پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔ یہ اپیل جعلی اکاﺅنٹس کیس میں سپریم کورٹ کے 7جنوری 2019ءکو دیئے گئے فیصلے پر دائر کی گئی ہے۔ 8فروری 2019ءکو دائر کی گئی نظرثانی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ 7جنوری 2019ءکے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور ان کا نام جے آئی ٹی رپورٹ سے نکالا جائے اور ایف آئی اے، نیب یا کسی بھی دیگر تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کسی بھی قسم کی انکوائری یا تحقیقات میں سے بھی ان کا نام خارج کیا جائے۔ نظرثانی کی یہ اپیل ایڈووکیٹ خالد جاوید خان نے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ قاسم میرجت کے ذریعے دائر کی۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو 7جنوری 2019ءکی سماعت کے لئے نہ تو کوئی نوٹس یاسمن جاری کیا گیا۔ 7جنوری 2019ءکو سپریم کورٹ نے کچھ ہدایات دی تھیںجن میں یہ بات بھی شامل تھی کہ بلاول بھٹو زرداری کا نام جے آئی ٹی کی رپورٹ سے نکالا جائےاور یہ ہدایت تمام وکلائ، حکومتی نمائندوں، نیب کے افسران، ایف اائی اے کے افسران، جے آئی ٹی کے اراکین، اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، میڈیا اور عدالت میں موجود تمام دیگر افراد کی موجودگی میں دی گئی تھی۔ یہ بات تمام میڈیا میں رپورٹ بھی ہوئی تھی۔ اس کے باوجودبلاول بھٹو زرداری کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔ اس نظرثانی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ ہدایت کا ذکر نہیں کیا گیا اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس غلطی کو درست کیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کا نام غلط طور پر ای سی ایل مین شامل کیا گیا جسے بعد میں عدالت نے نکلوا دیا اور نہ ہی ان کے خلاف اس کیس مین کسی قسم کی انکوائری یا تحقیقات ہو سکتی ہیں۔ نظرثانی اپیل میں عدالت سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ سوﺅموٹو کے اختیارکی حد کیا ہے اور کیا اس کے استعمال سے کسی فرد کے بنیادی حقوق تو متاثر نہیں ہوتے۔ پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی میں ایف آئی اے کے ڈی جی کی سفارش پر ارکان شامل کئے گئے ہیں جبکہ ڈی جی ایف آئی اے پر انہیں شعدید تحفظات ہیں۔ کیا جے آئی ٹی اس صورت میں قانون کے مطابق بنائی گئی ہے؟ بلاول بھٹو زرداری کو نہیں سنا گیا اور کیا یہ انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے کہ انہیں سے بغیر عدالت نے حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے متعلق اپنے حکم نامے کے پیراگراف 37(v) میں خدشات ظاہر کئے ہیں۔ اس صورت میں کیا اپیل کنندہ کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوئے؟ جن کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 4 اور 10(A) میں دی گئی ہے۔ کیا عدالت کا یہ حکم کہ تحقیقات اور مقدمہ کراچی کی بجائے اسلام آباد /راولپنڈی میں ہو نیب آرڈیننس 1999ءکے مطابق ہے اور ایسے کیسوں میں territorial jurisdiction کے مطابق ہے۔ نظرثانی اپیل میں کہا گیا ہے کہ عدلات نے یہ کیس متعدد مرتبہ سنا اور 5.9.18 کو عدلات نے جے آئی ٹی بنائی۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ دروخواست گزار کو کبھی بھی کوئی نوٹس یا سمن جاری نہیں کیا گیا۔ بعد میں جے آئی ٹی کی جانب سے درخواست گزار کو ایک سوالنامہ موصول ہوا۔ درخواست گزار عدالت کے سامنے اپنے بہت سارے خدشات جے آئی ٹی اور اس کی تحقیقات کے بارے میں پیش کرنا چاہتا تھا اور متعدد قانون اور آئینی سوالات اٹھانا چاہتا تھا کیونکہ درخواست گزار کبھی بھی جعلی اکاﺅنٹس میں کسی بھی طرح ملوث نہیں رہا اور نہ ہی کسی قسم کی غیرقانونی سرگرمی کا مرتکب ہوا۔ یہ قانون کا صدیوں پرانا اصول ہے اور آئین کے آرٹیکل 4 اور 13 میں بھی درج ہے کہ بغیر کسی ٹھوس اور کافی ثبوتوں کے کسی کے خلاف بھی کوئی تحقیقات یا انکوائری نہیں ہو سکتی۔ جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے کیس میں ایہ اصول الٹا کر دی اگیا ہے اور ان کے خلاف بغیر ٹھوس اور کافی ثبوت کے تحقیقات ہو رہی ہیں جبکہ وہ کسی حکومتی عہدے پر کبھی بھی فائز نہیں رہے۔ نظرثانی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ عدلات کے زبانی احکامات سلیم کرنا وزیراعظم، وزراءاعلیٰ اور تمام اعلیٰ عہدیداراوں کے لئے ضروری ہوتا ہے لیکن اعلیٰ عدالت کے 7جنوری 2019ءکے حکم پر عمل نہیں کیا گیااور جے آئی ٹی، نیب اور حکومت نے عدالت کا حکم مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ نظرثانی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کے واضح احکامات کے خلاف جے آئی ٹی کے کسی رکن نے جان بوجھ کر جی اائی ٹی کی رپورٹ کے کچھ حصے میڈیا کو لپک کر دئیے جس سے بہت سارے لوگوں کے نام اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور ان کے حقوق کی روگردانی ہوئی۔ عدالت کے پاس جے آئی ٹی کی رپورٹ کو یکسر رد کر دینے کی متعدد وجوہات موجود ہیں۔ درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے اس کیس میں عملدرآمد بینچ بنای اہے جس مپر عدالت کو نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ اس سے تحتقیقات پر اثر پڑ سکتا ہے اس لئے استدعا کی جاتی ہے کہ اس کیس میں عملدرآمد بینچ بنانے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔ نظرثانی اپیل میں درخواست کی گئی ہے کہ اس اپیل کی سماعت کے لئے بڑا بینچ تشکیل دیا جائے۔