کراچی (10 اگست 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی اکثریتی مسلمان آبادی اپنے غیرمسلم پاکستانی بہائیوں و بہنوں کی حقیقی محافظ، 1973ع کا دستوران کے حقوق کی ٹھوس ضمانت اور پاکستان پیپلز پارٹی ان کی امنگوں کی واحد ترجمان و وکیل ہے۔

اقلیتوں کے قومی دن کے موقعے پر جاری کردہ اپنے بیان میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سفید رنگ کے بغیر پاکستان کا وہ سبز ہلالی پرچم مکمل نہیں ہوسکتا، جس کی توثیق بابائے قوم محمد علی جناح نے کی تھی۔ یہ پرچم ہمارے اعلیٰ معاشرتی اقدار، انسانیت پرور نظریاتی بنیاد اور قومی اتحاد کا اعلامیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اقلیتی برادری کے حقوق و ترقی کو ہمیشہ ایک قومی فریضہ گردانتے ہوئے امتیازی برتاوَ کے خاتمے و قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی خاطر قانونساز و حکومتی اداروں میں ان کی بھرپور نمائندگی اور یکساں مواقع کو یقینی بنانے کے لیئے اقدامات اٹھائے ہیں۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہ فقط ہماری جماعت کا طرہ امتیاز ہے کہ سینیٹ سے لے کر صوبائی اسیمبلیوں تک اقلیتی رہنماوَں کو جنرل نشستوں پر منتخب ہونے اور انہیں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیئے میدان میسر کیا ہے۔ یہ بھی پوری قوم کے لیئے قابلِ فخر ہے کہ پسماندہ طبقات کا پسمنظر رکھنے والی مذکورہ قیادت کی اکثریت پُراعتماد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو قومی ہم آہنگی و ترقی کی جدوجہد میں اب علمبرداری کا کردار نبھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف شہید ذوالفقار علی بھٹو نے متفقہ آئین کے ذریعے سرزمین پاک سے وہ تمام امتیازی لکیریں مٹادیں، جو نفاق و خلفشار کا سبب بن سکتی تھیں، تو دوسری طرف شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دورِ وزارتِ اعظمیٰ کے دوران وزارتِ برائے اقلیتی امور قائم کرکے غیرمسلم شہریوں کو درپیش مسائل کے جلد حل اور پیشرفت کے لیئے نئے دروازے کھول دیئے۔ صدر آصف علی زرداری کی زیرِقیادت عوامی حکومت نے ہر سال 11 اگست کو اقلیتوں کا قومی دن منانے کا فیصلہ کر کے قائداعظم کے اعلان کردہ اقلیتوں کے لیئے مساوی حقوق کو چوری ہونے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے محفوظ کردیا۔ اس پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی پی پی ملک کی وہ واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف اقلیت سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ دیے جس میں دو سینیٹرز، ایک ایم این اے، دو ایم پی ایز جبکہ چئیرمین و وائس چئیرمین اور ٹاون کمیٹیوں میں بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والے منتخب کارکنان کی تعداد درجن کے قریب ہے-

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی اقلیتی آبادی کی فلاح و بھبود کے لیئے اٹھائے گئے مذکورہ بالا چند و دیگر بیشمار اقدامات کے نتیجے میں “بانٹو، لڑاوَ اور راج کرو” کی دقیانوس سوچ کی پیروی کرنے والے دائیں بازو و اسٹیٹسکو کے حامی عناصر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی اور کی قیادت کے خلاف جاری انتقامی جنگ کو سمجھنا راکٹ سائنس نہیں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غیرمسلم پاکستانی شہریوں کے یکساں حقوق کی حفاظت کی لڑائی درحقیقت قائداعظم کے ںطریات کے مطابق مساوات پر قائم جمہوری پاکستان بنانے کی جدوجہد کا اہم جُز ہے اور کوئی بھی ذی شعور پاکستانی اس جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کا تصور ہی نہیں کرسکتا۔ لحاظہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس اس جدوجہد کو بارآور کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔