پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی کوریج پر سنسرشپ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کی ریلی اور جلسے کی میڈیا کوریج روکنا بدترین آمریت ہے۔ میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کسی بھی سیاسی مخالف کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ 126دنوں تک دھرنا دینے والوں سے ایک ریلی ایک جلسہ اور ایک تقریر برداشت نہیں ہوتی۔ اپوزیشن پارلیمنٹ میں بات کرے تو خان صاحب ایوان چھوڑ دیتے ہیں۔ اراکین اسمبلی کا حق غصب کرکے ان کے پروڈکشن آرڈرز رکوائے جاتے ہیں۔ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں تک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لئے پہلے گرفتاریاں کی جاتی ہیں۔ گرفتاریوں سے آواز نہ دب سکے تو میڈیا پر سنسرشپ عائد کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جتنی میڈیا سنسرشپ آج ہے ایسی تو صرف آمریتوں میں ہوا کرتی ہے۔ عمران خان کے پاس عوام کے سوالوں کا جواب نہیں تو زباں بندی کروانا شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلق خدا کی آواز کو بڑے بڑے آمر نہیں دبا سکے یہ کٹھ پتلی کیا چیز ہے؟ آمرانہ ہتھکنڈوں سے صرف ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ عمران خان سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں۔ اپوزیشن سلیکٹڈوزیراعظم کی ہر پابندی اور انتقام کر مقابلہ کرے گی۔