ترجمان چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور حزب اختلاف کی دیگر پارٹیوں نے فیصلہ کیا تھا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور بجٹ کو بہت توجہ کے ساتھ سنیں گے۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا تھا کہ توقع تھی کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی جانب سے تھوپا گیا ہوگا اور اس کے علاوہ کٹھ پتلی حکومت نے حزب اختلاف کے خلاف ظلم اور جبر کا بازار گرم کر رکھا ہے اور اسے احتساب کا نام دیا جا رہا ہے۔ چیئرمین پی پی پی تو اس بات پر بھی تیار تھے کہ اگر بجٹ عوام دوست ہوا اور اس بجٹ سے مہنگائی، افراط زر اور بیروزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کو ریلیف ملے گا تو وہ اسے سراہیں گے۔ حزب اختلاف کے اراکین کو کو بجٹ کی کاپیاں نہیں دی گئیں اس لئے چیئرمین پی پی پی کو وہیں بیٹھ کر بجٹ کی پوری تقریر سننا پڑی اور جب ٹیکس لگانے کی باتوں کا مرحلہ آیا تو وہ یہ سن کر حیران اور پریشان ہوگئے کہ بجائے ٹیکسوں کی سونامی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے ٹیکسوں کا ایک اورنیا سونامی غریب عوام پر مسلط کر دیا گیا۔ ان ٹیکسوں کے بعد اب یہ مشکل ہوگیا ہے کہ پاکستان میں تجارت کی جا سکے اور اس کے نتیجے میں افراط زر اور بیروزگاری کا طوفان آئے گا۔ جس بات کا سب سے زیادہ ڈر تھا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی جانب سے ڈکٹیٹ کیا گیا بجٹ ہوگا وہ درست ثابت ہوا۔ ترجمان بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے یاد دلایا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر مہیا کرے گی لیکن ان ٹیکسوں کے بعد یہ وعدہ پورا کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے حال ہی میں اسمبلی کی خواتین اراکین پر حملے اور تشدد کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اس کے علاوہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے دو اراکین قومی اسمبلی، بینظیرآباد سندھ کے ایک رکن قومی اسمبلی اور لاہور سے بھی ایک رکن قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے گئے۔ ان اراکین اسمبلی کو اپنے حلقہ انتخاب کے عوام کی ترجمانی کے حق سے ایسے وقت محروم کر دیا گیا جب وسائل مختص کئے جا رہے ہیں اور اس کے لئے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی غیرجانبدار کسٹوڈین آف دی ہاﺅس کی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ اسپیکر کی جانب سے غیرجانبداری کا مظاہر ہ نہ کرنے پر انہوں نے اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ چیئرمین پی پی پی نے اس بات پر بھی سخت مایوسی کا اظہار کیا کہ کٹھ پتلی حکومت عوام دوست بجٹ لانے میں اپنی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے ناکام ہوگئی ہے اور بجٹ بنانے کے لئے اس نے بیرونی ڈکٹیشن لی ہے۔ چیئرمین پی پی پی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ کٹھ پتلی حکومت ہر قسم کا اخلاقی اور سیاسی جواز کھو چکی ہے۔ چیئرمین پی پی پی نے ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کیا کہ صدر آصف علی زردری، اراکین قومی اسمبلی علی وزیر، محسن داوڑ اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر فوری طور پر جاری کئے جائیں۔