کراچی (23 اگست 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نواب یوسف تالپور اور رفیق احمد جمالی نے قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل سمیت قومی اسمبلی کی تمام اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاس بلانے کی اجازت نہ دیئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیاں اسمبلی کی آنکھ اور کان ہوتی ہیں، اگر ان کو چلنے نہیں دینا تو پھر اسپیکر کو چاہیئے کہ وہ تمام کمیٹیاں تحلیل کردے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواب یوسف تالپور نے کہا کہ انہوں نے بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل سندھ و پنجاب کے درمیان پانی کے معاملے پر موجود اختلافات اور بھارت کی جانب سے پیشگی اطلاعات کے بغیر ہی سیلابی پانی کو پاکستان میں چھوڑنے جیسے معاملات کو دیکھنے کے لیئے تین بار کمیٹی اجلاس بلائے، لیکن اجلاس منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اسپیکر کو اس ضمن میں ٹیلیفون بھی کیا لیکن تاحال اجازت نہیں دی گئی۔ اگر اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو چلنے نہیں دیا جائیگا تو اسمبلی کس طرح کام کرسکے گی۔ نواب یوسف تالپور نے کہا کہ سندھ کے ساتھ پانی کے معاملے پر بہت بڑی ناانصافی ہو رہی ہے، جس کا اعتراف وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واڈا بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ سندھ کے نمائندے کو ارسا کے اجلاس میں بات کرنے ہی نہیں دی جاتی۔ نواب یوسف تالپور نے کہا کہ انہیں ارسا میں سندھ کے نمائندے مظھر علی شاہ نے بتایا کے اجلاس کے دوران انہیں بولنے نہیں دیا گیا اور گالیاں دی گئیں۔ پی پی پی رکنِ قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر اسمبلی کے فورم پر معاملات کو اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو ان کے پاس عوام کے پاس جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچے گا، جبکہ اس وقت پیپلز پارٹی ملک کے اندرونی و بیرونی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے، دل پر پتھر رکھ کر خاموش ہے۔ پی پی پی ایم این اے و چیئرمین گورکھ ہلز ڈولپمینٹ اتھارٹی رفیق احمد جمالی نے کہا کہ گورکھ ہِل پر سیاحت کو فروغ دینے کے لیئے تاحال وفاقی حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ اس وقت تک جتنی بھی فنڈنگ کی ہے وہ حکومتِ سندھ نے اپنے محدود وسائل سے کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورکھ ہل کا علاقہ دشوار گذار ہے، جس کی ترقی پر بہت زیادہ فنڈنگ کی ضرورت ہے اور وفاق کی جانب سے عدم دلچسپی کی وجہ سے وہاں ترقیاتی عمل سست روی کا شکار ہے