Archive for August, 2019

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں میڈیا کو مطلع کیا

سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی 
زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں میڈیا کو مطلع کیا 
ہے کہ ان کے والد صدر زرداری کو ہسپتال سے ایک مرتبہ پھر جیل بھیج دیا گیا 
ہے۔ آنسہ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ جمعہ کی صبح وہ اپنے والد سے ملنے پمز 
ہسپتال گئیں تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ صدر زرداری کو دوبارہ جیل بھیجنے 
کے لئے ان پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے حالانکہ ان کی طبیعت انتہائی خراب ہے اور 
انہیں ہسپتال میں رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مزید ٹیسٹ اور علاج کروا 
سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر کے دو مرتبہ میڈیکل ٹیسٹ کروائے گئے تھے 
ایک مرتبہ نیب کی جانب سے اور دوسری مرتبہ عدالتی حکام کی جانب سے اور 
دونوں مرتبہ یہ ظاہر ہوا کہ صدر زرداری کو فوری طبی سہولتوں اور علاج کی 
ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے دل کی تین شریانے بلاک ہو چکی 
ہیں اور انہیں اسپائن میں سخت تکلیف ہے جو انہیں گیارہ سال غیرقانونی طور 
پر قید میں رکھنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ آصف علی زرداری کو دیگر 
بیماریاں بھی لاحق ہیں اور انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ آنسہ آصفہ 
بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کا خاندان اور پاکستان پیپلزپارٹی یہ مطالبہ کرتی 
ہے کہ صدر زرداری کو فوری طور پر دوبارہ منتقل کیا جائے تاکہ وہ اپنا علاج 
کروا سکیں۔ یہ ان کا پاکستان کے ایک شہری کی حیثیت سے بھی حق ہے اور بحیثیت 
سابق صدر پاکستان، ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی بھی ان 
کا حق ہے۔ ان کے حقوق کو جھٹلانا انسانی حقوق کو جھٹلانا ہے اور اس کے ساتھ 
انصاف کو جھٹلانا بھی ہے۔ یہ سیاسی انتقام ہے وہ پاکستان کے واحد ایسے صدر 
ہیں جو عدالتوں سے بھاگ رہے ہیں اور نہ ہی ملک سے بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے 
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کا اعادہ کرتے 
ہوئے کہا کہ اس سلیکٹڈ حکومت کی نیت صاف ظاہر ہے کہ وہ صدر زرداری کی زندگی 
کو خطرے میں ڈالنا چاہتی ہے تاکہ اپنا ایجنڈا پورا کر سکے۔ انہوں نے متنبہ 
کیا کہ اگر صدر زرداری کو کچھ ہوا تو ان کا خاندان اور پارٹی اس سلیکٹڈ 
حکومت کو ذمہ دار ٹھہرائے گی اور اس کا احتساب کرے گی۔ سابق وزیراعظم راجہ 
پرویز اشرف نے کہا کہ حکومتی ڈاکٹروں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ صدر زرداری کو 
علاج کے لئے ہسپتال میں رکھا جائے لیکن حکومت صدر زرداری کو صحت کی سہولتیں 
مہیا نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر زرداری کو فوری طور پر 
ہسپتال منتقل کیا جائے۔ سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس روز جس دن 
سلیکٹڈ وزیراعظم جس نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے لوگوں سے کشمیر میں انسانی 
حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کرنے کے لئے کہہ رہا تھا اس دن وہ خود سابق 
صدر کے انسانی حقوق کی خلاف وزریاں کر رہا تھا۔ انہوں نے سلیکٹڈ وزیراعظم 
کو متنبہ کیا کہ وہ اتنا ہی ظلم کریں جتنا ان میں برداشت کرنے کی سکت ہے۔ 
سینیٹر شیری رحمن نے اس حکومت کو یزید کا دربار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر 
سلیکٹڈ حکومت اپنا انداز نہیں بدلتی تو اس کے شدید مضمرات ہوں گے اور اسے 
پاکستان پیپلزپارٹی کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آصف علی زرداری کو ڈاکٹرز کی تجویز کے مطابق فوری ہسپتال منتقل کیا جائے: سید نیر حسین بخاری

سابق چیرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین
بخاری نے آصف علی زرداری کی ناسازی طبیعت پر ڈاکٹروں کی تجویز پر عمل کرنے
کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کو ڈاکٹرز کی تجویز کے
مطابق فوری ہسپتال منتقل کیا جائے منگل کو نیر بخاری نے اپنے بیان میں کہا
ہے کہ حکمران سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل کرنے سے باز رہیں آصف زرداری
بحیثیت شہری بنیادی حقوق کے برابر حقدار ہیں انہوں نے کہا کہ زاتیات کی
بجائے سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کی جائے نیر بخاری نے مزید
کہا کہ ستم ظریفی ہے کہ انسانی حقوق سلب کرنے والے ریاست مدینہ کے دعویدار
ہیں ازیت پرستی کے مرض میں مبتلا ٹولہ قانون کا احترام کرنا سیکھے ورنہ
پچھتائیں گے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل
کرنے کی شدید مخالف ہے برداشت اور تحمل ہمارا شیوہ ہے لیکن سرخ لکیر عبور
کرنے کی مزاحمت اور مقابلہ کرنا جانتے ہیں نیر بخاری نے کہا کہ آصف زرداری
حکمرانوں کیلئے اعصاب شکن ثابت ہو رہے ہیں آصف زرداری کو آمر مطلق نہ جھکا
سکے تبدیلی سرکار کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے نیر بخاری نے کہا کہ چیرمین
بلاول بھٹو کی رابطہ عوام مہم قومی امور و ¿ معاملات پر ڈٹ کر اظہار خیال
حکمرانوں کی نیندیں اڑا دیتا ہے نیر بخاری نے کہا کہ قائد عوام کے نواسے
اور شہید جمہوریت کے فرزند کی زبان بندی کے حربے ہتھکنڈے کبھی کامیاب نہیں
ہو سکتے نیر بخاری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید کی انگلی پکڑنے والا بلاول
بھٹو اب آصف زرداری کا بازو ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کینیڈاکےجنرل سیکرٹری راؤمحمدطاہرکی چیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بُھٹوزرداری سےاسلام آبادمیں اہم مُلاقات۔

ملاقات میں پیپلزپارٹی اورسیزاورکینیڈاکےتنظیم یمعاملاتپرگفتگو،راؤطاہرنےچیرمین کوکینیڈاکی تنظیم سازی کےبارےمیں اپنی رپورٹ پیشکی۔

بلاولبُھٹو نے نے کہا کہ کینیڈانےہمیشہ انسانی حقوق کے لیے آوازاُٹھائ ہے اوراس سلسلے میں پیپیپی کینیڈامقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےبارےموثرآوازاُٹھا سکتی ہے۔

راؤطاہرنےچیرمین بلاول بُھٹو کو کینیڈا کے دورے کی دعوت دی جوکہ چیرمیں نےقبول کر لی اور وعدہ کیا کہوہاگلےدورہامریکہکےدوران کینیڈا کابھی دورہ ضرورکریںگے۔

پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکنِ سندھ اسمبلی فریال تالپور سے خاندان کے افراد اور ان کے وکلاء نے اڈیالا جیل میں ملاقات کی

پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکنِ سندھ اسمبلی فریال تالپور سے خاندان کے افراد اور ان کے وکلاء نے اڈیالا جیل میں ملاقات کی، رکنِ قومی اسمبلی میر منور تالپور نے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ اپنی اسیر اہلیہ فریال تالپور سے ملاقات کی۔ سابق صوبائی وزیر ضیاء الحسن لنجار اور وکلا ٹیم، غلام مصطفیٰ لغاری اور خانبھادر بھٹی نے فریال تالپور سے اڈیالا جیل ملاقات کی۔ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ بی کلاس کے نوٹیفیکیشن کے باوجود جیل انتظامیہ کی جانب سے تاحال فریال تالپور کو سہولیات میسر نہیں کی گئیں، جبکہ پروڈکشن آرڈر جاری کیئے جانے کے باوجود فریال تالپور کو سندھ اسیمبلی کے اجلاس میں نہیں لایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فریال تالپور کی اجلاس میں شرکت کے متعلق سندھ اسیمبلی نے قرارداد بھی منظور کی ہے، لیکن اڈیالا کی جیل انتظامیہ نہیں مانی۔ ضیا الحسن لنجار نے مزید کہا کہ پنجاب کی جیل انتظامیہ سندھ کے عوام کی منتخب اسمبلی کی توہین کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کے روز اعلی عدالت میں پیٹیشن دائر کی جائیگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نواب یوسف تالپور اور رفیق احمد جمالی نے قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل سمیت قومی اسمبلی کی تمام اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاس

کراچی (23 اگست 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نواب یوسف تالپور اور رفیق احمد جمالی نے قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل سمیت قومی اسمبلی کی تمام اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاس بلانے کی اجازت نہ دیئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیاں اسمبلی کی آنکھ اور کان ہوتی ہیں، اگر ان کو چلنے نہیں دینا تو پھر اسپیکر کو چاہیئے کہ وہ تمام کمیٹیاں تحلیل کردے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواب یوسف تالپور نے کہا کہ انہوں نے بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل سندھ و پنجاب کے درمیان پانی کے معاملے پر موجود اختلافات اور بھارت کی جانب سے پیشگی اطلاعات کے بغیر ہی سیلابی پانی کو پاکستان میں چھوڑنے جیسے معاملات کو دیکھنے کے لیئے تین بار کمیٹی اجلاس بلائے، لیکن اجلاس منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اسپیکر کو اس ضمن میں ٹیلیفون بھی کیا لیکن تاحال اجازت نہیں دی گئی۔ اگر اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو چلنے نہیں دیا جائیگا تو اسمبلی کس طرح کام کرسکے گی۔ نواب یوسف تالپور نے کہا کہ سندھ کے ساتھ پانی کے معاملے پر بہت بڑی ناانصافی ہو رہی ہے، جس کا اعتراف وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ سندھ کے نمائندے کو ارسا کے اجلاس میں بات کرنے ہی نہیں دی جاتی۔ نواب یوسف تالپور نے کہا کہ انہیں ارسا میں سندھ کے نمائندے مظھر علی شاہ نے بتایا کے اجلاس کے دوران انہیں بولنے نہیں دیا گیا اور گالیاں دی گئیں۔ پی پی پی رکنِ قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر اسمبلی کے فورم پر معاملات کو اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو ان کے پاس عوام کے پاس جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچے گا، جبکہ اس وقت پیپلز پارٹی ملک کے اندرونی و بیرونی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے، دل پر پتھر رکھ کر خاموش ہے۔ پی پی پی ایم این اے و چیئرمین گورکھ ہلز ڈولپمینٹ اتھارٹی رفیق احمد جمالی نے کہا کہ گورکھ ہِل پر سیاحت کو فروغ دینے کے لیئے تاحال وفاقی حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ اس وقت تک جتنی بھی فنڈنگ کی ہے وہ حکومتِ سندھ نے اپنے محدود وسائل سے کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورکھ ہل کا علاقہ دشوار گذار ہے، جس کی ترقی پر بہت زیادہ فنڈنگ کی ضرورت ہے اور وفاق کی جانب سے عدم دلچسپی کی وجہ سے وہاں ترقیاتی عمل سست روی کا شکار ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جو گلگت بلتستان کے دورے پر ہیں استور سے اسکردو پہنچ گئے ہیں

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جو گلگت بلتستان کے دورے 
پر ہیں استور سے اسکردو پہنچ گئے ہیں جہاں وہ کل دوپہر ایک بڑے جلسہ عام سے 
خطاب کریں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مقامی عہدیدار اور کارکن بڑے زور و 
شور سے جلسے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے آج صبح استور 
سے اسکردو روانگی سے قبل پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں سے تفصیلی 
ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تمام 
توانائیاں پارٹی کی تنظیم کے لئے وقف کریں اور ملک بھر میں بسنے والے گلگت 
بلتستان سے تعلق رکھنے والوں کو پارٹی کا پیغام پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ 
صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو اپنا صوبہ ، اپنا گورنر اور 
وزیراعلیٰ دیا۔ اس سے قبل وفاق کسی غیر مقامی شخصیت کو گورنر تعینات کرتا 
تھا مگر اب گورنر کا تعلق بھی گلگت بلتستان سے ہوتا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی 
نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دے کر 
محترمہ بینظیر بھٹو کے خواب کی تعبیر کی۔ اب ہمیں اور آگے جانا ہے تاکہ 
گلگت بلتستان کے عوام کو بھی دیگر صوبوں کے عوام کی طرح ریاست کے ثمرات ملیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے

 پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ 
پاکستان پیپلزپارٹی کا بلاول لورز آرگنائزیشن، بلاول ورکرز آرگنائزیشن اور 
بلاول بھٹو فورم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی پارٹی کے چیئرمین کا ان 
تمام تنظیموں سے کوئی تعلق ہے۔ پارٹی کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والے بیان 
میں سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے کارکن اور عوام چیئرمین بلاول 
بھٹو زرداری سے منسوب اس طرح کی تمام تنظیموں کو پیپلزپارٹی کا حصہ نہ 
سمجھیں۔ اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے منسوب ایسی کسی تنظیم سے کسی 
پارٹی عہدیدار اور کارکن کا تعلق ثابت ہوا تو ان کے خلاف تنظیمی ضوابط کے 
تحت کارروائی ہوگی۔

سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے

سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ 
توسیع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس توسیع سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں 
ہوگا بلکہ اس سے بہت سارے اعلیٰ فوجی افسران کے کیرئیر پر اثر پڑے گا اور 
نتیجے کے طور پر ان کا مورال متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فوج ایک مضبوط 
ادارہ ہے اور مضبوط ادارے کسی ایک شخصیت پر انحصار نہیں کرتے چاہے وہ شخصیت 
کتنی بھی قابل اور بہترین ہو۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ اداروں کی کمزوری 
شخصیت پرستی میں ہوتی ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا جس پر ہمیشہ کے لئے 
انحصار کیا جائے۔ یہ فوج کے لئے اچھا پیغام نہیں ہے کہ فوج ایک یا دو افراد 
پر انحصار کر رہی ہے۔ جب سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے اپنی 
ریٹائرمنٹ سے دس ماہ قبل ہی یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی مدت ملازمت میں 
توسیع کی گئی تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ اس وقت عمران نے 25جنوری 
2016ءکو یہ ٹویٹ کیا تھا کہ جنرل راحیل شریف کی عزت و وقار قوم کے سامنے ان 
کے اس اعلان سے بڑھ گئی ہے کہ وہ توسیع لینے سے انکار کر دیں گے۔ اگر اس 
وقت ایک فرد کے اس انکار سے قوم کی نظروں میں ان کی عزت اور وقار بڑھ گئی 
تھی تو اب یہ کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ جب کوئی فرد مدت ملازمت میں توسیع 
قبول کر لیتا ہے تو ان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہو جائے گا۔ مسٹر یو ٹرن 
خان کے سوچنے کا طریقہ عجیب و غریب ہے۔عمران خان نے ایک اور یوٹرن لے لیا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کچلاک کی مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کچلاک کی مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت اور اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں پی پی پی چیئرمین نے دھماکے کے شہداء کے ورثاء سے ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ عبادت گاہوں میں دھماکے قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے مائنڈسیٹ کو کچلنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل ضروری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتہاپسند قوتیں بزدلانہ ہتھکنڈوں سے قوم کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتیں۔

ڪراچي (16 آگسٽ 2019) پاڪستان پيپلز پارٽي جي چيئرمين بلاول ڀٽو زرداري ڪچلاڪ جي مسجد ۾ ٿيل ڌماڪي جي سخت لفظن ۾ مذمت ۽ ان جي نتيجي ۾ انساني حياتين جي نقصان تي افسوس جو اظهار ڪيو آهي. پنهنجي بيان ۾ پي پي پي چيئرمين ڌماڪي ۾ شهيد ٿيلن جي وارثن سان همدردي ۽ ايڪي جو اظهار ڪيو ۽ چيو ته عبادتگاهن ۾ ڌماڪا انتهائي مذمت جوڳو عمل آهي. هن چيو ته انتهاپسندي جي مائينڊسيٽ کي چيڀاٽڻ لاءِ نيشنل ايڪشن پلان تي عمل ضروري آهي. بلاول ڀٽو زرداري چيو ته انتهاپسند قوتون بزدلاڻين حرڪتن ذريعي قوم جي حوصلي کي هارائي نه ٿيون سگهن.

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی اکثریتی مسلمان آبادی اپنے غیرمسلم پاکستانی بہائیوں و بہنوں کی حقیقی محافظ، 1973ع کا دستوران کے حقوق کی ٹھوس ضمانت اور پاکستان پیپلز پارٹی ان کی امنگوں کی واحد ترجمان و وکیل ہے۔

کراچی (10 اگست 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی اکثریتی مسلمان آبادی اپنے غیرمسلم پاکستانی بہائیوں و بہنوں کی حقیقی محافظ، 1973ع کا دستوران کے حقوق کی ٹھوس ضمانت اور پاکستان پیپلز پارٹی ان کی امنگوں کی واحد ترجمان و وکیل ہے۔

اقلیتوں کے قومی دن کے موقعے پر جاری کردہ اپنے بیان میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سفید رنگ کے بغیر پاکستان کا وہ سبز ہلالی پرچم مکمل نہیں ہوسکتا، جس کی توثیق بابائے قوم محمد علی جناح نے کی تھی۔ یہ پرچم ہمارے اعلیٰ معاشرتی اقدار، انسانیت پرور نظریاتی بنیاد اور قومی اتحاد کا اعلامیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اقلیتی برادری کے حقوق و ترقی کو ہمیشہ ایک قومی فریضہ گردانتے ہوئے امتیازی برتاوَ کے خاتمے و قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی خاطر قانونساز و حکومتی اداروں میں ان کی بھرپور نمائندگی اور یکساں مواقع کو یقینی بنانے کے لیئے اقدامات اٹھائے ہیں۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہ فقط ہماری جماعت کا طرہ امتیاز ہے کہ سینیٹ سے لے کر صوبائی اسیمبلیوں تک اقلیتی رہنماوَں کو جنرل نشستوں پر منتخب ہونے اور انہیں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیئے میدان میسر کیا ہے۔ یہ بھی پوری قوم کے لیئے قابلِ فخر ہے کہ پسماندہ طبقات کا پسمنظر رکھنے والی مذکورہ قیادت کی اکثریت پُراعتماد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو قومی ہم آہنگی و ترقی کی جدوجہد میں اب علمبرداری کا کردار نبھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف شہید ذوالفقار علی بھٹو نے متفقہ آئین کے ذریعے سرزمین پاک سے وہ تمام امتیازی لکیریں مٹادیں، جو نفاق و خلفشار کا سبب بن سکتی تھیں، تو دوسری طرف شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دورِ وزارتِ اعظمیٰ کے دوران وزارتِ برائے اقلیتی امور قائم کرکے غیرمسلم شہریوں کو درپیش مسائل کے جلد حل اور پیشرفت کے لیئے نئے دروازے کھول دیئے۔ صدر آصف علی زرداری کی زیرِقیادت عوامی حکومت نے ہر سال 11 اگست کو اقلیتوں کا قومی دن منانے کا فیصلہ کر کے قائداعظم کے اعلان کردہ اقلیتوں کے لیئے مساوی حقوق کو چوری ہونے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے محفوظ کردیا۔ اس پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی پی پی ملک کی وہ واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف اقلیت سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ دیے جس میں دو سینیٹرز، ایک ایم این اے، دو ایم پی ایز جبکہ چئیرمین و وائس چئیرمین اور ٹاون کمیٹیوں میں بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والے منتخب کارکنان کی تعداد درجن کے قریب ہے-

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی اقلیتی آبادی کی فلاح و بھبود کے لیئے اٹھائے گئے مذکورہ بالا چند و دیگر بیشمار اقدامات کے نتیجے میں “بانٹو، لڑاوَ اور راج کرو” کی دقیانوس سوچ کی پیروی کرنے والے دائیں بازو و اسٹیٹسکو کے حامی عناصر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی اور کی قیادت کے خلاف جاری انتقامی جنگ کو سمجھنا راکٹ سائنس نہیں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غیرمسلم پاکستانی شہریوں کے یکساں حقوق کی حفاظت کی لڑائی درحقیقت قائداعظم کے ںطریات کے مطابق مساوات پر قائم جمہوری پاکستان بنانے کی جدوجہد کا اہم جُز ہے اور کوئی بھی ذی شعور پاکستانی اس جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کا تصور ہی نہیں کرسکتا۔ لحاظہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس اس جدوجہد کو بارآور کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔