پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیاں مل کر نومبر سے پہلے حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔ پروڈکشن آرڈر کے قانون کو ختم کرکے حکومت پارلیمنٹ کو کمزور کرے گی اس کا نقصان بھی انہیں اٹھانا پڑے گا۔ میاں نواز شریف کو گھر شفٹ کیا جانا چاہیے۔ حکومت تیس بلین ڈالر کے مزید قرضے ایسے ممالک سے لینے جارہی ہے جن سے ہم بات نہیں کر سکتے۔ دوبئی میں ایک کمپنی ہے جس پر لندن میں کیس چل رہے ہیں اور اس کمپنی کے سی ای او نے تیس ملین ڈالر سے ضمانت لی ہے۔ عمران خان کی اس سے وابستگی ہے۔ و زیراعظم کے ایک سکینڈل کی وجہ سے میرا انٹرویو نشر نہیں ہونے دیا گیا۔ مسقبل بلاول اور مریم کا ہے مریم ہماری بیٹیوں جیسی ہے ہم ان کو مشورے دیتے رہے ہیں۔ ملک میں اس وقت سویلین مارشل لاءہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد سے عمران خان کی حکومت نومبر سے پہلے چلی جائے گی اور اس کیلئے ہم جدوجہد کررہے ہیں۔ مریم نواز نے جو ویڈیو لیک کی ہے وہ میں نے نہیں دیکھی کیونکہ مجھے ٹی وی اور ریڈیو کی سہولت میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جسٹس قیوم کی عدالت میں سب کچھ جاننے کے باوجود بھی پیش ہوتے رہے اور ہمیں سزائیں ہوئیں جو بعد میں ختم ہوگئیں۔ ملک میں سویلین مارشل لاءہے۔ اس حکومت کے جانے کے بعد الیکشن ہوں گے یا سویلین حکومت آئے گی سیاسی پارٹیاں مل کر حکومت کو گھر بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خاص لوگ ہیں جو ڈرائی کلین نہیں ہورہے ان کیلئے دبل صرف ایکسل کا استعمال کرنا پڑے گا۔ مستقبل بلاول بھٹو اور مریم نواز کا ہے مریم نواز ہماری بیٹیوں جیسی ہے ہم انہیں مشورہ دیتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں ہم سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں موجودہ حکومت کو خطرہ پیپلزپارٹی کی طاقت ہے اور بلاول کی طاقت ہے۔ بے نظیر بھٹو کے زمانے میں مجھے جیل میں ڈالتے رہے کیونکہ اس وقت انہیں پیپلزپارٹی سے خطرہ تھا سینیٹ میں اکثریت ن لیگ کی ہے۔ و زیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داﺅد کا تعلق جس برادری سے ہے وہ بھارت سے آئے تھے۔ پاکستان سندھ کے لوگوں نے بنایا اور پاکستان ہمارا اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو بہتری کیلئے مزید پریکٹس کرنی چاہیے اور نئے نوجوانوں کو سامنے لانا چاہیے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے خاتمے کے حوالے سے قانون لایا جارہا ہے۔ اس سے پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا نقصان حکومت کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہوسکتا ہے میرے آخری پروڈکشن آرڈر ہوں لیکن 2020 پاکستان کی بہتری کا سال ہوگا۔ میرا انٹرویو اس لئے رکوایا گیا کہ میں نے وزیراعظم کے ایک سکینڈل کے بارے میں انکشاف کیا تھا۔ حکومت مزید تیس بلین ڈالر کے قرضے ایسے ممالک سے لے رہی ہے جس سے ہم پھر بات بھی نہیں کر سکیں گے قرضے ایشین بینک، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے لے رہے ہیں جو بعد میں ہماری ایمبیسی پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر اگر بنانے ہیں تو کرپشن کے حوالے سے ریفرنس بناﺅ تو پتہ چل جائے گا کہ میں نے کیا کرپشن کی ہے۔ ہم جب باہر کے ممالک کے دورے پر جاتے تو سستے ہوٹلوں میں ٹھہرتے تھے ایمبیسی میں نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی کی کمپنی جس پر لندن میں کیس چل رہا ہے اس کے سی ای او نے تیس ملین ڈالر سے ضمانت لی ہے میں نے اپنے انٹرویو میں اس چیز کا انکشاف کیا تھا کہ عمران خان کی اس کمپنی کے ساتھ وابستگی ہے۔