ضیائی آمریت کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے بھٹو شہید کی محبت میں بھٹو شہید کے نظریاتی جانشینوں نے قیدیں کاٹیں ،
شاہی قلع کی سزائیں بھگتیں ، پھانسیوں پر چڑھے اور ان 11سالوں میں جمہوری جدوجہد کے جرم میں 50ہزار کوڑے مارے گئے،
اور ہر کاڑے پر جئے بھٹو کا نعرہ گونج اُٹھا اور آج بھی اپنے جسموں پر ان کوڑوں کے نشان سنبھالے ، ہم پھر نئی جدوجہد کے لئے میدان میں اترنے کو تیار ہیں۔

نئے پاکستان کا ناٹک کرنے والو۔۔

پہلے پرانے پاکستان کی بنیادیں سمجھو۔
آج تم اقتدار کے جن ایوانوں میں بیٹھ کر تکبر کی علامت بن چکے ہو، اس نظام کی بنیادوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کا خون شامل ہے۔
اس وفاقی پارلمانی جمہوری نظام اور اس کے قیام میں جمہوری قوتوں کی بے مثال جدوجہد شامل ہے،
اور ہم تمہیں اس جدوجہد کو، اس قربانی کو ضایع نہیں کرنے دیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے جس آئین کے تحت یہ نظام تشکیل دیا، اگر اس آئین پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تو یاد رکھو تمہارا حشر بھی ان آمروں جیسا ہو گا، جنہوں نے عوامی راج کو للکارنے کی کوشش کی تھی۔

ساتھیو۔۔۔

آج یہ Selected وزیرِاعظم بھٹو شہید کا آئین ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
گھوٹکی آکر کہتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم سے وفاق دیوالیہ ہو گیا ہے۔
اس کی اصلیت کو پہچانو، اس کے ارد گرد کے لوگوں کو پہچانو، ان کی شکلیں پہچانو۔
یہ ہیں وہ لوگ جو بھٹو شہید کے آئین کے دشمن ہیں ۔
آپ کے حقوق کے دشمن ہیں۔
اس بے نامی وزیرِ اعظم کو یہ تک معلوم نہیں کہ مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی علامت ہیں۔
ہم بھٹو کے آئین کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔
ہم اس ملک کو واپس One Unitنہیں ہونے دیں گے۔
تم کوشش کر کے دیکھ لو ، ہم تمہارے سامنے دیوار کی طرح کھڑے ہوں گے۔
بھٹو شہید نے کہا تھا کہ میں One Unitکو ایک لات مار کر ختم کردوں گا۔
میں آج تمہیں Warnکر رہا ہوں تم اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کی کوشش کرو One Unitپھر سے قائم کو میں تمہاری حکومت کو ایک لات مار کر گرا دوں گا۔

ساتھیو۔۔

خان گھوٹکی آکر کہتا ہے، خان سندھ کا نمک کھا کر کہتا ہے کہ اُسے سندھ کی ضرورت نہیں۔
تُجھے سندھ کی ضرورت نہیں ؟
تم کون ہو کٹھ پُتلی، سندھ کو تمہاری ضرورت نہیں۔
ہم جانتے ہیں اُسے سندھ نہیں سندھ کے وسائل چاہیے۔
اُسے سندھ نہیں سندھ کی گیس چاہیے۔
اُسے سندھ نہیں سندھ کا پانی چاہیے۔
وہ آج بھی سندھ کے 120عرب پر سانپ بن کر بیٹھا ہے۔
یہ پیسے آپ کے پیسے ہیں، یہ آپ کے Taxesکے پیسے ہیں ۔
یہ آپ کی خون پسینے کی کمائی کے پیسے ہیں، جس پر خان ڈاکا ڈال کر بیٹھا ہے۔

زرا سوچییے 120عرب سے ہم کیا کر سکتے تھے؟
120عرب سے ہم کتنے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دے سکتے تھے۔
120عرب سے ہم کتنے اسکول تعمیر کر سکتے تھے۔
120عرب سے ہم کتنے ہسپتال کھڑے کر سکتے تھے۔
اور یہ تو ہیں ہمارے Dues، اس کے ساتھ اب وہ NFC Award نہ دے کر Award میں کٹوتی کر کہ صوبوں کے حقوق ہتھیانہ چاہتا ہے۔
سندھ کی عوام کے حقوق پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔پنجاب کی عوام کا حق مارنا چاہتا ہے۔
بلوچستان کی عوام کو محروم رکھنا چاہتا ہے۔ خیبرپختونخواہ کے خزانوں پر ڈاکے ڈالنا چاہتا ہے۔
یہ سارے پیسے صوبوں سے چھین کر اسلام آباد کو دینا چاہتا ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ہم نے چاروں صوبوں کو مضبوط کیا اور ان کے وسائل پر ان کو مالکی دی۔
صوبوں کی عوام اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرتی ہے، جس سے وفاق مضبوط ہوتا ہے۔
لیکن اس بے نامی وزیرِاعظم کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔

ساتھیو۔۔۔

PTI کی حکومت نے جھوٹ کے سوائے کوئی کام ایمانداری سے نہیں کیا۔
Election سے پہلے دکھائے گئے ، سُنہرے خوابوں کے بر عکس PTI حکومت اپنے ساتھ ایک مہنگائی کی ایک سونامی لائی ہے۔
ُPetrol کی قیمت میں بار بار اضافہ کر رہے ہیں ، بجلی کی قیمت بڑہاتے ہیں ، مگر بجلی دیتے نہیں ہیں۔
یہاں تک کہ دوائی کی قیمت میں بھی اضافہ!
مطلب آپ غریب ہیں اور بیمار ہیں تو صحت کا انصاف یہ کہتا ہے کہ آپ مر جائیں۔
آٹا ، دال، چاول ہر چیز عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہے۔
اور خرید بھی لے تو پکائے کیسے؟
اس بے درد حکومت میں گیس کی قیمت آسمان چُھو رہی ہے اور اوپر سے گیس کی Load Sheddingبھی۔
گیس کا وفاقی منسٹر کہتا ہے کہ مجھے اپنے محکمے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور عوام ہے جو بیس بیس ہزار کے گیس کے بل دیکھ کر بے حال ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ کہتا ہے کہ ان کی معاشی Policiesکی وجہ سے عوام کی چیخیں نکلیں گی پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ اسے Agricultureکا پتا ہی نہیں ؟
میں پوچھتا ہوں یہ وزیر ہے یا معاشی دہشتگرد؟
یہ معاشی قتل کر رہا ہے۔
کسانوں کامعاشی قتل۔
مزدوروں کامعاشی قتل۔
بے روزگار نوجوانوں کا معاشی قتل۔
بزرگ Pensionersکا معاشی قتل۔

خان صاحب ۔۔

آپ کی حکومت چوری اور سینہ زوری کے علاوہ کچھ نہیں جانتی۔
آپ غداری کے فتوے تو دے سکتے ہیں مگر لوگوں کو دو وقت کی روٹی نہیں۔
کہاں گئے آپ کے پچاس لاکھ گھر؟
کہاں گئی آپ کی ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ؟
نوکری دینا تو دور آپ کی حکومت لوگوں سے ان کا روزگار چھین رہی ہے۔
Encroachment کے نام پر لوگوں کو بے روزگار کیا جارہا ہے۔
اس حکومت سے نہ معیشت چل سکتی ہے اور نہ ہی ملک۔
کوئی ان کو یہ سمجھائے معیشت چندے سے نہیں ،سیاست گالی سے نہیں ،حکومت چابی سے نہیں اور ملک جادو سے نہیں چلتا اور جب ہم حکومت کو اس کی کمزوریاں اس کے جھوٹ ،اس کی منافقت ،اس کی دھاندلی آئینے میں دکھاتے ہیں ان کو ،ان کا اصل چہرا دکھاتے ہیں تو ہمیں ڈرانے کے لیے NABگردی شروع کی جاتی ہے ۔
ساتھیو!

آپ نے بے نامی Accountsکے حوالے سے بہت سے قصے سنے ہونگے اور یہ صرف قصے ہی ہیں ،صرف باتیں ہیں ،صرف الزامات ہیں اور وہ بھی جھوٹے ۔
یہ صرف کردار کشی ہے یہ احتساب نہیں انتقام ہے ۔
یہ انصاف نہیں سیاسی انتقام ہے ۔
یہ احتساب نہیں Political Engineeringہے ۔
(6)مہینے سے کیس چلنے کے باوجود مجھے تو کسی کورٹ کے سامنے اپنا موقف دینے کا موقع نہیں دیا گیا ۔
مجھ پر وہ الزام ہیں جب کہ میں ایک سال کا تھا،اور معزز عدالت بھی یہ جانتی ہے کے Casesجھوٹے ہیں ۔
تبھی تو اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس نے خود کہا کے میرا نام اس رپورٹ میں غلط شامل کیا گیا ۔
اور JITکو حکم دیا کے میرا نام اس رپورٹ سے نکالا جائے ۔
لیکن تحریری فیصلے میں اس کا کوئی ذکر نہیں؟
حتیٰ کے سابق فاضل چیف جسٹس نے ISIکے رکن سے سختی سے پوچھا کے کس کے کہنے پر اور Pressureمیں بلاول بھٹو زرداری کا نام ڈالا؟
مگر افسوس کے درجنوں وکلاء اور میڈیا کی موجودگی میں سنایا گیا فیصلہ بدل دیا گیا ۔
کھلی عدالت میں سنایا گیا فیصلہ کچھ اور تھا اور جب تحریری فیصلہ آیا تو کچھ اور ؟
اور پھر جب آخر کار پہلی بار مجھے عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا تو مجھے صرف (3)منٹ سنا جاتا ہے ۔
اور بڑی آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے کے ایسا تو کہا ہی نہیں گیا !
میں اپنے قابلِ احترام جج صاحبان سے صرف اتنی گزارش کرونگا کے اس دن کی Transcriptsمنگوالیں Tapesسن لیں آپ کو خود حقیقت کا پتا چل جائے گا ۔
دوسری بات یہ کے ،یہ کیس184 (3) کے تحت انسانی حقوق کا کیس کیسے بن گیا ؟
معزز سپریم کورٹ کی وہ طاقت کو صرف اور صرف Question of Lawاور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے۔
حیران کن طور پر اس طاقت کو Electionsکے دوران اس کیس کو اٹھانے کے لیے کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟
یہ مقدمہ سپریم کورٹ نے اس وجہ سے اٹھایا کیوں کے سپریم کورٹ کے مطابق یہ سست روی کا شکار تھا لیکن حقیقت یہ ہے کے یہ کیس کراچی کی Banking Courtمیں پہلے سے چل رہا تھا ۔
اور FIAاس میں ابتدائی چالان بھی پیش کر چکا تھا تو سست روی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کے سستی تھی تو اس ملک کی عدالتوں میں لاکھوں مقدموں میں سستی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ؟
کیا شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کیس چالیس سال بعد بھی سست روی کا شکار نہیں؟
کیا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا کیس سست روی کا شکار نہیں ؟
کیا شہید اکبر بگٹی کا کیس سست روی کا شکار نہیں؟
کیا (12)مئی کا کیس سست روی کا شکار نہیں ؟
کیا اصغر خان کیس سست روی کا شکار نہیں ؟
کیا آئین ٹوڑنے پر غدار مشرف کے خلاف مقدمہ سست روی کا شکار نہیں ؟
کیا Missing Personsکے ہزاروں مقدمات سست روی کا شکار نہیں ؟
کیا یہ سب انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں؟
کیا (2018)کے الیکشن میں کی گئی تاریخ کی بدترین دھاندلی اور ووٹ کی چوری ،تین دن تک Election Resultروکنا ،ملک بھر کے Polling Stationsسے Polling Agentsکو باہر پھیکنا ،RTSکو Failکرونا ،Level Playing Field نہ ہونا ،میڈیا کو Blackoutکروانا ،Form-45غایب کروانا ،کلعدم تنظیموں کو Mainstreeming کے نام پر Electionلڑوانا سیاسی طور پر امید واروں کو نا اہل کرنا ،Political Engineeringسے بے نامی وزیراعظم کو اس ملک پر مسلط کرنا ،کیا یہ سب انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟
اور پھر ایک عجیب بات ہمارے کیس کو پنڈی میں Shiftکر دیا ہے آخر کیا وجہ ہے کے اس کیس کو پنڈی میں چلانے کا حکم دیا گیا ؟
جب معاملہ سندھ کا ہے جب تحقیقات سندھ میں ہورہی ہیں ،جب فریق سندھ سے ہیں تو پھر کیس پنڈی میں کیوں؟
جب کے قانون میں اس بات کی کوئی گنجائش ہی نہیں ۔
کیا ایک بار پھر پنڈی میں ہمارے لیے کربلا برپا کیا جارہا ہے ؟
انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ہر کیس میں JITکیوں نہیں بنتی ؟
اگر میرے ناشتے پر JITبن سکتی ہے تو دہشتگردی پر کیوں نہیں؟
تاریخی دھاندلی پر کیوں نہیں؟
ووٹ کی چوری پر کیوں نہیں؟
ساتھیو!
Custodian of the Houseکو Speakerسندھ اسمبلی کو ،وہ اسمبلی جس نے قردادِ پاکستان پاس کی جھوٹے کیس میں اسلام آباد سے گرفتار کیا جاتا ہے ۔
اس کی بیوی اور بچوں کو 8گھنٹے یرغمال بنا کر چادر اور چار دیواری کو پامال کرتے ہیں ۔
ہمارے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے MPAsکے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
وہ نہیں چاہتے کے با ر بار الیکشن جیتنے والے MPAsعوام کی خدمت کریں ۔
عوامی نمائدوں کو ان کا حق ان کی ضمانت نہیں مل رہی اور دہشتگردوں کے لیے NRO؟
میں یہ نہیں کہتا کے احتساب مت کرو ،میں یہ بھی نہیں کہتا کے میرا احتساب مت کرو ۔
میں صرف یہ کہتا ہوں کے احتساب کے نام پر انتقام مت لو۔
میں کہتا ہوں احتساب کے نام پر قوم کو بے وقوف مت بناؤ ۔
میں کہتاہوں احتساب کے نام پر Political Engineeringمت کرو۔
میں کہتا ہوں احتساب کے نام پر اپنے خود کے گناہ مت چھپاؤ ۔
اور میری یہ باتیں اس حکومت کو برداشت نہیں ہوتیں ۔
جب میں پوچھتا ہوں کے National Action Plan پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟
جب میں پوچھتا ہوں کے وفاقی وزیروں کے کلعدم تنظیموں سے رابطے اور رشتے کیوں ہیں ؟
جب میں پوچھتا ہوں کے کیوں سیاستدانوں کو جیلوں میں اور دہشتگردوں کو Rest Housesمیں رکھا جاتا ہے ؟
تو مجھے ملک دشمن کرار دینے کی تحریک شروع کی جاتی ہے ۔
میں پوچھتا ہوں کیا ملک دشمن میں ہوں یا وہ وزیر ہیں جو دہشتگردوں کو گود میں بٹھا کر بیٹھے میں ؟
میں نے ان 3وزیروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا مگر عمران خان نے ان 3وزیروں کو تو نہیں نکالا الٹا ایک ایسے شخص کو وزیر بنا دیا جس پر Daniel Pearlسے لیکر بی بی شہید تک دہشتگردی کی سازشوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے ۔
یہ حکومت یہ سب کر کے کیا پیغام دینا چاہتی ہے ؟
یہ کس قسم کا بزدل وزیراعظم ہے جو نہ مودی کے خلاف بولتا ہے کو نہ کلعدم تنظیموں کے خلاف بولتا ہے جو نہ ہی دہشتگردوں کے خلاف بولتا ہے ،مگر اپوزیشن کے لیے شیر بنا پھرتا ہے ۔
ساتھیو!
پاکستا ن پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انصاف کی امید رکھی تو عدالت سے رکھی ،بے شک ہمیں بارہہ عدالت سے مایوسی ملی ۔
ہم آج تک شہید ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کا انصاف مانگتے ہیں ۔
ہم آج تک شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا انصاف مانگتے ہیں۔
ہم آج تک اپنے بہائے ہوئے خون کا حساب مانگتے ہیں ۔
آخر ہمیں عدالت سے انصاف کب ملے گا ؟
ہمارے خلاف کیے گئے جرائم کا احتساب کب ہوگا؟
انصاف کا سلسلہ تب تک شروع نہیں ہو سکتا جب تک بھٹو شہید کے عدالتی قتل کا انصاف نہیں ملے گا ۔
ہمارے نظامِ عدل کو اپنے اندر جھانکنا ہوگا اپنی اصلاح کرنا ہوگی ،اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہوگا۔
بھٹو شہید کو انصاف ملنے سے ہی انصاف کی ابتدا ہوگی ۔
مگر ساتھیو!
اتنی مایوسی کے باوجود ،اتنے انتظار کے باوجود، اتنی برداشت کے باوجود میں آج بھی پر امید ہوں ،کے یہ ہی عدالتیں ہمیں انصاف دینگی۔
ساتھیو!
آج پھر ہمیں بھٹو شہید کا نظریا گھر گھر لے جانے کی ضرورت ہے ۔
بی بی شہید کی سیاسی سوچ گلی گلی تک پھیلانے کی ضرورت ہے ۔
نوجوانوں کو یہ بتانیں کی ضرورت ہے کے بھٹو شہید کی قیادت میں آنے والا پر امن انقلاب ہماری میراث ہے ۔
ہم اس صفر کو جاری رکھیں گے ،وہ جدوجہد جس کا آغاز بھٹو شہید نے کیا اور بی بی شہید نے آگے بڑھایا ۔
انشااللہ ہم اس کو جاری رکھیں گے مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کے آج بھی بھٹو شہید سے ڈرتے ہیں اس کی سوچ سے ڈرتے ہیں ،اس کے نظریے سے ڈرتے ہیں ،اس کی فکر سے ڈرتے ہیں ،اس کی ذکر سے ڈرتے ہیں ۔
یہ اتنا ڈرتے ہیں کے بی بی شہید کا نام بھی انہیں برداشت نہیں ۔
BISPسے بی بی شہید کا نام نکالنے کی سازش ہو رہی ہے ،در اصل یہ اس پروگرام کو ہی بند کرنا چاہتے ہیں ۔
میں یہ بتا دوں کے بے نظیر بھٹو صرف ایک نام نہیں ۔بے نظیر بھٹو ایک عزم ہے ۔
یہ عزم ہے غریبوں کی مالکی کا ،یہ عزم ہے عورتوں کی فلاح کا ،یہ عزم ہے پاکستان کی ترقی کا ۔
اس کو مٹا سکو یہ تم میں دم نہیں ۔
ساتھیو!
بھٹو شہید نے بے آئین سرزمین کو آئین دیا ،جمہوری حقوق دیے ،عوام کو آواز دی ،ہاری کو طاقت دی ،مزدور جو قوت دی ،مظلوم کو زبان دی ،عوام کو حقوق دیے ۔
اور آج یہ تبدیلی سرکار آپ کے حقوق چھیننا چاہتی ہے ،سوچ کی آزادی چھیننا چاہتی ہے ل،جمہوریت چھیننا چاہتی ہے ۔
بھٹو شہید کا دیا ہوا آئین ختم کرنا چاہتے ہیں مگر ہم یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔
یہ کیا سمجھتے ہیں کے NABگردی کے ذریعے ہمیں ڈرا سکتے ہیں ،یہ کیا سمجھتے ہیں کے بھٹو کا نواسا جھک جائیگا ؟
یہ کیا سمجھتے ہیں بھی بی بیٹا ڈر جائیگا ؟
یہ کیا سمجھتے ہیں کیا پاکستان پیپلز پارٹی کا جیالا بھاگ جائیگا ؟
ہم ظلم کی ہرطاقت سے ٹکرائینگے ۔
جاؤ ، اور ضیاء کی قبر دیکھو ۔
آؤ اور بھٹو شہید کا مزار بھی دیکھو ۔
منہ چھپاتا ہوا مشرف بھی دیکھواور بی بی شہید کی دلیری دیکھو۔
میں عوام سے کہتا ہوں آپ یقین رکھیں میں آپ کے ساتھ ہوں اور اپنی آخری سانس تک آپ کے ساتھ رہوں گا۔
ہم ساتھ مل کر جدوجہد کرینگے ،ہم ساتھ مل کر لڑینگے ،اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نا مکمل Missionپورا کرینگے ۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا ادھورا Missionپورا کرینگے ۔
میں شہیدوں کی اس سر زمین پر کھڑا ہو کر آپ سے وعدہ کرتا ہوں میری زندگی آپ کی امانت ہے اور اس زندگی میں آپ کا بھائی ،آپ کا بیٹا،آپ کا دوست کبھی آپ کو مایوس نہیں کریگا ۔
ہم نے اس مٹی پر وارے بھٹو ہیں۔
تتلی، جگنو، چاند، ستارے بھٹو ہیں،
جتنے ہیں کردار ہمارے بھٹو ہیں۔

سب سے آگے ہو، یا سب سے پیچھے ہو،
جس ترتیب میں ہم ہیں ، سارے بھٹو ہیں۔

دکھ کے موسم میں، یا سکھ کے عالم میں،
ہم نے جتنے نام پکارے، بھٹو ہیں۔

دار پہ جو خوشبو ہے، ایک لہو کی ہے،
سولی سے جو پھول اتارے، بھٹو ہیں۔

آج اگر دو چار قدم تم آگے ہو،
یہ مت سمجھو تم سے ہارے بھٹو ہیں۔

ایک دن مٹی سونا بن کر چمکے گی،
ہم نے اس مٹی پر وارے بھٹو ہیں۔

سچ مچ میں وہ تارے توڑ کر لائے تھے،
اسی لئے تو آنکھ کے تارے بھٹو ہیں۔

اس قامت پر ایک دنیا قربان ہوئی،
یہ مت کہنا صرف تمہارے بھٹو ہیں۔

ایک طرف یلگار یزیدی ٹولے کی،
ایک علم بردار ہمارے بھٹو ہیں۔

جان تو آنی جانے ہے پر یاد رہے،
ہم کو اپنی جان سے پیارے بھٹو ہیں۔