیس کی نگرانی میں سیاسی اور سماجی لیڈران کی گرفتاریاں ماورائے عدالت قتل، سول رائٹس پر پابندیاں اور آزادی اظہار کو ختم کرنے پر سخت تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں پولیس اصلاحات کرنے کی بجائے نیازی رول لاگو کر دیا گیا اور پاکستان کو پولیس اسٹیٹ بناد یا گیا ہے۔ جس کی واضح مثال ساہیوال کا واقعہ ہے جہاں پولیس نے بیدردی سے معصوم خاندان کا قتل کر دیا۔ پاکستان میں سیاستدانوں کی گرفتاریاں جاری ہیں جن میں قائد حزب اختلاف بھی شامل ہے۔ سندھ میں 172افراد کو ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے، سندھ اور پنجاب میں سینکڑوں افراد کو نیب نے گرفتار کیا ہوا ہے، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بیرون ملک سفر سے روک دیا ہے اور یہ سارے اقدامات اشارہ کرتے ہیں کہ یہ کٹھ پتلی حکومت یا تو بے بس ہے یا پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنا رہی ہے جہاں شہریوں کو بے بس کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی اور سیاسی کارکنوں کو کچل دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کی بھی زباں بندی کر دی گئی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ، جیے سندھ اور بلوچ تحریکوں کے افراد کو غائب کیا جا رہا ہے اور قتل کیا جا رہا ہے اور یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ ملک پر ایک نیازی ڈکٹیٹرشپ مسلط کر دی گئی ہے۔ سماجی کارکنوں جیسا کہ گلالئی اسماعیل اور محترم استاد عمار جان کو صرف احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا جاتا ہے اور یہ نیازی رول میں کی گئی ناجائز گرفتاریوں کی کھلی مثال ہے۔ انسانی حقوق کی وزارت ایک مثال بن کر رہ گئی ہے اور وہ یا تو بالکل ہی نااہل ہے یا اس ظالمانہ نظام کا حصہ بن چکی ہے جہاں قانون سے بالاتر اقدامات کئے جا رہے ۔ اس خوفناک نئے پاکستان میں عاصمہ جہانگری جیسی شخصیتوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ اس مطلق العنانی کے خلاف جدوجہد کرے جس کی وجہ سے آج پاکستان پر جبر کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں اور جہاں آزادی رائے کو کچلا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی توقع کرتی ہے کہ اس موقع پر عدلیہ شہریوں کے بنیادی حقوق جو انہیں آئین میں دئیے گئے ہیں کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔