سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ 
توسیع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس توسیع سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں 
ہوگا بلکہ اس سے بہت سارے اعلیٰ فوجی افسران کے کیرئیر پر اثر پڑے گا اور 
نتیجے کے طور پر ان کا مورال متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فوج ایک مضبوط 
ادارہ ہے اور مضبوط ادارے کسی ایک شخصیت پر انحصار نہیں کرتے چاہے وہ شخصیت 
کتنی بھی قابل اور بہترین ہو۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ اداروں کی کمزوری 
شخصیت پرستی میں ہوتی ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا جس پر ہمیشہ کے لئے 
انحصار کیا جائے۔ یہ فوج کے لئے اچھا پیغام نہیں ہے کہ فوج ایک یا دو افراد 
پر انحصار کر رہی ہے۔ جب سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے اپنی 
ریٹائرمنٹ سے دس ماہ قبل ہی یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی مدت ملازمت میں 
توسیع کی گئی تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ اس وقت عمران نے 25جنوری 
2016ءکو یہ ٹویٹ کیا تھا کہ جنرل راحیل شریف کی عزت و وقار قوم کے سامنے ان 
کے اس اعلان سے بڑھ گئی ہے کہ وہ توسیع لینے سے انکار کر دیں گے۔ اگر اس 
وقت ایک فرد کے اس انکار سے قوم کی نظروں میں ان کی عزت اور وقار بڑھ گئی 
تھی تو اب یہ کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ جب کوئی فرد مدت ملازمت میں توسیع 
قبول کر لیتا ہے تو ان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہو جائے گا۔ مسٹر یو ٹرن 
خان کے سوچنے کا طریقہ عجیب و غریب ہے۔عمران خان نے ایک اور یوٹرن لے لیا ہے۔