Archive for July, 2019

پاکستان.پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے قائد آصف علی زرداری کی 64ویں سالگرہ جوش و خروش اور باوقار

پاکستان.پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے قائد آصف علی زرداری کی 64ویں سالگرہ جوش و خروش اور باوقار طریقے سے منائے گی۔ انہوں نے پارٹی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں سالگرہ کی تقریبات منعقد کرکے اپنے قائد کی بہادری، ثابت قدمی اور جمہوریت کا تحفظ کرنے پر ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کریں اور ان کی صحت اور درازی عمر کے لئے خاص دعائیں کی جائیں۔ پیپلزپارٹی کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ سابق صدر نے جمہوریت کی خاطر طویل قید کاٹ کر جمہوریت پسندوں کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور صدر پاکستان آصف علی زرداری نے 1973ءکا آئین اصل صورت میں بحال کرکے پارلیمنٹ کو بااختیار بنا کر اس ذہنیت کو سیاسی شکست دی جو جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف رہے ہیں۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ صوبوں کو خودمختاری دینا ، گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیا، خیبرپختونخوا کے عوام کو ان کی شناخت دی اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کے ساتھ معاشی انصاف کیا۔ نیر حسین بخاری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے سوات میں دوبارہ قومی پرچم سربلند کرکے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریب خواتین تک رسائی بھی ان کا شاندار کارنامہ ہے۔ آصف علی زرداری نے ماضی میں برطرف کئے گئے سرکاری ملازمین کو باعزت طریقے سے بحال کیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ کرکے ان کی مشکلات کا ازالہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری آج بھی ان عناصر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہے ہیں جو جمہوریت کو کمزور اور پارلیمان کو ربڑ اسٹمپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں کو اپنے قائد آصف علی زرداری کی قیادت پر فخر ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی کوریج پر سنسرشپ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی کوریج پر سنسرشپ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی میڈیا کوریج روکنا بدترین آمریت ہے۔ میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کسی بھی سیاسی مخالف کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 126دنوں تک دھرنا دینے والوں سے ایک ریلی ایک جلسہ اور ایک تقریر برداشت نہیں ہوتی۔ اپوزیشن پارلیمنٹ میں بات کرے تو خان صاحب ایوان چھوڑ دیتے ہیں۔ اراکین اسمبلی کا حق غصب کرکے ان کے پروڈکشن آرڈرز رکوائے جاتے ہیں۔ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں تک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لئے پہلے گرفتاریاں کی جاتی ہیں۔ گرفتاریوں سے آواز نہ دب سکے تو میڈیا پر سنسرشپ عائد کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جتنی میڈیا سنسرشپ آج ہے ایسی تو صرف آمریتوں میں ہوا کرتی ہے۔ عمران خان کے پاس عوام کے سوالوں کا جواب نہیں تو زباں بندی کروانا شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلق خدا کی آواز کو بڑے بڑے آمر نہیں دبا سکے یہ کٹھ پتلی کیا چیز ہے؟ آمرانہ ہتھکنڈوں سے صرف ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ عمران خان سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں۔ اپوزیشن سلیکٹڈوزیراعظم کی ہر پابندی اور انتقام کر مقابلہ کرے گی۔

 

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید شاہنواز بھٹو کو ان کی 34 ویں یومِ شہادت کے موقعے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید شاہنواز بھٹو کو ان کی 34 ویں یومِ شہادت کے موقعے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں بحالیِ جمہوریت کے لیئے جاری عوامی جدوجہد میں بھٹو خاندان کی جانب سے بھرپور قائدانہ کردار ادا کرنے کی پاداش میں شہید شاہنواز بھٹو کو ایک گہری و گہنونی سازش کے تحت شہید کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آمریتی عناصر شہید شاہنواز بھٹو کی انقلابی سوچ سے خائف اور پاکستان کے نوجوانوں میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی نئی نسل کے لیئے شہید شاہنواز بھٹو ایک کیس اسٹڈی ہے کہ عوام کے حقِ حاکمیت کو غضب کرنے والی قوتیں جمہوریت کی بات کرنے پر کتنی سفاک بن جاتی ہیں اور قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار و زرخیز ذہنوں کے مالک افراد کو کس بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فکرِ بھٹو پر قائم شہید شاہنواز بھٹو کی جمہوری انقلابی سوچ کا سفر اور جذبہ عوامی خدمت آج بھی جاری ہے، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کو حقیقی جمہوری و مساوات پر مبنی قائداعظم کا پاکستان بنانے کے لیئے آج بھی جدوجہد کے میدان میں موجود اور منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے پارٹی عہدیداران و کارکنان اور عوام کو اپیل کی کہ وہ آج کے دن شہید شاہنواز بھٹو کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیئے دعا کریں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی، ذوالفقار علی شاہ، لیاقت آسکانی اور نوید انتھونی نے کہا ہے

کراچی (14 جولائی 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی، ذوالفقار علی شاہ، لیاقت آسکانی اور نوید انتھونی نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم اور سلیکٹڈ حکومت کے تجربے نے معیشت اور معاشرتی اقدار کو کچلنے کے ساتھ ساتھ اداروں کے وقار کو بھی ناقابلِ تلافی حد تک نقصان پہنچایا ہے، جس کے ازالہ کٹھ پتلی کو بنی گالہ کے چڑیا گھر میں واپس بھیجنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اپنے مشترکہ بیان میں پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ عوام نے دھاندھلی زدہ بجٹ کو مکمل طور رد کردیا ہے، کیونکہ اس طرح کی بُری پالیسیوں کے نتائج بعدازاں قوم کو ہی بھگتنا پڑیں گے، جو کسی بھیانک تصور سے بھی زیادہ خوفناک ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے دس ماہ پر محیط دورِ بدانتظامی کے دوران قومی اثاثے گھٹ کر آدھے ہو گئے ہیں، جبکہ غربت اور معاشی بے یقینی نئی بلندیوں کو چُھو رہی ہیں۔ ارکان سندھ اسمبلی نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ بے یقینی اور افراتفری نے زندگی کے تمام شعبہ جات کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور ملک کا ہر آدمی حکومت کی غلط منصوبہ بندی و بیوقوفانہ معاشی پالیسیوں کا شکار ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان کے شہری مختلف قسم کے 42 ٹیکس ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کے حواری دنیا کے آگے قوم کو ٹیکس چور بناکر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد عوام کی امنگوں کا ترجمان اقدام و واضح پیغام ہے اور پی ٹی آئی حکومت کی ظالمانہ معاشی پالیسیوں، غیرجمہوری انداز اور بے اعتدال رویئے کے خلاف مکمل نفی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے غبارے میں ہوا بھرنے و کٹھ پتلیوں کو دلکش نقاب پہنانے، عادی لوٹوں و بدعنوان سیاسی عناصر کو واشنگ مشین سے گذارکے عوام کے مدمقابل لانے جیسے اقدام اب ملک کے لیئے بھیانک خواب بن کر کھڑا ہے۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ اشیائے خورد و نوش کے نرخ آسمان کو پہنچ گئے ہیں، روپے کی قدر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، صنعت کا صفایا ہو رہا ہے، نوجوانوں کو بے روزگاری ادھیڑ رہی ہے، عوام غربت میں ڈوب رہے ہیں اور تاجر زیرعتاب ہیں۔ یہ تحریک انصاف کی سلیکٹڈ حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی طویل فہرست میں سے وہ چند تازیانے ہیں جن سے قوم زخمی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ پوری دنیا میں ملک کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، کہ ہمارے وفاقی وزراء بیرونِ ملک دوروں کے دوران خالی کرسیوں کو خطاب فرما رہیں ہیں کیونکہ دھاندھلی اور انتخابات چوری کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سلیکٹڈ حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اب وہ واحد امید ہیں جو ملک کو اس حالیہ دلدل سے باہر نکال سکتے ہیں، کیونکہ وہ ملک کے ان غریب و نوجوانوں کی آرزوَں و امنگوں کے حقیقی ترجمان ہیں، جو سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کی سلیکٹڈ حکومت کے اصل شکار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے عالمی بئنک کے ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار انویسٹمینٹ ڈسپیوٹ کی جانب سے ریکوڈک معاملے میں پاکستان کے خلاف 5.976 ارب روپے کا جرمانہ عائد کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی خزانے کو اتنا بڑا نقصان پہنچانے والے کرداروں کو نہیں چھوڑنا چاہیئے، خواہ ان کا تعلق عدلیہ سے ہو یا انتظامیہ سے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیاں مل کر نومبر سے پہلے حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیاں مل کر نومبر سے پہلے حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔ پروڈکشن آرڈر کے قانون کو ختم کرکے حکومت پارلیمنٹ کو کمزور کرے گی اس کا نقصان بھی انہیں اٹھانا پڑے گا۔ میاں نواز شریف کو گھر شفٹ کیا جانا چاہیے۔ حکومت تیس بلین ڈالر کے مزید قرضے ایسے ممالک سے لینے جارہی ہے جن سے ہم بات نہیں کر سکتے۔ دوبئی میں ایک کمپنی ہے جس پر لندن میں کیس چل رہے ہیں اور اس کمپنی کے سی ای او نے تیس ملین ڈالر سے ضمانت لی ہے۔ عمران خان کی اس سے وابستگی ہے۔ و زیراعظم کے ایک سکینڈل کی وجہ سے میرا انٹرویو نشر نہیں ہونے دیا گیا۔ مسقبل بلاول اور مریم کا ہے مریم ہماری بیٹیوں جیسی ہے ہم ان کو مشورے دیتے رہے ہیں۔ ملک میں اس وقت سویلین مارشل لاءہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد سے عمران خان کی حکومت نومبر سے پہلے چلی جائے گی اور اس کیلئے ہم جدوجہد کررہے ہیں۔ مریم نواز نے جو ویڈیو لیک کی ہے وہ میں نے نہیں دیکھی کیونکہ مجھے ٹی وی اور ریڈیو کی سہولت میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جسٹس قیوم کی عدالت میں سب کچھ جاننے کے باوجود بھی پیش ہوتے رہے اور ہمیں سزائیں ہوئیں جو بعد میں ختم ہوگئیں۔ ملک میں سویلین مارشل لاءہے۔ اس حکومت کے جانے کے بعد الیکشن ہوں گے یا سویلین حکومت آئے گی سیاسی پارٹیاں مل کر حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خاص لوگ ہیں جو ڈرائی کلین نہیں ہورہے ان کیلئے دبل صرف ایکسل کا استعمال کرنا پڑے گا۔ مستقبل بلاول بھٹو اور مریم نواز کا ہے مریم نواز ہماری بیٹیوں جیسی ہے ہم انہیں مشورہ دیتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں ہم سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں موجودہ حکومت کو خطرہ پیپلزپارٹی کی طاقت ہے اور بلاول کی طاقت ہے۔ بے نظیر بھٹو کے زمانے میں مجھے جیل میں ڈالتے رہے کیونکہ اس وقت انہیں پیپلزپارٹی سے خطرہ تھا سینیٹ میں اکثریت ن لیگ کی ہے۔ و زیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داﺅد کا تعلق جس برادری سے ہے وہ بھارت سے آئے تھے۔ پاکستان سندھ کے لوگوں نے بنایا اور پاکستان ہمارا اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو بہتری کیلئے مزید پریکٹس کرنی چاہیے اور نئے نوجوانوں کو سامنے لانا چاہیے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے خاتمے کے حوالے سے قانون لایا جارہا ہے۔ اس سے پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا نقصان حکومت کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہوسکتا ہے میرے آخری پروڈکشن آرڈر ہوں لیکن 2020 پاکستان کی بہتری کا سال ہوگا۔ میرا انٹرویو اس لئے رکوایا گیا کہ میں نے وزیراعظم کے ایک سکینڈل کے بارے میں انکشاف کیا تھا۔ حکومت مزید تیس بلین ڈالر کے قرضے ایسے ممالک سے لے رہی ہے جس سے ہم پھر بات بھی نہیں کر سکیں گے قرضے ایشین بینک، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے لے رہے ہیں جو بعد میں ہماری ایمبیسی پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر اگر بنانے ہیں تو کرپشن کے حوالے سے ریفرنس بناﺅ تو پتہ چل جائے گا کہ میں نے کیا کرپشن کی ہے۔ ہم جب باہر کے ممالک کے دورے پر جاتے تو سستے ہوٹلوں میں ٹھہرتے تھے ایمبیسی میں نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی کی کمپنی جس پر لندن میں کیس چل رہا ہے اس کے سی ای او نے تیس ملین ڈالر سے ضمانت لی ہے میں نے اپنے انٹرویو میں اس چیز کا انکشاف کیا تھا کہ عمران خان کی اس کمپنی کے ساتھ وابستگی ہے۔

5 جولائی کا شب خون

جولائی 1977 کا شب خون 90 روز کی بجائے گیارہ برس چلا اور وقفے وقفے سے اُس کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ شب خون اپنی بے شمار سفاکیوں کے ساتھ دل و دماغ سے محو ہونے کو نہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ اُس کی زیادہ تر مہلک علامات قومی تاریخ کے رگ و پے میں جذب ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس کے باوجود کہ ’’قومی اتحاد‘‘ والے، 1973 کی جمہوریہ کو مارشل لا کی کھائی کے دہانے تک لے آئے تھے، بالغ سیاسی عناصر نے اس اندھی کھائی میں گرنے کی بجائے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے نئے انتخابات کے انعقاد پہ اکتفا کر بھی لیا، لیکن اب دیر ہو چکی تھی اور بھٹو صاحب اپنے ہی نامزد جرنیل کے شب خون کے منتظر تھے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار۔ پھر جیسے مملکتِ خداداد پہ آفت ایسی ٹوٹی کہ ختم ہونے کو نہیں۔ حالانکہ بھٹو صاحب نے ٹوٹے ہوئے پاکستان کو پھر سے کھڑا کیا، بھارت کی قید سے 90 ہزار جنگی قیدی آزاد اور مفتوحہ علاقے واگزار کرائے، افواجِ پاکستان کو پھر سے تگڑا کیا، جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی اور ایک قوم پرستانہ خارجہ و سلامتی کی پالیسی تخلیق کی، لیکن وہ جنرل ضیا اور اس کے رفقا کی فوجی بغاوت سے بچ نہ پائے۔ بھٹو صاحب اور جنرل ضیا میں اور سول فوجی تعلقات میں بھی کوئی بڑا مسئلہ نہ تھا۔ ہاں! اگر بڑا مسئلہ تھا تو وہ یہ کہ 1973 کے آئین اور

اقتدارِ اعلیٰ کی سویلین ہاتھوں میں منتقلی، پرانے جدید نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کو ہضم ہونے کو نہ آئی۔ بھٹو صاحب آخری وقت تک مالی طور پر ایک بے داغ، مقتدر، مقبول اور ذہین وزیراعظم رہے۔ اُنہوں نے افواج سمیت نوکرشاہی میں اصلاحات بھی کیں لیکن وہ اتنی ناکافی تھیں کہ سویلین جمہوری راج اُن کی ریشہ دوانیوں سے بچ پاتا۔ جنرل ضیاالحق نے اپنے ہی محسن کا نہ صرف یہ کہ تختہ اُلٹ دیا بلکہ ججوں کو استعمال کر کے اُن کے عدالتی قتل کا اہتمام بھی کیا۔ 1973 کا آئین معطل ہوا، عدلیہ باندی بنی، میڈیا بند ہوا، ہزاروں جمہوری کارکن جیلوں میں سال ہا سال کے لیے بند کر دیئے گئے۔ ہر طرف ریاستی دہشت کا راج مسلط کر دیا گیا۔ جونہی افغانستان میں انقلابِ ثور بپا ہوا اور شاہِ ایران کا تختہ ہوا، جنرل ضیاالحق (جن کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون میں رنگے ہوئے تھے) نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے امریکہ اور سی آئی اے کے افغانستان میں ردِّانقلاب بپا کرنے کے منصوبے کے لیے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ پھر کیا تھا نہ صرف ایک انتہائی رجعت پسند فوجی آمریت کو طوالت ملی، بلکہ پاکستان نام نہاد ’’آزاد دُنیا‘‘ کے فی سبیل اللہ فساد کے لیے دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا دیا گیا، جس کا خمیازہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے جوان آج تک بھگت رہے ہیں۔ 1985 کے جس عبوری حکم نامے پہ غیرسیاسی عناصر کو ساتھ ملا کر ایک عجیب الخلقت فوجی و سویلین آمرانہ نظام تیار کیا گیا وہ آج بھی بڑھتے ہوئے کروفر سے جاری ہے۔ 90 کی دہائی میں جو چار مختصر سیاسی حکومتیں آئیں بھی وہ عضو معطل تھیں اور جنہیں باہم جوتم پیزار میں تھکا کر فارغ کر دیا گیا۔ پھر وہی ہوا جو 5 جولائی 1977 کو ہوا تھا اور جنرل مشرف اپنے کارگل ایڈونچر کی سزا پانے کی بجائے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کر بیٹھے۔ ایک اور منتخب وزیراعظم کو ایک اور جعلی کیس میں جلاوطن کر دیا گیا۔ جنرل ضیا الحق کا آٹھویں ترمیم والا آئینی چربہ ہو یا پھر جنرل مشرف کا آئینی سرکہ، اٹھارہویں ترمیم کے باوجود عملاً وہی ہے۔ جمہوریت کے لیے جدوجہد کا جو سفر 5 جولائی 1977 کے بعد شروع ہوا تھا، وہ ابھی بھی جاری و ساری ہے۔اب یوں محسوس ہوتا ہےگویا تمام جمہوری کاوشیں، قربانیاں، تحریکیں ضائع ہوئیں، اُلٹا کردہ و ناکردہ گناہوں کی سزائوں کا بازار پھر سے گرم کر دیا گیا ہے۔ اب آپ جمہوریت کی بات تو کر کے دیکھیں، ہر طرف سے کرپشن کرپشن کے طمانچے اور لفافے لفافے کے طعنے آپ کا استقبال کریں گے۔ لیکن عوام الناس نے کیا گناہ کیا ہے جو اصل گناہگاروں کے گناہوں کا بوجھ اُٹھاتے اُٹھاتے مرے جا رہے ہیں۔ یہ جس قرض کے جال کی بات کہتے لوگ نہیں تھکتے، ایوب خان سے جنرل مشرف کے دور تک دیکھیں کہ یہ جال کس نے بچھایا اور وہ قرض اور ’’امداد‘‘ کہاں خرچ ہوئی۔ خیر سے عمران خان کی معاشی ٹیم یہ تو بتائے کہ 12 ارب ڈالرز کے دوستوں سے قرض لینے کے بعد اگلے تین برس میں مزید 38 ارب ڈالرز کے قرضوں کا بوجھ ڈالنے کا ارادہ کس نیک کام کے لیے ہے۔ پھر بھی شور اس کرپشن پہ ہے جس سے اس ملک کے اخراجات کی داڑھ بھی گیلی ہونے سے رہی اور ہمارے سادہ کپتان یہ راگ الاپتے نہیں تھکتے کہ شریفوں اور زرداری کی دولت واپس آ جائے تو ڈالر اپنے مقام پہ آ جائے گا۔ حالانکہ ایک سب سے بڑے غیرملکی کھاتے میں محض 137 ملین ڈالرز ہیں۔ عمران حکومت نے ساڑھے سات ارب ڈالرز کے بیرونی اکائونٹس کی ریکوری کی مہم ختم بھی کر دی ہے جس کا گلہ ہمارے نصف انقلابی اسد عمر نے کیا ہے۔ بھئی یہ آ بھی جائے تو آپ کے نہیں مالکوں کے ہیں اور اس میں سے آپ کو 10 فیصد بھی ملے تو کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ اصل سوال وہی ہے جو تمام حکومتوں کو درپیش رہا ہے اور انہوں نے جسے تقریباً ایک جیسے حل پہ چل کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی بھی تو ناکام رہیں اور اور آئندہ بھی رہیں گی۔ اصل مسئلہ سیاسی معیشت کا ہے اور اس دست نگر اور نحیف معاشی بنیاد کا ہے جس میں اتنے بھاری بھر کم بالائی ڈھانچے اور جنگی ریاست کے بے انتہا اخراجات کا بوجھ اُٹھانے کی سکت نہیں۔ اب یہ بحران لاینحل ہو چکا۔ آئندہ تین برس میں پچاس ارب ڈالرز کے مزید قرضے لے کر آپ اس مفت خور اور خرچیلی ریاست کا جہنم ٹھنڈا نہیں کر سکے۔ ضرورت ہے 1985 کے اقتدار کے ڈھانچے کو بدلنے کی اور عوام کو اقتدارِ اعلیٰ سونپنے کی اور دست نگر معیشت کے استحصالی ڈھانچے کو توڑ کر عوامی ترقی کے معاشی نظریے کو اپنانے کی۔ لیکن وہ جوہر کہاں چھپا ہے جو اس مملکتِ خداداد کا نجات دہندہ بنے۔ آخر کب تک 5 جولائی 1977 کا شب خون، 1985 کا مارشل لا نسخہ اور مانگے تانگے کی معاشی چھٹی جاری رہے گی۔ آخر اس نے ختم ہونا ہے یا پھر وہ ہوگا جسے انہدام (Implosion) کہتے ہیں۔ چپ رہ کر مرنے سے، کہہ کر مرنا اچھا ہے