چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی کے اکثر لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ہمیں سپریم کورٹ سے کبھی انصاف نہیں ملا مگر میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا ضروری تھا۔ ریلیف ملے یا نہ ملے لیکن تاریخ کے لئے میں اپنے اعتراضات ریکارڈ پرلاﺅں۔ میونخ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ مجھے سنے بغیر میرے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ مجھے ابھی تک موقع ہی نہیں دیا گیا کہ میں اپنا موقف بیان کر سکوں۔ میرے ساتھ یہ ناانصافی ہے۔ مجھے موقف پیش کرنے کے لئے موقع ملنا چاہیے تھا۔ آرٹیکل 10(a) ملک کے ہر شہری کو فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ میرے کیس میں بے شمار ایسی مثالیں ہیں جب مجھے فیئرٹرائل کے حق سے محروم رکھا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بے نامی اکاﺅنٹس کیس کی تحقیقات میں سست روی کس طرح انسانی حقوق یا ازخود نوٹس کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کیس ازخود نوٹس کے زمرے میں آتا بھی ہے تو بھی سوال یہ ہے کہ اسے سست روی کا شکار کیس کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایف آئی آر درج تھی، تحقیقات جاری تھیں، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ موجود تھی اور کیس بینکنگ کورٹ میں زیر سماعت تھا اس صورتحال میں کیس کو سست روی کا شکار کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عام انتخابات کے دوران اس پور ازخود نوٹس لے کر بہت بڑا معاملہ بنا دیا گیا۔ میں اعلیٰ عدلیہ سے گزارش کرتا ہوں کہ میری پٹیشن پر لارجر بینچ بنایا جائے تاکہ آئینی سوالات کا جواب مل سکے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ معزز چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے ایک فرد سے پوچھا تھا کہ میرا نام کس کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔ چیف جسٹس صاحب اس سوال کا جواب ہمیں نہیں ملا جو آرڈر چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں سنایا اور پورے ملک نے سنا وہ تحریری حکمنامے میں شامل نہیں۔ جب فیصلہ سنایا جا رہا تھا تو اس وقت چیف جسٹس صاحب کی آبزرویشن غیرمعمولی تھیں۔ آیا یہ غلطی کلرک سے سرزد ہوئی ہے یا اس کا جواز کیا ہے؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ تضاد بطور ایک ادارہ عدلیہ کے تقدس کو مجروح کرتا ہے۔ یہ انصاف نہیں کہ ایک چیف جسٹس کسی کو بھری عدالت میں کہے کہ آپ بے گناہ ہو لیکن فیصلے میں سزا سنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تضاد بطور ایک ادارہ عدلیہ کے تقدس کو مجروح کرتا ہے اگر زبانی حکم اور تحریری حکم میں اتنا تضاد آنا تھا تو ہمیں فیئر ٹرائل کے تحت موقف پیش کرنے کا موقع دیتے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ ہمارے خلاف فیصلہ سناتے تو بھی ہم قبول کرتے لیکن اس طریقے سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ میرا فیئرٹرائل کا حق بھی چھینا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ بھی خلاف قانون فیصلہ دیا گیا کہ ہمارے خلاف مقدمہ راولپنڈی میں چلایا جائے گا۔ جیوریسڈیکشن کے مطابق یہ کیس سندھ میں چلایا جانا ہے۔ بھٹوز کے لئے ہمیشہ راولپنڈی میں کربلا برپا کیا جاتا ہے، ہم تیار ہیں۔ میرا یہ بھی اعتراض ہے کہ یہ کیس نیب کا کیس کیسے بنتا ہے؟ سپریم کورٹ میں داخل نظرثانی اپیل میرے لئے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ پارٹی کے اکثر لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ہمیں سپریم کورٹ سے کبھی انصاف نہیں ملا مگر میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا ضروری تھا، ریلیف ملے یا نہ ملے لیکن تاریخ کے لئے میں اپنے اعتراضات ریکارڈ کروا رہا ہوں۔