کراچی (14 جولائی 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی، ذوالفقار علی شاہ، لیاقت آسکانی اور نوید انتھونی نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم اور سلیکٹڈ حکومت کے تجربے نے معیشت اور معاشرتی اقدار کو کچلنے کے ساتھ ساتھ اداروں کے وقار کو بھی ناقابلِ تلافی حد تک نقصان پہنچایا ہے، جس کے ازالہ کٹھ پتلی کو بنی گالہ کے چڑیا گھر میں واپس بھیجنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اپنے مشترکہ بیان میں پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ عوام نے دھاندھلی زدہ بجٹ کو مکمل طور رد کردیا ہے، کیونکہ اس طرح کی بُری پالیسیوں کے نتائج بعدازاں قوم کو ہی بھگتنا پڑیں گے، جو کسی بھیانک تصور سے بھی زیادہ خوفناک ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے دس ماہ پر محیط دورِ بدانتظامی کے دوران قومی اثاثے گھٹ کر آدھے ہو گئے ہیں، جبکہ غربت اور معاشی بے یقینی نئی بلندیوں کو چُھو رہی ہیں۔ ارکان سندھ اسمبلی نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ بے یقینی اور افراتفری نے زندگی کے تمام شعبہ جات کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور ملک کا ہر آدمی حکومت کی غلط منصوبہ بندی و بیوقوفانہ معاشی پالیسیوں کا شکار ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان کے شہری مختلف قسم کے 42 ٹیکس ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کے حواری دنیا کے آگے قوم کو ٹیکس چور بناکر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد عوام کی امنگوں کا ترجمان اقدام و واضح پیغام ہے اور پی ٹی آئی حکومت کی ظالمانہ معاشی پالیسیوں، غیرجمہوری انداز اور بے اعتدال رویئے کے خلاف مکمل نفی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے غبارے میں ہوا بھرنے و کٹھ پتلیوں کو دلکش نقاب پہنانے، عادی لوٹوں و بدعنوان سیاسی عناصر کو واشنگ مشین سے گذارکے عوام کے مدمقابل لانے جیسے اقدام اب ملک کے لیئے بھیانک خواب بن کر کھڑا ہے۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ اشیائے خورد و نوش کے نرخ آسمان کو پہنچ گئے ہیں، روپے کی قدر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، صنعت کا صفایا ہو رہا ہے، نوجوانوں کو بے روزگاری ادھیڑ رہی ہے، عوام غربت میں ڈوب رہے ہیں اور تاجر زیرعتاب ہیں۔ یہ تحریک انصاف کی سلیکٹڈ حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی طویل فہرست میں سے وہ چند تازیانے ہیں جن سے قوم زخمی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ پوری دنیا میں ملک کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، کہ ہمارے وفاقی وزراء بیرونِ ملک دوروں کے دوران خالی کرسیوں کو خطاب فرما رہیں ہیں کیونکہ دھاندھلی اور انتخابات چوری کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سلیکٹڈ حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اب وہ واحد امید ہیں جو ملک کو اس حالیہ دلدل سے باہر نکال سکتے ہیں، کیونکہ وہ ملک کے ان غریب و نوجوانوں کی آرزوَں و امنگوں کے حقیقی ترجمان ہیں، جو سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کی سلیکٹڈ حکومت کے اصل شکار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے عالمی بئنک کے ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار انویسٹمینٹ ڈسپیوٹ کی جانب سے ریکوڈک معاملے میں پاکستان کے خلاف 5.976 ارب روپے کا جرمانہ عائد کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی خزانے کو اتنا بڑا نقصان پہنچانے والے کرداروں کو نہیں چھوڑنا چاہیئے، خواہ ان کا تعلق عدلیہ سے ہو یا انتظامیہ سے۔