سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی 
زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں میڈیا کو مطلع کیا 
ہے کہ ان کے والد صدر زرداری کو ہسپتال سے ایک مرتبہ پھر جیل بھیج دیا گیا 
ہے۔ آنسہ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ جمعہ کی صبح وہ اپنے والد سے ملنے پمز 
ہسپتال گئیں تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ صدر زرداری کو دوبارہ جیل بھیجنے 
کے لئے ان پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے حالانکہ ان کی طبیعت انتہائی خراب ہے اور 
انہیں ہسپتال میں رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مزید ٹیسٹ اور علاج کروا 
سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر کے دو مرتبہ میڈیکل ٹیسٹ کروائے گئے تھے 
ایک مرتبہ نیب کی جانب سے اور دوسری مرتبہ عدالتی حکام کی جانب سے اور 
دونوں مرتبہ یہ ظاہر ہوا کہ صدر زرداری کو فوری طبی سہولتوں اور علاج کی 
ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے دل کی تین شریانے بلاک ہو چکی 
ہیں اور انہیں اسپائن میں سخت تکلیف ہے جو انہیں گیارہ سال غیرقانونی طور 
پر قید میں رکھنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ آصف علی زرداری کو دیگر 
بیماریاں بھی لاحق ہیں اور انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ آنسہ آصفہ 
بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کا خاندان اور پاکستان پیپلزپارٹی یہ مطالبہ کرتی 
ہے کہ صدر زرداری کو فوری طور پر دوبارہ منتقل کیا جائے تاکہ وہ اپنا علاج 
کروا سکیں۔ یہ ان کا پاکستان کے ایک شہری کی حیثیت سے بھی حق ہے اور بحیثیت 
سابق صدر پاکستان، ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی بھی ان 
کا حق ہے۔ ان کے حقوق کو جھٹلانا انسانی حقوق کو جھٹلانا ہے اور اس کے ساتھ 
انصاف کو جھٹلانا بھی ہے۔ یہ سیاسی انتقام ہے وہ پاکستان کے واحد ایسے صدر 
ہیں جو عدالتوں سے بھاگ رہے ہیں اور نہ ہی ملک سے بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے 
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کا اعادہ کرتے 
ہوئے کہا کہ اس سلیکٹڈ حکومت کی نیت صاف ظاہر ہے کہ وہ صدر زرداری کی زندگی 
کو خطرے میں ڈالنا چاہتی ہے تاکہ اپنا ایجنڈا پورا کر سکے۔ انہوں نے متنبہ 
کیا کہ اگر صدر زرداری کو کچھ ہوا تو ان کا خاندان اور پارٹی اس سلیکٹڈ 
حکومت کو ذمہ دار ٹھہرائے گی اور اس کا احتساب کرے گی۔ سابق وزیراعظم راجہ 
پرویز اشرف نے کہا کہ حکومتی ڈاکٹروں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ صدر زرداری کو 
علاج کے لئے ہسپتال میں رکھا جائے لیکن حکومت صدر زرداری کو صحت کی سہولتیں 
مہیا نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر زرداری کو فوری طور پر 
ہسپتال منتقل کیا جائے۔ سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس روز جس دن 
سلیکٹڈ وزیراعظم جس نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے لوگوں سے کشمیر میں انسانی 
حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کرنے کے لئے کہہ رہا تھا اس دن وہ خود سابق 
صدر کے انسانی حقوق کی خلاف وزریاں کر رہا تھا۔ انہوں نے سلیکٹڈ وزیراعظم 
کو متنبہ کیا کہ وہ اتنا ہی ظلم کریں جتنا ان میں برداشت کرنے کی سکت ہے۔ 
سینیٹر شیری رحمن نے اس حکومت کو یزید کا دربار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر 
سلیکٹڈ حکومت اپنا انداز نہیں بدلتی تو اس کے شدید مضمرات ہوں گے اور اسے 
پاکستان پیپلزپارٹی کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔