لاڑکانہ / کراچی (03 اپریل 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے بعد ملکی تعمیر و قوم سازی کے عمل میں قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کردار وسیع و بے مثال ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت کو 40 برس گذرنے کے باوجود وہ نہ فقط عوام کی دلوں میں زندہ و محترم ہیں، بلکہ ان پر ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف عوامی غم و غصہ آج بھی ایسا ہی ہے جیسے یہ ابھی چند لمحے پہلے پیش آنے والا سانحہ ہو۔

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم و پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کے 40 ویں یومِ شہادت کے موقعے پر جاری کردہ اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف قائد اعظم کے ویژن و جدوجہد نے تاریخ کا رخ موڑ کر ایک نئی قوم کو جنم دیا تو قائدعوام کے فکر و سیاست نے عوامی شعور کا ایک ایسا انقلاب بپا کیا کہ رجعت پرست، شاوَنسٹ اور جمہور دشمن قوتیں اب پاکستان میں اپنی مرضی کے نقاب نہیں لگا سکتیں؛ اور ہزار سازشوں و لاکھ ہتھکنڈوں کے باوجود جمہوری و انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کے لیئے اٹھنے والی آوازوں کے ہاتھوں انہیں بار بار سیاسی مار کھانی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی، سفارتی، معاشی اور عالمی محاذوں پر بیش بہا اور بیشمار خدمات و کارنامے محبِ وطن پاکستانیوں کے لیئے باعثِ فخر اور اہلِ نظر کے لیئے دعوتِ فکر و تحقیق ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 1973ع کا متفقہ دستور دے کر قائدِ عوام نے وفاق کی تمام اکائیوں، طبقات، گروہوں اور کمیونٹیز کو ایک اٹوٹ اتحاد کی شکل دے دی، کیونکہ وہ بنیادی طور اجتماعی عمل و ترقی میں یقین رکھنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ اسلامی سربراہی کانفرنس اور پاک – چین دوستی کی بنیاد رکھنے کے پیچھے بھی ان کی شخصیت کا یہی پہلو بنیادی محرک تھا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کی صورت میں پاکستان کو پوری امہ کی قیادت کا شرف حاصل ہوا تو پاک – چین دوستی کی صورت دو عظیم اقوام دو جسم ایک جان بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین بھٹو نے ایک طرف ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی بنیاد رکھی تو آزادی کے ثمرات کو ملک کے محنت کش و پسماندہ طبقات تک پہنچانے کے لیئے عوام دوست انقلابی پالیسیاں لاگو کیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں بے گھر افراد کو اپنا سائبان، بے زمین کسانوں کو زرعی زمین اور بے روزگار نوجوان کو پاکستان خواہ بیرونِ ملک روزگار کے موقع ملے۔ معیشت کے مستحکم ہونے کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی کا ہوائی اڈہ بھٹو دورِ حکومت میں ایشیا کا مصروف ترین ایئرپورٹ تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج کا دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قائد عوام کا خونِ ناحق آج بھی انصاف کا طالب ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بھیجا گیا صدارتی ریفرنس تاحال افسوسناک سست روی کا شکار ہے۔ بارہا یادہانی اور گذارشات کے باوجود انصاف ہونے کی امید دم توڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کی عدم پاسداری ملک کے تمام بڑے مسائل کی ماں اور نظریئہ ضرورت ان کی نانی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج کی صورتحال ہر پاکستانی سے تقاضا کرتی ہے کہ ملک میں پارلیمان بالادستی اور دستور و قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیئے آگے بڑھیں۔ یہ ہی فکرِ بھٹو ہے۔