پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پولی کلینک ہسپتال میں 
محترمہ فریال تالپور کی عیادت کی ۔ بی بی بختاور بھٹو زرداری اور بی بی 
آصفہ بھٹو زرداری بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے 
ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے محترمہ فریال تالپور کی صحت پر تشویش کا اظہار 
کرتے ہوئے کہا کہ کل اچانک ان کی طبیعت خراب ہوئی تو نیب آفس نے انہیں 
ہسپتال منتقل کیا۔ آج ان کا ریمانڈ پورا ہو رہا تھا تو انہیں عدالت میں پیش 
کرنے کی بجائے جیل بھیجنے کی درخواست کی عموماً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اس کی 
کوئی مثال نہیں ملتی مگر اب سب ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ فریال 
تالپور بیمار ہیں۔ ڈاکٹر کسی بھی شہری کو اس حالت میں ہسپتال سے منتقلی کی 
اجازت نہیں دیتے مگر نیب اہلکار اس بات پر بضد ہیں کہ وہ محترمہ فریال 
تالپور کو بستر سے اٹھا کر جیل لے جائیں گے۔ وہ ڈاکٹروں کی بھی بات سننے کے 
لئے تیار نہیں ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس میں غیرت نہ ہو 
وہ بزرگوں اور خواتین کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی پہلے بھی انتقامی 
کارروائیوں کا مقابلہ کرتی رہی ہے اور آج بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 
ہم پریشر میں نہیں آئیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک مشترکہ پیغام 
جانا چاہیے تھا مگر انا اور ضد سے مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلاول 
بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ انہیں سلیکٹڈ نہ کہا جائے میں انہیں 
سلیکٹڈ نہ کہوں تو کیا کہوں، بے غیرت نہ کہوں تو کیا کہوں، منافق نہ کہوں 
تو کیا کہوں؟ آپ ظلم کرتے ہیں ہم ظلم سہتے رہے ہیں گے مگر آپ ہماری زبان 
بند نہیں کر سکتے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تاریخ تمہارے کردار 
کو ضرور یاد رکھے گی کہ یہ وہ وزیراعظم ہے جس نے کشمیرکا سودا کیا تھا۔ اس 
موقع پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ، سید نیر حسین بخاری، سینیٹر مصطفی 
نواز کھوکھر اور چوہدری منظور بھی موجود تھے۔

--