پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنتیرینز کے سیکریٹر جنرل فرحت اللہ بابر نے بے نامی اکاﺅنٹس کیس میں سپریم کورٹ میں دائر کردہ نظرثانی پٹیشنز کے مسترد کئے جانے پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے سوموٹو لینے کے اختیار کی حدود متعین کی جائیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پٹیشن میں اٹھائے گئے نکات خاص طور پر سوموٹو استعمال کرنے کے اختیارات بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس کی حدود متعین کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے جرمنی کے شہر میونخ میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے انٹرویو کا بھی ذکر کیا جس میں پارٹی چیئرمین نے یہ بات کی ہے کہ انہیں کسی بھی عدالت میں اپنا موقف بیان کرنے کا موقع نہیں دیا گیا جو کہ قانون میں دئیے گئے آرٹیکل 10(a) کی نفی ہے کیونکہ یہ آرٹیکل ایک منصفانہ ٹرائل کی گارنٹی دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ سوموٹو نوٹس اس بنیاد پر لیا گیا تھا کہ تحقیقات میں سستی تھی۔ بلاول بھٹوزرداری نے ایک نکتہ اٹھایا تھاکہ کیا کسی سست روی پر سوموٹو نوٹس لیا جا سکتا ہے؟ ایف آئی آر درج ہوگئی تھی اور تحقیقات جاری تھی اور ابتدائی رپورٹ بھی مکمل ہو چکی تھی اور مقدمہ بینکنگ کورٹ میں چل رہا تھا اسی لئے نظرثانی پٹیشن میں سپریم کورٹ میں استدعا کی گئی تھی کہ سوموٹو لینے کے اختیارات کے حدود کے تعین کے لئے بڑا بینچ تشکیل دیا جائے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے جس کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی۔ جب سپریم کورٹ سوموٹو نوٹس کے ذریعے فیصلہ کرتی ہے تو اس فیصلے کے خلاف متاثرہ فرد کو اپیل کرنے کے لئے کوئی دوسرا فورم میسر نہیں ہوتا جو کہ انصاف کے بنیادی اصول کے خلاف اس لئے یہ بات زیادہ ضروری ہوگئی ہے کہ سوموٹو کے اختیارات اور طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی عدالت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے چاہے وہ اس سے اتفاق نہ کرتی ہو اس لئے پارٹی آرٹیکل 184(3) پر پارلیمنٹ میں بحث کے لئے کام کرنا شروع کرے گی تاکہ سوموٹو کے اختیارات کا تعین کرنے کے لئے قانون سازی کی جا سکے۔